Showing posts with label ZarThoughts. Show all posts
Showing posts with label ZarThoughts. Show all posts

Sunday, December 14, 2025

آپ کے ناموں کی اہمیت


اللہ سبحانہ وتعالی نے کتنی خوبصورت نعمت عطا کی ہے نا کہ ہم ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہیں، ایک منٹ کے لیے سوچیں اگر ہمارے نام نہ ہوتے تو ہم ایک دوسرے کو کیسے مخاطب کرتے؟

شکلوں کے زاویوں سے، اپنے ہی ضابطوں سے یاں عادتوں اور عملوں کی بنیاد پر۔

ہر صورت میں کچھ انسان تکلیف اٹھاتے کیونکہ کچھ انسان دوسروں کی کمزوریوں کو اچھال کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اور اگر مخاطب کرنے کا کوئی بھی ذریعہ نہ ہوتا تو کمیونیکیشن کس قدر مشکل ہوتی ہم نہیں سوچتے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں اس مشکل میں ڈالا ہی نہیں ہمیں سیکھایا کہ اپنے بچوں کے خوبصورت نام رکھ لو جن سے انہیں مخاطب کیا کرو۔


چلیں آج سب مل کر زندگی میں پہلی بار اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں۔

آپ نے ہمیں اس قدر خوبصورت نام سے نوازا شکریہ پیارے اللہ

آپ نے ہمیں اس نعمت کے ادراک سے نوازا شکر الحمدللہ یارب

لیکن کیا ہم اس نعمت کا درست استعمال کرتے ہیں؟

اس نعمت کا درست استعمال کیا ہے؟

بہترین نام رکھنا وہ نام جو قرآن اور سنت سے ثابت ہوں، جن کا معنی درست ہو اور پھر ان ناموں کی تکریم کی جائے انہیں بگاڑا نہ جائے۔

محبت سے نام کو مختصر کرنا اور بات ہے یہ سنت سے ثابت ہے ایسا کیا جا سکتا ہے مگر ناموں کو بگاڑ کر مسخ کر دینا بالکل بھی درست نہیں۔

ایک چھوٹی سی بات اگر آپ عمل کر سکیں۔

ایسے نام رکھیں جنہیں بول اور سن کر اللہ کی یاد آئے، قرآن کی کوئی آیت یاد آئے، کسی نبی، صحابی رسول یاں صالحین کی یاد تازہ ہو۔

یہ آئیڈیا مجھے کہاں سے آیا؟

ابھی کچھ دن پہلے بھتیجے صاحب پھپھو سے ملنے آئے، وہ کھڑے تھے، میں نے آواز دی یوسف ایھا الصدیق (سورہ یوسف کی آیت)۔

مجھے ایک لمحے کو حیرانی سی ہوئی یہ کیا ہوا، پھر میرے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور ساتھ ہی دل نے شکر کیا اس نئی سیکھ پر اور زبان سے میں نے کہا قرآن میں موجود نام رکھنا کس قدر خوبصورت ہے نا۔

مجھے یحیی علیہ السلام یاد آئے جن کا نام اللہ سبحانہ وتعالی نے رکھا تھا، مجھے ابراہیم علیہ السّلام یاد آئے ان کی قربانیوں کی بیچ کہیں ان کے صبر کا ثمر اسماعیل علیہ السّلام تک جا پہنچی۔

اپنے خیالات کی ٹرین کو روک کر میں آپ کی طرف بڑھ آئی ہوں۔

کیونکہ اب ماڈرنزم کے نام پر بےمعنی اور بےتکے نام رکھنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے مزید برآں ہم گوگل سے معنی پڑھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں معنی بھی درست ہے اور نام بھی بڑا یونیک ہے، اور شریعت سے راہنمائی لینے کی تو ہم ویسے ہی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کوشش کریں نام رکھنے سے پہلے سنت سے راہنمائی لیں، میں یہ نہیں کہتی نام شخصیت بناتے ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گی ان کا کہیں نا کہیں ہماری شخصیت پر اثر ضرور پڑتا ہے۔

اس لیے صالح اولاد کے صالح نام رکھیں۔

اللہ سبحانہ وتعالی آپ کو صالح اولاد سے نوازے آمین

قرآن کریم کی سورت کا تعارف






قرآن کریم کی سورت کا تعارف

 *سورت نمبر: 45* 

 *سورۃ جاثیه* 

تعارف

اس سورت میں بنیادی طور پر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی اتنی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایک انسان اگر معقولیت کے ساتھ اُن پر غور کرے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کائنات کے خالق کو اپنی خدائی کے انتظام میں کسی شریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اُس کی عبادت کرنا سراسر بے بنیاد بات ہے۔ دوسرے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ آپ کو شریعت کے کچھ ایسے احکام دیئے گئے ہیں جو پچھلی امتوں کو دیئے ہوئے احکام سے کسی قدر مختلف ہیں۔ چونکہ یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اس لئے اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ تیسرے اس سورت میں قیامت کے ہولناک مناظر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں آیت نمبر ۲۸ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ ڈر کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے ۔ ” جاثیه عربی زبان میں اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو گھٹنے کے بل بیٹھے ہوں۔ اسی لفظ کو سورت کا نام بنادیا گیا ہے۔

Sunday, February 9, 2025

ZarThoughts Surha Naba Verse 09



رب سے جڑنے کا سفر

 *ZarThoughts International Islamic Online Learning Institite 

Assalamu alaikum,* Everyone!

Today, we're going to explore a beautiful verse from the Quran.

*Allah says, "* 

*Verse:* "وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتاً"

(And We have made your sleep as a thing for rest.)

Now, let's think about this verse in a deeper way. What does it mean to say that sleep is a gift from Allah?

Does it mean that we should be grateful for sleep?Is it about sleep?

That's correct! This verse is talking about sleep. But it's not just about sleep; it's about the purpose of sleep.

The word "سباتاً" (subatan) means (rest). It implies a state of tranquility where the body and mind are able to relax.

Exactly! We should be grateful for the blessing of sleep. Just think about it - without sleep, we wouldn't be able to function properly. We wouldn't be able to focus, learn, or even take care of our daily tasks.

Sleep is a gift from Allah to help us relax.It's a time for our bodies to repair and refresh themselves.You see, Allah has designed sleep as a way for our bodies to  recharge. 

That makes sense. I feel so tired after a long day, and sleep really helps me feel better.

Exactly! And that's what Allah is reminding us in this verse. He's telling us that sleep is a gift, a blessing from Him to help us cope with the challenges of life.

sleep is a mercy from Allah that allows us to come back stronger and more refreshed, ready to face the challenges of the next day.

Allah is reminding us to appreciate the simple things in life, like sleep, and to recognize His kindness and wisdom in creating something so essential for our well-being.

Allah has designed sleep as a natural mechanism to help us recover from the physical and mental exhaustion of the day. During sleep, our bodies repair and regenerate tissues, build bone and muscle, and strengthen our immune systems.

What about when we have trouble sleeping? What can we do then?

Ah, that's a great question! When we have trouble sleeping, it can be frustrating and affect our daily lives. In that case, we can try to establish a relaxing bedtime routine, avoid screens before bedtime, and even recite some Quranic verses or prayers to help us relax.

**Now Discuss* 

*The Purpose of Sleep*

Sleep is not just a physical necessity, but also a spiritual one. Allah has designed sleep as a way for our bodies to rest and recharge, 

*The Benefits of Sleep*

Sleep has numerous benefits for our physical and mental health. During sleep, our bodies repair and regenerate tissues, build bone and muscle, and strengthen our immune systems. Sleep also helps us to process and consolidate memories, and to regulate our emotions.

*Establishing a Healthy Sleep Routine*

So, how can we make the most of this gift of sleep? First, we need to establish a healthy sleep routine. This means going to bed and waking up at the same time every day, including weekends. It also means creating a sleep-conducive environment, such as keeping the bedroom cool, dark, and quiet.

*Avoiding Sleep Disturbances*

 We should also avoid things that can disturb our sleep, such as  electronic screens before bedtime. We should also try to avoid stimulating activities before bedtime, such as exercise or watching exciting movies.

*Reciting Quranic Verses Before Sleep*

Another way to make the most of our sleep is to recite Quranic verses before bedtime. This can help us to relax and to prepare our minds and hearts for sleep. Some recommended verses include Surah Al-Fatihah, Surah Al-Ikhlas, and Surah Al-Mu'minoon.Making Du'a Before Sleep* Finally, we should make du'a before sleep, asking Allah to protect us from harm and to grant us a restful sleep. We can say a simple du'a, such as (O Allah, I ask You for the best of this life and the best of the Hereafter).

By following these tips and making sleep a priority, we can make the most of this gift from Allah and wake up feeling refreshed, and ready to take on the day.

So, let's all take a moment to appreciate the gift of sleep. Let's make sure to get enough rest and take care of our bodies, so we can be strong and healthy to serve Allah and our communities.

Sunday, January 12, 2025

ZarThoughts

Zarthoughts International Islamic Online Learning Institute 

 *پورے علم و حکمت والا تو ہی ہے۔۔۔*

اللہ تعالیٰ پورے علم اور حکمت والا ہے ۔۔ ہے نا؟  کبھی محسوس کیا ہے اسے؟ اسکے علم کو ؟ اسکے علم میں چھپی حکمتوں کو؟ 

چلیں ہم اب جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس علم و حکمت والی ذات کو کیسے محسوس کیا جائے۔۔۔

کیا آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہو جو آپ چاہتے نہیں تھے کہ آپکے ساتھ ہو؟  آپ کچھ اور چاہتے تھے۔ لیکن کچھ اور ہو گیا۔ جو آپ چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا تھا۔ اور جو آپ نہیں چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا نہیں تھا۔۔

ایسا ہی تھا نا؟ یا ایسا ہی ہے نا؟؟

ہر ایک ساتھ ایسا ہوتا ہے۔  جب بھی کوئی کام یا کوئی بات ہماری چاہ کے مطابق نہ ہو تو ہم اسے اپنے لیے برا سمجھ لیتے ہیں۔ پتا ہے کیوں؟ کیوں  کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ہم اللہ کے "علیم" ہونے اور "حکیم" ہونے کو بھلا دیتے ہیں۔ 

ہم بھول جاتے ہیں اللہ کو زیادہ پتا ہے کہ یہ کام ہمارے لیے بہتر ہے۔۔اسکا علم حکمتوں سے بھرا ہے۔ ہماری بہتری کی حکمتوں سے۔۔ جس میں  ہمارے لیے بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ 

یاد کریں! سوچیں جو آپکے ساتھ ہو چکا ۔ کچھ ایسا جو آپ نہ چاہتے ہوں۔  مثال کے طور پر دھوکہ ہی لگا لیں۔   آپکو کسی نے دھوکہ دیا۔ اب یہ آپکے نظریے اور علم کے مطابق آپکے برا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے مطابق یہی آپکے ٹھیک تھا۔لیکن کیسے؟ کیونکہ اگر آپکو دھوکہ نہ ملتا تو آپ بدلتے ہی نہ۔۔ آپ یونہی ہر ایک پر اندھا اعتماد کر کے اپنا کوئی بڑا نقصان کروا بیٹھتے۔ 

آپ کو اس دھوکے کی وجہ سے لوگوں کی پہچان کرنا آگئی ۔ آپ نے لوگوں کو پرکھنا سیکھ لیا۔ ورنہ ہر کوئی آپکو استعمال کرتا رہتا۔ اس لیے یہ دھوکہ آپکے لیے ضروری تھا۔ آپکو بہتر بنانے کیلئے ۔۔ اور اچھا بنانے کیلئے ۔ آپکو نکھارنے کیلئے ۔ 

اب آپ پہلے سے ایک بہتر انسان ہیں ۔

لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم صرف اس دھوکہ کے برے اثر کو دیکھتے ہیں کہ ہاں بھئی میرا ساتھ برا ہو گیا۔۔ بھئی کیوں ہو گیا برا؟؟  اپنے اندر آئے بدلاو کو بھی تو دیکھے نا۔  جو سبق جو نصیحت آپکو ملی کیا وہ کسی سکول کالج سے مل سکتی تھی؟ بلکل نہیں۔ یہ نصیحتیں یہ بدلاو ایسے ہی آتے ہیں۔۔ یہ اللہ کے کام ہیں۔۔ہم ویسے سمجھتے ہی نہیں۔ بلکہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ 

اس لیے اگر آپکے ساتھ کچھ برا ہوت تو وہ اصل میں برا نہیں ہوتا بلکہ آپکو کسی بڑی مصیبت سے بچانے اور لڑنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔۔ 

آپکی ٹریننگ ہوتی ہے۔ مشکل حالات سے گزار کر۔۔ ان آزمائشوں کو اپنے لیے برا ہر گز نہ سمجھیں۔ یہ آپکی پرورش کر رہی ہیں۔  آپکو مضبوط بنا رہی ہیں۔ایک بڑے دن میں حساب کیلئے ۔۔ایسا خوفناک دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔۔۔ 

اس لیے اپنے کم علم کی بنا پر اللہ سے شکوہ نہ کریں۔ وہ زیادہ علم والا ہے۔اور وہی حکمت والا ہے۔ وہ بہتر جانتا کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔۔۔ہم نہیں جانتے۔ 

ہم تو پیدا ہونے سے پہلے اپنے ماں باپ کو بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کوم ہوں گے تو ہم زندگی کے باقی معاملات کو کیسے جان سکتے ہیں؟ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چیز ہمارے لیے ٹھیک نہیں؟ 

اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر یقین کرنا ، توکل کرنا شروع کریں۔ یقین کریں اس سے بڑھ کر آپکے فائدہ یا نقصان کی اور کسی کو فکر نہیں۔ ہمیں خود بھی نہیں۔۔۔۔۔

Friday, January 10, 2025

ZarThoughts

امت کی تاریخ سن کر انسان حیران ہوجاتاہے کہ مومن مرد اور مٶمن عورتیں علم کے ہنر پر مزئن اور خوبصورت ہوا کرتے تھے اور ان کی زندگی جہاد میں گزرتی تھی ۔ لیکن أج کے دن یہ نوجوان پھر ناچ گانے،ڈانس نے مصروف کٸے ھیں۔انہوں نے گزرے ہوۓ امت کے شہسواروں کو بھولا دیا۔امت کے ان کمانڈروں اور شہسواروں کو بھولا دیا جن کے نام سن کر کفاااار پر رعب اور وحشت طاری ھوا کرتا تھا۔اسوقت کے شہسواروں کے بچے بچپن سے ہی گھڑ سواری ،نیزہ بازی اور تیراندازی سیکھتے تھے۔اسوقت مساجد میں جہاد کی فضیلت اور اہمیت بیان کی جاتی تھی ۔اسوقت کی ماٸیں اور بہنیں اپنے بیٹوں اور بھاٸیوں کی شھادت کی خبر سن کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج کے نوجوانوں میں مال بڑھانے کی فکر بڑھ چکی ہیں۔ حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہی ۔ آج کل معاشرے میں آن لاٸن کے نام پر بہت سے نوجوان طبقہ سود میں مبتلا ہےکوٸی جوا کھیل رھے ہیں تو کوٸی نازیبا اور فضول ویڈیوز کو نشر کرتے ہیں۔ نوجوانوں خدا را اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔

Tuesday, January 7, 2025

ایصال ثواب ZarThoughts

🌸ایصالِ ثواب🌸 🌸رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب انسان فوت ہوجاتا ہےتو *تین* اعمال کے سوا اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ ◀صدقہ جاریہ ◀وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے۔ ◀نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے 🌸صدقہ جاریہ🌸 صدقہ جاریہ سے مراد خیر و بھلائ کےان کاموں میں مال خرچ کرناہے جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ جیسے 🌸مسجد 🌸اسکول 🌸مدرسہ 🌸مسافر خانہ 🌸ہسپتال کی تعمیر 🌸کوئ مفید دوا بنانا 🌸پانی پلانے کا انتظام 🌸کنواں کھوانا 🌸سایہ دار یا پھل دار درخت لگوانا وغیرہ 🌸مسجد تعمیر کرنا🌸 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”جس نے اللہ کے لیے قطات (پرندے) کے گھونسلے جتنی یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائ تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر تیار کریں گے“ *سنن ابی ماجہ۔738* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اللہ کے لیے کوئ مسجد بناۓ گا تو اللہ تعالی اس کے لیے اسی طرح کا ایک گھر جنت میں بنادے گا“ *صحیح مسلم۔1189* 🌸پانی کا انتظام کرنا🌸 رسول اللہﷺ نے فرمایا: “جس نے کوئ کنواں کھدوایا پھر جو بھی پیاسا جاندار اس میں سے پانی پیے گا خواہ وہ جن ہو۔انسان ہو یا کوئ پرندہ تو قیامت تک اللہ تعالی اس شخص کو اجر دیتا رہے گا“ *صحیح الترغیب و الترھیب۔271* کنواں کھدوانے کے علاوہ دیگر طریقوں کے ذریعے پانی کا انتظام کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ مثلا ہینڈ پمپ اور الیکٹرک کولر لگانا 🌸درخت لگانا🌸 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس مسلمان نے کوئ درخت لگایا تو جو اس درخت سے کچھ کھا گیا وہ اسکے لیے صدقہ ہے۔جو اس میں سے چوری ہوگیا وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔جو درندوں نے کھا لیا وہ بھی اسکے لیے صدقہ ہے اور جو بھی اس میں کمی کرے گا مگروہ بھی اسکے لیے صدقہ ہوگا“ *صحیح مسلم۔3968* 🌸مسافروں کی ضروریات کا خیال رکھنا🌸 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال سر سبز و شیریں ہے اور مسلمان بہترین ساتھی ہے جب کہ اس میں سے مسکین۔یتیم اور مسافر کو دیا جاۓ“ *صحیح البخاری۔1465* 🌸نفع بخش علم🌸 🌸قرآن و حدیث کی تعلیم دینا۔ 🌸امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا۔ 🌸دین کی نشر و اشاعت کے دیگر کام جیسے مستند دینی کتب لکھنا۔درس و تدریس پر مشتمل کیسٹس اور سی ڈیز کی تیاری۔ 🌸مفید سائنسی ایجاد وغیرہ🌸۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بے شک اللہ۔اس کے فرشتے۔آسمانوں اور زمیں کی ہر چیز یہاں تک کہ اپنے بلوں میں موجود چیونٹیاں اور مچھلیاں لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والے کے لیے دعا کرتی ہیں۔“ *سنن الترمزی۔2685* 🌸نیک اولاد اولاد کی صحیح تربیت والاقیامت تک اس کی کمائ وصول کرتا رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بلاشبہ اللہ تعالی جنت میں نیک آدمی کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے: “اے میرے رب!یہ درجہ کیسے حاصل ہوا؟تو اللہ تعالی فرماتا ہے:تیری اولاد کی تیرے لیے دعاۓ مغفرت ہے“ *مسند احمد۔ج۔(10610-16)*

Monday, January 6, 2025

نفس انسانی کی تین حالتیں ZarThoughts

*🔮نفس انسانی کی تین حالتیں🔮* *1۔ نفس مطمئنہ۔* ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27) يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ *نفس مطمئنہ :* جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے *2۔ نفس لوّامہ* ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2) وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ *نفس لوامہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟ *3۔ نفس امّارہ۔* گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53) وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ *نفس امارہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے ۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ نفس کی الگ الگ تین قسمیں نہیں بلک ایک ہی نفس کی مختلف کیفیات وصفات ہیں۔ چنانچہ نفس امارہ ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت وغضب کے وقت عقل وشرع کے حکم پر غلبہ کرتا ہے۔ لوامہ ہونا بھی ہر نفس کی صفت ہے جس وقت وہ عقل وشرع کی طرف توجہ کرتا ہے اور خیر وشر کے درمیان فرق و پہچان کرتا ہے۔ اور مطمئنہ بھی ہر نفس کی صفت ہے مگر یہ صفت اور کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر کا نور بدن کے تمام اجزاء پر غالب ہوجاتا ہے *نفس امارہ :* قرآن کریم میں نفس کا لفظ تین مختلف معنوں میں آیا ہے، ایک تو یہاں نفس امارہ کے معنوں میں یعنی وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس کو حیوانیت کا نام دیتے ہیں کہ انسان کے اندر نفس امارہ ہے جو انسان کو جانوروں والی حیوانیت اور سفاکیت پر ابھارتا ہے۔

Sunday, January 5, 2025

ZarThoughts

`پرفتن دور میں مومن کیلئے پانچ ثابت قدمی کی راہیں` 1. تلاوت القرآن: {كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا} ترجمہ: "اسی طرح ہم نے اسے (قرآن کو) تیرے دل کو مضبوط کرنے کے لیے نازل کیا اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔" (سورۃ الفرقان: 32) 2. مطالعة سیرة النبویة: {وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ} ترجمہ: "اور ہم سب رسولوں کے واقعات آپ کو سناتے ہیں تاکہ اس سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔" (سورۃ ہود: 120) 3. عمل بالعلم: {وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا} ترجمہ: "اگر وہ وہی کرتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ ثابت قدمی کا باعث ہوتا۔" (سورۃ النساء: 66) 4. دعاء بالثبات: {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ} ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 8) 5. الصحبة الصالحة: {وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَاةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} ترجمہ: "اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ صبر سے رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار ہیں۔" (سورۃ الکہف: 28)

Friday, January 3, 2025

ZarThoughts Motivational Thoughts

*اپنے یقین کو مدھم نہ پڑنے دو، تم اللّٰه کو وہاں پاتے ہو جہاں سب چھوڑ جاتے ہیں۔ جب سب راستے بند ہو جائیں تو وہ اچانک آسانیاں بھیج دیتا ہے۔ جب راہیں تاریک ہوں تو کہیں سے جگنو امید تھامے آ ہی جاتا ہے۔ انسان کی سوچ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں سے وہ اچانک اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ پس تھام لو اسے اور تھامے رکھو۔ پھر دیکھو تمھارے حصے کی سحر طلوع ہو کر رہے گی۔* ان شاء اللّٰه 🌸

Thursday, January 2, 2025

لاپرواہی سے خبردار رہیں ??ZarThoughts?

*🔮لاپرواہی سے خبردار رہیں🔮* ✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے یا بیٹی کی بلند آواز آپ کے یا کسی بڑے شخص کے ساتھ بولنے پر خاموش رہنا، انہیں بد زبانی اور بے باکی سکھاتا ہے۔ ✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے یا بیٹی کے کسی بات یا نظر سے آپ یا کسی اور کا مذاق اُڑانے کو نظرانداز کرنا، انہیں دل کی سختی، بدتمیزی، اور بدسلوکی سکھاتا ہے۔ ✅ لاپرواہی... اپنے بچے کو آپ سے الگ تھلگ رہنے دینا اور ان کا حقیقی یا ورچوئل دنیا میں گم ہو جانا، انہیں ایک بے حس انسان بنا دیتا ہے، جس کے بارے میں آپ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ زندہ ہے۔ ✅ لاپرواہی... فرض عبادات چھوڑنے کی اجازت دینا، دل اور روح کو بہرا بنا دیتا ہے اور انہیں زندگی میں کوئی محفوظ پناہ گاہ یا معنی نہیں ملتا۔ ✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے کو کچھ ذمہ داریوں سے بھاگنے کی اجازت دینا، آہستہ آہستہ اس کی اصل مردانگی کو ختم کر دیتا ہے۔ ✅ لاپرواہی... اپنی بیٹی کو الفاظ، اعمال، اور لباس کے لحاظ سے حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت دینا، اسے عزت کے بجائے تحقیر کی نظروں کا شکار بناتا ہے۔ زیادہ مذاق اور غلط لوگوں سے تعلق رکھنے سے ایسے بیمار ذہن اور شریر افراد اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ✅ لاپرواہی... غلطیوں کو بار بار دہرانے کی اجازت دینا، انہیں عادت اور معمولی بنا دیتا ہے، کیونکہ جو سزا سے بے خوف ہو، وہ بدتمیز ہو جاتا ہے۔ ✅ زیادہ نرمی... اپنے بیٹے یا بیٹی کے ساتھ حد سے زیادہ لاڈ پیار کرنا، ان میں ناشکری، بے حسی، دل کی سختی، اور شوق کی کمی پیدا کرتا ہے۔ ✅ زیادہ سختی... ان کو ٹوٹ پھوٹ، محرومی، اور اپنے اوپر اور دوسروں پر اعتماد کھونے کا سبب بنتی ہے۔ یہ رویہ شدت پسند خیالات اور بعض اوقات خودکشی کی سوچ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ ✅ یاد رکھیں: والدین یا دوسروں کے ساتھ بچوں کا بدتمیزی کرنا کوئی جدید یا ترقی یافتہ تربیت نہیں، بلکہ یہ ایک لعنت، نفسیاتی غربت، اور فکری جہالت کی نشانی ہے۔ ✅ لاپرواہی... حلال و حرام کے درمیان فرق نہ کرنے کی اجازت دینا، شناخت کے کھو جانے، مذہب کے ستونوں کی بے حرمتی، اور گناہوں میں لذت محسوس کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اپنے بچوں کو ادب، پاکیزگی، اور احترام سکھائیں، باتوں میں، عمل میں، دل سے، لباس سے، اور رویے میں۔ ایسا نہ ہو کہ فاصلوں کو ختم کر کے وہ آپ کا مذاق اُڑانے لگیں یا تعلقات میں سرد مہری اور بے حسی غالب آ جائے، یہاں تک کہ بڑھاپے میں بھی ان کا ساتھ اور محبت کھو دیں۔ ✅ نہ تو اپنے بچے کو اتنا لاڈ پیار دیں کہ وہ بگڑ جائے۔ ✅ اور نہ ہی اتنا سخت بنائیں کہ وہ نفرت اور دوری اختیار کر لے۔ ✅ ایک وقت میں سخت، دوست، ہمدرد، اور رہنما بنیں۔ ✅ ہر حال میں اپنے گھر کے سربراہ اور قائد رہیں۔

برکت کیا یے؟؟ZarThoughts Story

*برکت صرف پیسوں کی کثرت میں نہیں ھوتی،* برکات یہ بھی ھیں کہ ایک مہینہ، دو یا تین ماہ گزر جائیں اور تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے، کیونکہ اللہ نے تمہاری صحت میں برکت دی ھو۔ برکت یہ ھے کہ موسم، دو یا تین بدل جائیں اور تمہیں نیا لباس لینے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ تمہارا جسم ویسا ھی رھے اور اللہ نے تمہارے لباس اور جسمانی حالت میں برکت رکھی ھو، کہ نہ لباس پھٹے اور نہ خراب ھو۔ برکت یہ ھے کہ تم تھوڑا کھانا کھاؤ اور سیر ہو جاؤ۔ برکت یہ ہے کہ تم کم سو کر بھی تروتازہ اٹھو۔ برکت یہ ھے کہ تم کوئی نئی بات سیکھو اور فوراً سمجھ جاؤ، بغیر کسی کی مدد کے۔ برکت یہ ھے کہ تم ایسی جگہ جاؤ جہاں رش ھو اور تاخیر کا اندیشہ ھو، لیکن اللہ تمہارے معاملات آسان کر دے، بغیر تمہاری کوشش کے۔ برکت یہ ھے کہ تم جہاں بھی جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں، بغیر کسی اضافی محنت کے۔ برکت بے شمار چیزوں میں ھوتی ھے جنہیں گنا نہیں جا سکتا، مگر ھم خود ھی اپنی سوچ کو محدود کر لیتے ھیں۔ یا اللہ پاک عزوجل! جو تُو نے ھمیں عطا کیا ھے، اس میں برکت و رحمت عطا فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ، یہ امت انٹرنیٹ پہ فدا ہو گئی ۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء یوں ہی قضا ہو گئی ۔ یا الله غریب رکھ یا امیر رکھ ، بس اپنے قریب رکھ ، میں تیرے علاوہ کسی کا محتاج نہ بنوں ، *بس ایسا میرا نصیب رکھ ..* *آمین ثم آمین یا رب العالمین ،*

Monday, December 30, 2024

ZarThought's Motivational Story

*”بل (Bill) کیا ہوتا ہے امی؟“* آٹھ سال کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ ماں نے اسے سمجھایا، جب ہم کسی سے کوئی سامان خریدتے ہیں یا کوئی کام کرواتے ہیں تو وہ اس سامان یا کام کے بدلے میں ہم سے پیسے لیتا ہے اور ہم کو اس سامان یا کام کی لسٹ بنا کر دیتا ہے، اسی کو ہم بل کہتے ہیں۔ بچے کو ماں کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ رات کو سونے سے پہلے اس نے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پیپر رکھا جس میں اسی دن کا حساب لکھا ہوا تھا: دوکان سے سامان لا کر دیا *پانچ روپے* بابا کی بائیک صاف کر کے باہر نکالی *پانچ روپے* دادا جی کا سر دبایا *دس روپے* دادی امی کی چابیاں ڈھونڈ کر دی *دس روپے* ٹوٹل ہوا تیس روپے۔ یہ صرف آج کا بل ہے، اس کو آج ہی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ صبح جب بچہ اٹھا تو اس کے تکیے کے نیچے تیس روپے رکھے ہوئے تھے۔ وہ انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ تو بہت اچھا کام ہو گیا۔ تبھی اس کی نظر ساتھ رکھے کاغذ پر پڑی۔ اس کی امی نے لکھا تھا: پیدائش سے لے کر آج تک پالا پوسا *معاوضہ صفر* بیمار ہونے پر ساری ساری رات سینے سے لگا کر گھمایا، بہلایا *معاوضہ صفر* اسکول بھیجنا اور ہوم ورک کروانا *معاوضہ صفر* صبح سے رات تک کھلانا، پلانا، کپڑے تبدیل کروانا، استری کرنا *معاوضہ صفر* حد سے زیادہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنا *معاوضہ صفر* یہ اب تک کا پورا بل ہے۔ اس کی جب بھی قیمت ادا کرنا چاہو، کر دینا۔ بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سیدھا جا کر اپنی ماں کے پاؤں پر جھک گیا اور بہت مشکل سے روتے ہوئے کہنے لگا: آپ کے بل میں تو قیمت لکھی ہی نہیں ہے امی۔ یہ تو *انمول* ہے۔ اس کی *قیمت* تو میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکوں گا، مجھے معاف کر دیں پیاری امی۔ امی نے ہنستے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ *نوٹ:* یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں۔

Sunday, December 29, 2024

ZarThought's Stories

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شاندار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں جو جوتا پہنیں وہ کسی دوسرے کے پاس نہ ہو‘ شہر کی سب سے لمبی‘ مہنگی اور شاندار گاڑی ہمارے پاس ہونی چاہئے‘ملک کا‘ شہر کا اور محلے کا سب سے بڑا اور مہنگا گھر ہمارا ہونا چاہئے‘ شہر کی سب سے خوبصورت لڑکی ہماری بیوی ہونی چاہئے‘ ہمارے بچے شہر کے تمام بچوں سے خوبصورت ہونے چاہئیں‘ ہم ملک کی سب سے بڑی نوکری حاصل کریں اور ہم جب کاروبار میں قدم رکھیں تو وہ تیزی سے ترقی کرے اور لوگ ہمارے نام‘ ہماری شکل سے واقف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب ایک مختلف انسان تھے‘ وہ ایک ’’ایوریج‘‘ زندگی گزارنا چاہتے تھے‘ وہ کسی امتحان میں ٹاپ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے تھے‘ وہ رٹے لگاتے تھے‘ اساتذہ سے نمبر حاصل کرنے کیلئے تعلقات بڑھاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت صرف دو تین گھنٹے پڑھتے تھے‘ یہ امتحان کے دنوں میں بھی رات کو نیند پوری کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا میں صرف زیادہ نمبر لینے کیلئے اپنی نیند قربان نہیں کر سکتا‘ یہ لمبی تان کر سوتے تھے اور ان کی اس درویشی کو ان کے ساتھی بے حسی اور بے وقوفی قرار دیتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب خوش تھے‘ انہوں نے اس عالم میں درمیانے درجے کے نمبر لے کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ یہ ڈاکٹر بن گئے ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے تمام ساتھی‘ تمام کلاس فیلوز سپیشلائزین میں جت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے مزید پڑھنے سے انکار کر دیا‘یہ چھوٹے سے ہسپتال میں فزیشن بھرتی ہو گئے اور سرکاری تنخواہ پر گزارا کرنے لگے‘ ان کے ساتھی ہسپتال سے واپس آ کر بمشکل لنچ کرتے تھے‘ سہ پہر کو پرائیویٹ پریکٹس میں لگ جاتے تھے اور رات گئے تک نوٹ بنانے میں لگے رہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب ہسپتال سے واپس آ کر آرام کرتے تھے‘ شام کو جاگنگ کرتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ میوزک سنتے تھے‘ دوستوں سے ملتے تھےاور اس دوران اگر کوئی مریض آ جاتا تھا تو یہ اس کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ ان دنوں اپنی آمدنی میں اضافے کے بارے میں بھی ہرگز ہر گز نہیں سوچتے تھے‘ یہ اپنی تنخواہ میں مزے کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے‘ ان کا چھوٹاسا گھرتھا‘ گھر میں اے سی نہیں تھا‘ ان کے پاس چھوٹا سا فریج تھا اور یہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے‘ یہ ان سہولتوں کو اپنے لئے کافی سمجھتے تھے‘ انہوں نے زندگی کو ان چیزوں سے آگے نہیں دیکھا تھا۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی شادی کا وقت آ گیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملے میں بھی ’’میانہ روی‘‘ اختیار کی‘ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی ‘تمام دوست اور تمام کلاس فیلو سب سے اچھی‘ سب سے خوبصورت لڑکی اور سب سے اچھا خاندان کے چکر میں تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایک واجبی شکل و صورت کی عام سی لڑکی منتخب کی اور اس کے ساتھ شادی کر لی‘ یہ دونوں میاں بیوی اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہنے لگےبعدازاں بچے پیدا ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب ان بچوں کیلئے بھی بڑے سکولوں اور اعلیٰ ترین تعلیم کے پیچھے نہیں بھاگے‘ انہوں نے بچوں کو عام سے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا کیونکہ یہ پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرتے تھے چنانچہ شام کے وقت ان کے پاس ٹھیک ٹھاک وقت ہوتا تھا لہٰذا یہ بچوں کو خود پڑھا لیتے‘ ان کے بچے بھی زیادہ ذہین نہیں تھے‘ یہ درمیانے درجوں میں پاس ہوتے تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو کبھی ٹاپ کرنے یا اول پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دی‘یہ بس انہیں پاس ہونے اور تعلیم مکمل کرنے کا سبق دیتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کے بچے بھی اس اپروچ کے ساتھ خوش تھے کیونکہ وہ سکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے تھے‘ آرام کرتے تھے‘ شام کو کھیلتے تھے‘ تھوڑا سا پڑھتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے اور سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ واک کرتے تھے اور بس ۔ وہ بچے ٹاپ کی ریس سے الگ تھے چنانچہ ان کے پاس بھی خوش رہنے اور مطمئن رہنے کے بے شمار بہانے تھےلیکن آپ ہر گز ہر گز یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ یہ کہانی اسی طرح چلے گی۔ اس کہانی میں ایک بہت دلچسپ ٹرن آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دن سوچا انہیں ملک سے باہر جانا چاہئے‘ اس وقت ان کے کولیگز‘ ان کے دوست بڑے بڑے ملکوں کی طرف جا رہے تھے‘ کوئی امریکی سفارتخانے کے سامنے قطار میں لگا تھا‘ کوئی برطانیہ جانے کے منصوبے بنا رہا تھا‘ کسی نے کینیڈا اور آسٹریلیا کی امیگریشن کیلئے اپلائی کر رکھا تھالیکن ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں کوئی پاکستانی ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے پورے خاندان کے ساتھ مالدیپ چلے گئے‘ انہیں مالدیپ کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں جاب مل گئی اور یہ فیملی سمیت مالدیپ شفٹ ہو گئے۔ وہاں بھی انہوں نے خاندان بھر کو سائیکلیں لے کر دیں اور یہ سارا خاندان مالدیپ کے قدرتی حسن کو انجوانے کرنے لگا‘ بچے سکول میں درمیانے درجے کے طالب علموں کی طرح پڑھتے‘بیگم صاحبہ منڈی سے سبزیاں‘ پھل اور اناج خریدیتیں اور سارا خاندان شام کو واک کرتا‘ قہقہے لگاتا اور زندگی کو بھر پور طریقے سے انجوائے کرتا‘ یہ لوگ ویک اینڈ مناتے اور خوب موج مستی بھی کرتے‘ ان کیلئے زندگی واقعی خوبصورت نعمت تھی اور انہوں نے مالدیپ کے دنوں کو بھر پور طریقے سے گزارا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا۔ انہوں نے ایک دن اخبار میں پڑھا آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک فزیشن کی ضرورت ہے‘آسٹریلوی حکومت کو اس پوسٹ کیلئے ایک ایسا ڈاکٹر چاہئے جو محض ڈاکٹر ہو اوراس نے کسی قسم کی سپیشلائزیشن نہ کر رکھی ہو۔ یہ آسٹریلیا کی ایک غیر معروف جگہ تھی لہٰذا وہاں کوئی نہیں جاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بھیڑ چال میں چلنے والے شخص نہیں تھے‘ یہ درمیان میں رہنے والے ایک ایسے معتدل شخص تھے جنہوں نے کبھی اول آنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی چنانچہ انہوں نے اس جاب کیلئے اپلائی کر دیا‘یہ اس علاقے کے پہلے فارنر ڈاکٹر تھے‘ علاقے کے لوگ اور مقامی انتظامیہ ان کے ٹیلنٹ سے متاثر ہوئی اور انہوں نے انہیں پورے علاقے کے ہسپتالوں کا انچارج بنا دیا‘ یہ پانچ ہندسوں میں تنخواہ لینے لگے‘ حکومت نے انہیں دو ہزار ایکڑ زمین بھی دے دی‘ انہوں نے اس زمین میں فارم بنا لیا‘ یہ فارم ان کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا. اور یہ چند برسوں میں اس علاقے کے امیر ترین شخص بن گئے اور آج ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی ہیں‘یہ ہیلی کاپٹر کے مالک بھی ہیں‘ ان کے پاس ایکڑوں پر محیط گھر بھی ہے اور اس گھر میں آبشاریں اور ندیاں بھی ہیں اور ان کا بینک بیلنس بھی ہے لیکن یہ اس کے باوجود ایک ایوریج زندگی گزار رہے ہیں‘یہ دوپہر کو آرام کرتے ہیں‘ سہ پہر کے وقت بچوں کے ساتھ جاگنگ کرتے ہیں‘ شام کو ٹی وی دیکھتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے ہیں‘ میوزک سنتے ہیں‘ دوستوں کے ساتھ گپ لگاتے ہیں اور گولیوں کے بغیر صبح شام گزارتے ہیں اور آج ان کے وہ تمام کلا س فیلوز ‘ وہ تمام ساتھی سکھ‘ خوشی‘ اطمینان‘ صحت‘ دولت‘ کامیابی اور کامرانی میں ان سے بہت پیچھے ہیں‘ جو کبھی راتوں کو جاگ جاگ کر رٹے لگاتے تھے‘ جو اول آنے کی دوڑ میں اپنی آنکھیں سرخ کر لیتے تھے‘ جو بڑے فریج‘ بڑی گاڑی‘ بڑے گھر‘ بڑے بینک بیلنس اور واہ جی واہ کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے‘ جو ہسپتال جاتے تھے‘ شام کو کلینک کرتے تھے اور دواؤں سے پیسے کھاتے تھےاور جنہوں نے میڈیکل کے پروفیشن کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن’’ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے‘‘ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب دنیاوی کاموں میں بھی ان سے آگے نکل گئے‘ ان کے ساتھیوں کی وہ بیگمات جن کیلئے انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا‘ وہ بیمار‘ بوڑھی اور بدصورت ہو گئیں لیکن ان کی بیگم بوڑی ہو کر بھی ایوریج رہی‘ ان کے ساتھیوں کے وہ بچے جن کی تعلیم کیلئے انہوں نے بڑے بڑے پاپڑ بیلے تھےوہ سب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کو چھوڑ کرچلے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کے ایوریج بچے آج بھی ان کے ساتھ ہیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی بھی خوشیوں سے بھرپور تھا‘ حال بھی اور مستقبل بھی۔ہمارے پاس ٹاپ کی دوڑ کے علاوہ بھی ایک راستہ ہوتا ہے‘ اعتدال کا راستہ‘ ایوریج زندگی کا راستہ اور درمیان کا راستہ اور یہ وہ راستہ ہوتا ہے جس میں خوشیاں ہوتی ہیں لیکن ہم لوگ ٹاپ کی دوڑ میں لگ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں‘ہم اپنے ماضی‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل تینوں کو زہریلا کر لیتے ہیں اور آخر میں جا کر ہمیں اچانک محسوس ہوتا ہے ٹاپ کی اس دوڑ میں ہمارے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا‘ ہم تو بیلنس شیٹ کے سوا زندگی سے کچھ نہیں کما سکے۔ کاش ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کی طرح سوچیں‘ ہم خوشی کو کامیابی پر فوقیت دیں‘ ہم درمیان کا راستہ منتخب کرلیں...

Sunday, June 9, 2024

دعا

 *اے پروردگار! یہ چند گھنٹے کی گرمی کی تپش ہم سے برداشت نہیں ہوتی اور ہم بلبلا اٹھتے ہیں۔۔*🥺❤‍🩹

 *یا اللّٰہ ہمیں جہنم کی ہولناک آگ سے بچانا، ہماری کھالوں میں وہ تاب نہیں کہ ہم تیرا عتاب سہہ سکیں۔۔۔* ❤‍🩹🥹🤌🏻

 *یا اللّٰہ بروز محشر ہمیں اپنے عرش کے سائے تلے رکھنا۔۔* 🤲🏻🥹

 *اللھم اجرنی من النار۔۔* 🤲🏻

 *اللھم اجرنی من النار۔۔* 🤲🏻

 *اللھم اجرنی من النار۔۔*🤲🏻

اللہ کی یاد

 دل کس لیے بنائے گئے ہیں؟** 🫀

*دل اِس لیے بنایا گیا ہے تاکہ وہ ﷲ تعالیٰ سے محبت کرے۔“*🫀


*اور لوگوں کی محبت کو تم اپنا غم مت بناؤ، پس لوگوں کے دل 💕تو اُلٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔*


Friday, June 7, 2024

نماز

*نماز کو ہمیشہ  آرام  سے ٹہر ٹہر کر ادا کریں۔*


*لوگوں سے اسی رفتار سے بات کر کے دیکھیں جس رفتار سے آپ نماز میں سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہیں کوئی بھی آپ کی بات نہیں سمجھے گا*
 اور
 *آپ بادشاہوں کے بادشاہ کے ساتھ اس اندازمیں بات کرتے ہیں.....؟

Tuesday, May 21, 2024

ضبط کا ٹوٹ جانا 😭


 

ضبط کا ٹوٹ جانا بُری بات نہیں ہے۔ کیونکہ ہم سب انسان ہیں اس لیے بعض اوقات ہم اس قدر ٹوٹ جاتے ہیں کہ ہم ضبط نہیں کر پاتے

دیکھو رونا بُری بات نہیں ہے۔ ٹوٹ کر بکھر جانا بُری بات نہیں ہے۔ ٹوٹتے بھی وہی ہیں جو مضبوط ہوتے ہیں۔ اس لیے خود کو تب تک توڑتے رہو جب تک اللّٰہ تک نہ پہنچ جاؤ اور جب ضبط نہ کر پاؤ تب جی بھر کر سجدے میں رو لیا کرو۔۔


*رب سے جڑنے کا سفر*

Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy

 Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy 🎙️  لیکچر  نمبر  01 سورہ الفاتحہ  | آیت...