Irritating روئیے🥀
کچھ چیزیں معاشرے میں اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ ہم ان کی قباحت بھول چکے ہیں اور اسے فرض سمجھ کر رہے ہیں چاہے گناہ ہے، حقوق العباد متاثر ہو رہے ہیں، سامنے والے کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے یاں آنکھیں بھیگ رہی ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ ہم تو دوسروں کے بڑے خیرخواہ ہیں، ہمیں لگتا ہے جب تک ہم دوسروں کو نہیں بتائیں گے کہ ان کی زندگی، گھر اور شخصیتوں میں کیا کیاں کمیاں ہیں انہیں تو پتہ ہی نہیں چلے گا۔
خدارا ہمدردی کے نام پر دوسروں کو تکلیف دینا بند کر دیں۔
ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی زندگی میں کیا کمی ہے، بھری مجلس میں کسی کی کمزوری کو ہائی لائٹ کرنا اور پھر اس کا بار بار تذکرہ کرنا اصلاح نہیں ہے۔
اللہ کے مومن بندوں کا یہ رویہ نہیں ہوتا یہ شیطانی طرزعمل ہے۔
میرا آپ سب سے ایک سوال ہے۔
انسان کی تخلیق کس چیز سے کی گئی؟
آپ کہیں گے مٹی سے۔
میں پوچھوں گی کیا صرف مٹی سے؟
نہیں۔ مٹی ایک ایلیمنٹ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں:
سورة ص - آیت 71
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ `إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ`
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں تھوڑی سی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔
سورة ص - آیت 72
فَإِذَا `سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي` فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ
ترجمہ:
تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔
ان دونوں آیات کو ملا کر دیکھیں جب اللہ سبحانہ وتعالی نے فرشتوں سے یہ نہیں کہا جب میں مٹی سے انسان کو بنا دوں تو اسے سجدہ کرنا بلکہ کہا جب میں اس کا تسویہ(یعنی اسے درست کر کے مکمل شکل میں انسان بنا دوں) کر دوں اور پھر اس میں روح پھونک دوں تو پھر اسے سجدہ کرنا۔
انسان کی تخلیق تسویہ اور روح کے بغیر نامکمل ہے، ایک مردہ جسم کا تصور کر لیں خود ہی آپ سمجھ جائیں گے۔
تو پھر انسان کی تخلیق کتنے مرحلوں ہوئی۔ تین مرحلوں میں۔
انسان تین چیزوں کا مجموعہ ہے مٹی، تسویہ اور روح۔
اب نیچے والی آیت دیکھیں جب شیطان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے کیا کہا۔
سورة الإسراء - آیت 61
`وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا`
ترجمہ:
” اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا۔“
شیطان نے صرف مٹی کا ذکر کیا کیونکہ اس کے نزدیک مٹی سب سے حقیر چیز تھی، انسان کی کمزوری کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے اس نے صرف مٹی کا نام لیا حالانکہ انسان صرف مٹی کا مجموعہ نہیں ہے۔
بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا ہو اور ہمیں بھری محفل میں بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں اوں ہوں یہ رنگ تو تم پر بالکل سوٹ نہیں کر رہا، یہ سوٹ تو تم نے فلاں ایونٹ پر بھی پہنا تھا نا اور اگر ایسا کوئی کمزور پہلو نہ ملے تو اس کی شخصیت کی کسی خامی، جسمانی عیب یاں قدرت کی طرف سے رکھی کمی کا تذکرہ کرکے خوشی سے چمکتے چہرے کو تاریک کر کے سکون محسوس کرتے ہیں۔پریکٹیکل لائف میں میں نے یہ چیز بہت زیادہ آبزرو کی ہے۔ ہم سب انسان ایک دوسرے کی خامیاں ڈھونڈنے اور پھر انہیں نشر کرنے میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ہم نے دوسروں کی خوبیوں کی طرف نظر رکھنا چھوڑ دیا ہے۔
عموما ایسا کرنے والے بھی ہمارے قریبی رشتہ دار، دوست یاں فیملی کے لوگ ہوتے ہیں۔
~مجھے حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں پر جنہیں دوسروں پر طنز، تمسخر اور طعن وتشنع کرتے ہوئے سامنے والے کے چہرے پر کندہ تکلیف اور تھکن بھی نظر نہیں آتی۔
~مجھے ترس آتا ہے ایسے لوگوں پر جو اپنے اندر کے احساس کمتری دوسروں کی کمزوریوں کو ہتھیار بنا کر کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں
~مجھے تکلیف ہوتی ہے جب یہ نیگیٹو لوگ اپنی نیگیٹویٹی بڑی آسانی سے دوسروں تک ٹرانسفر کر دیتے ہیں اور اس کے نقصانات پر ذرا برابر بھی توجہ نہیں دیتے۔
~اور سب سے بڑی تکلیف تب ہوتی ہے
جب دوسروں کی نیگیٹویٹی ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہے
اور ہم ان سے دور نہیں جا سکتے، ہم انہیں بتا نہیں سکتے، خاموش نہیں کروا سکتے اور خود کو بہلا بھی نہیں سکتے۔
یہ تب ہوتا ہے جب ان کی نیگیٹویٹی پر ہم یقین کر لیتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا تھا۔
~آپ کیا ہیں یہ کوئی کیوں آ کر آپ کو بتائے، آپ میں کیا کمی ہے کوئی اور کیوں آ کر آپ کو جتائے آپ کو خود پتہ ہونا چاہئے۔
`آپ کو اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے، آپ کی زندگی کو آپ کے رب نے ڈیزائن کیا ہے جو آپ کے پاس ہے وہ بہترین ہے اور جو نہیں ہے اس میں رب کی حکمت پوشیدہ ہے۔`
ٹاپک بہت لمبا ہے جتنی بھی بات کی جائے کم ہے، مگر صرف اتنا ہی کہوں گی۔
*~خود کو دوسروں کے آئینے سے دیکھنا بند کریں، کوئی نیچا دکھانا چاہے، آپ کو کمزور کرنا چاہے تو بجائے بحث اور مقابلے کے خود کو اور مضبوط کریں اور ہر پل یہ یقین رکھیں کہ آپ دنیا کے بہترین انسان ہیں کیونکہ آپ انسان ہے دوسروں کی نیگیٹویٹی آپ کی اچھائی پر غالب نہیں آنی چاہیے*
