Showing posts with label Islamic Motivatinal Knowledge. Show all posts
Showing posts with label Islamic Motivatinal Knowledge. Show all posts

Saturday, April 18, 2026

Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy

 Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy




🎙️  لیکچر  نمبر  01

سورہ الفاتحہ  | آیت 1 |

 اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

⏱️ کل وقت: 30 منٹ

 INTRO

⏱️ (0:00 — 2:00 منٹ)

"بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"

"اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

 "آج کا سیشن بہت special ہے۔

ہم آج قرآن کی وہ آیت پڑھیں گے جو آپ نے اپنی زندگی میں ہزاروں بار پڑھی ہے .

نماز میں، گھر میں، زبان پر 

لیکن آج شاید پہلی بار اس کو اندر سے سمجھیں گے۔

آج کے بعد جب بھی یہ آیت پڑھیں گے —

وہی الفاظ ہوں گے، لیکن feel بالکل مختلف ہوگی۔"

 PART 2

⏱️ (2:00 — 4:00 منٹ)

 "جب کوئی آپ کی تعریف کرے — آپ کو کیسا لگتا ہے؟"

"سچ بتاؤ — اچھا لگتا ہے ناں؟

ماں تعریف کرے — دل خوش ہو جاتا ہے۔

Teacher کہے well done — دن بن جاتا ہے۔

کوئی notice کرے — motivation مل جاتی ہے۔"

"اب ذرا سوچو 

اللہ نے اپنی پوری کائنات بنائی۔

آسمان، زمین، چاند، سورج، ہم سب 

اور پھر اپنی کتاب کا آغاز کیا 

تو پہلا لفظ کیا رکھا؟"

"اَلْحَمْدُ — یعنی تمام تعریفیں۔"

"اللہ نے کہا — میری تعریف کرو۔

یہ narcissism نہیں 

یہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔

آج ہم جانیں گے — کیوں۔"

 PART 3:  

⏱️ (4:00 — 5:00 منٹ)

"آج ہم یہ کریں گے  

 لفظ بہ لفظ تجوید سیکھیں گے

 ہر لفظ کا مطلب سمجھیں گے

 اسکالرز کی تفسیر سنیں گے

 اپنی زندگی سے کنکشن بنائیں گے

 ایک عمل لے کر جائیں گے

"30 منٹ — لیکن میں promise کرتی ہوں 

یہ 30 منٹ آپ کی زندگی کے سب سے قیمتی 30 منٹ بنیں گے۔

بس ایک کام کرو 

جو بھی دل میں چل رہا ہے 

فون، فکر، کام 

سب ایک طرف رکھ دو۔

اگلے 30 منٹ صرف اللہ کے کلام کے ساتھ رہو۔"

"بِسْمِ اللہ — شروع کرتے ہیں۔"

PART 4: 

پوری آیت — تلاوت + ترجمہ

⏱️ (5:00 — 7:00 منٹ)

"سب سے پہلے پوری آیت سنو — صرف سنو، سمجھنے کی کوشش نہ کرو ابھی۔"

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

"اب اس کا مکمل ترجمہ:"

"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں —

جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔"

"یہ صرف ایک جملہ نہیں 

یہ ایک اعلان ہے۔

ایک declaration ہے۔

آج ہم اسے توڑ توڑ کر سمجھیں گے۔"

PART 5: 

لفظ بہ لفظ  تجوید + ترجمہ

⏱️ (7:00 — 15:00 منٹ)

 لفظ نمبر 1: اَلْحَمْدُ

"پہلا لفظ ہے — اَلْحَمْدُ"

"پہلے تجوید سمجھو:"

اَلْ — یہاں لامِ قمری ہے

کیونکہ 'ح' قمری حروف میں سے ہے

یعنی لام ظاہر پڑھو — دبانا نہیں

حَ — یہ حرف وسطِ حلق سے نکلتا ہے

گلے کے بیچ سے — ہلکی گہرائی کے ساتھ

نہ بہت اندر سے، نہ منہ کے سامنے سے

مْدُ — م پر ہونٹ ملیں گے، صاف بند ہوں

د زبان کی نوک اوپر کے دانتوں کی جڑ سے

 اَلْحَمْدُ"

"اب مطلب:"

"حمد کا مطلب صرف Thank You نہیں 

یہ تین چیزوں کا مجموعہ ہے:"

1. تعریف — اللہ کی صفات پر

2. شکر — اللہ کی نعمتوں پر

3. محبت — دل سے، خوشی سے

"اردو میں Thank You کہتے ہو جب کوئی کچھ کرے —

لیکن حمد کہتے ہو کیونکہ اللہ کامل ہے —

چاہے وہ کچھ کرے یا نہ کرے۔"

"سوچو 

اگر اللہ نے آج تمہیں کوئی نئی نعمت نہ دی ہوتی 

پھر بھی کیا وہ تعریف کے لائق ہے؟"

"ہاں — کیونکہ وہ ہے ہی کامل

یہی فرق ہے Thank You اور الحمدللہ میں۔"

 لفظ نمبر 2: لِلَّهِ

"دوسرا لفظ — لِلَّهِ"

"تجوید:"

لِ — زیر کے ساتھ

لَّ — لام مشدد — ذرا رکو اس پر

هِ — آخر میں زیر

"یہاں بہت اہم rule ہے —"

"اللہ" سے پہلے اگر زیر ہو → لام باریک پڑھو (ترقیق)

 "اللہ" سے پہلے اگر زبر یا پیش ہو → لام موٹا پڑھو (تفخیم)

"یہاں لِلَّهِ — زیر ہے → باریک پڑھیں گے"

(ایک بار کلاس سے دہرائیں)

"مطلب: اللہ کے لیے "

"صرف اللہ کے لیے 

کسی اور کے لیے نہیں۔

یہ لام اختصاص کا لام ہے 

یعنی یہ حق صرف اللہ کا ہے، کسی اور کا نہیں۔"

 لفظ نمبر 3: رَبِّ

"تیسرا لفظ — رَبِّ"

"تجوید:"

رَ — زبان کی نوک اوپر کے تالو کے قریب

بِّ — ب مشدد — دونوں ہونٹ مل کر ذرا رکیں

(ایک بار دہرائیں)

"مطلب — رب"

"رب کا ترجمہ صرف 'Lord' نہیں —

رب وہ ہے جو:"

 پیدا کرے

 پالے

 سنبھالے

 بڑھائے

 مکمل کرے

"ماں بچے کو پالتی ہے  وہ بھی ایک طرح کی ربوبیت ہے 

لیکن اللہ کی ربوبیت؟

وہ تمہیں اس وقت بھی پال رہا ہے جب تم سو رہے ہو 

جب تم اسے بھول جاتے ہو 

جب تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو 

پھر بھی دل چل رہا ہے، سانس آ رہی ہے۔"

لفظ نمبر 4: الْعَالَمِينَ

"چوتھا لفظ — الْعَالَمِينَ"

"تجوید:"

اَلْ   یہاں لامِ قمری 

ع قمری حروف میں ہے → لام ظاہر

عَا   ع گلے کے نچلے حصے سے م آواز میں گہرائی

لَمِيْنَ — ی مدّ — ذرا کھینچو

(ایک بار دہرائیں)

"مطلب: تمام جہان "

"عالمین   صرف انسان نہیں 

جنات، فرشتے، جانور، پودے، پانی، ہوا 

جو کچھ بھی exist کرتا ہے 

سب کا رب اللہ ہے۔"

"تم اکیلے نہیں ہو 

تمہاری ہر سانس، ہر دھڑکن 

ایک ایسے رب کی نگرانی میں ہے

جو پوری کائنات کا رب ہے 

لیکن پھر بھی تم پر نظر رکھتا ہے۔"

PART 6: 

پوری آیت کا مکمل ترجمہ

⏱️ (15:00 — 16:00 منٹ)

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

"لفظ بہ لفظ ترجمہ:"

لفظ

ترجمہ

اَلْحَمْدُ

تمام تعریفیں

لِلَّهِ

اللہ کے لیے (صرف اللہ کے لیے)

رَبِّ

جو رب ہے

الْعَالَمِينَ

تمام جہانوں کا

"مکمل ترجمہ:"

"تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں — جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔"

 PART 7: 

تفسیر — اسکالرز کی روشنی میں

⏱️ (16:00 — 21:00 منٹ)

"اب تفسیر 

 اس آیت میں کیا چھپا ہے۔"

 امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"'الحمد' میں شکر بھی ہے اور تعریف بھی —

لیکن شکر صرف نعمت پر ہوتا ہے،

تعریف نعمت کے بغیر بھی ہوتی ہے۔

اس لیے 'حمد' شکر سے زیادہ بڑا لفظ ہے۔"

"یعنی  اللہ کی تعریف کرو چاہے تمہارے پاس نعمت ہو یا نہ ہو 

کیونکہ وہ خود تعریف کے لائق ہے۔"

 امام ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"الحمدللہ کہنا اللہ کی ان تین صفات کو تسلیم کرنا ہے:"

 وہ کامل ہے — ہر عیب سے پاک

 وہ محبوب ہے  ہم اس سے محبت کرتے ہیں

 وہ منعم ہے  نعمتیں دینے والا

"جب تم الحمدللہ کہتے ہو —

تم یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ کہہ رہے ہوتے ہو

بغیر جانے بھی۔"

 امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"'رَبِّ الْعَالَمِينَ' میں اللہ نے اپنا تعارف 'رب' سے کرایا —

بادشاہ سے نہیں، مالک سے نہیں 

رب سے۔

کیونکہ رب وہ ہے جو پالتا ہے، سنبھالتا ہے 

یعنی اللہ کا پہلا تعارف محبت اور پرورش سے ہے  خوف سے نہیں۔"

"اللہ نے کہا — میں تمہارا رب ہوں 

یعنی میں تمہیں پال رہا ہوں 

یہ ایک باپ کا اپنے بچے سے تعارف ہے —

یہ ایک آقا کا اپنے غلام سے نہیں۔"

 PART 8: 

حدیث

⏱️ (21:00 — 22:30 منٹ)

"اب سنو — نبی ﷺ نے الحمدللہ کے بارے میں کیا فرمایا:"

"اَلْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ"

"الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے۔"

(صحیح مسلم)

"سوچو 

قیامت کے دن اعمال تُلیں گے 

اور یہ دو الفاظ 

میزان کو بھر دیں گے۔"

"یہ دو الفاظ ہیں 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ

اور یہ اتنے بھاری ہیں کہ پورا پلڑا بھر دیں 

لیکن ہم انہیں کتنی بے دھیانی سے کہتے ہیں؟"

 PART 9:

 ڈیلی لائف کنکشن

⏱️ (22:30 — 26:00 منٹ)

قرآن کیا کہہ رہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔"

 Example 1:

"صبح آنکھ کھلی 

کیا پہلا خیال تھا؟

فون چیک کرنا؟ کام کی فکر؟

قرآن کہتا ہے  پہلا لفظ یہ ہونا چاہیے 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ — کہ میں زندہ ہوں۔"

 Example 2:

"آپ کا plan cancel ہوا 

exam میں نمبر کم آئے 

کوئی چیز نہیں ملی جو چاہتے تھے 

ہم کیا کہتے ہیں؟

'اللہ نے نہیں دیا' اور دل ناراض ہو جاتا ہے۔

لیکن قرآن کہتا ہے 

الحمدللہ رب العالمین 

وہ صرف تمہارا رب نہیں 

وہ پوری کائنات کا رب ہے 

اسے معلوم ہے کہ تمہارے لیے کیا بہتر ہے۔"

 Example 3:

"ایک شخص کے ساتھ accident ہوا 

گاڑی ٹوٹ گئی 

لیکن وہ بچ گیا 

اس نے کہا  الحمدللہ۔

کسی نے پوچھا  کیسے شکر کرتے ہو؟ گاڑی تو ٹوٹ گئی 

اس نے کہا 

'گاڑی ٹوٹی  میں نہیں ٹوٹا۔

الحمدللہ۔'"

"یہ ہے الحمدللہ 

ہر حال میں 

کیونکہ اللہ رب العالمین ہے 

وہ جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔"

 PART 10: 

عمل کے پوائنٹس

⏱️ (26:00 — 28:00 منٹ)

"اب last part 

آج کا سبق صرف سننے کے لیے نہیں 

قرآن عمل مانگتا ہے۔

آج تین کام کرنے ہیں:"

عمل نمبر 1: شعوری الحمدللہ

"آج پورے دن  ہر کام کے بعد 

consciously الحمدللہ کہنا ہے۔

پانی پیا   الحمدللہ

کھانا ملا  الحمدللہ

کوئی مشکل آئی الحمدللہ

صرف زبان سے نہیں 

دل کو ایک سیکنڈ لگانا ہے۔"

عمل نمبر 2: چھوٹی نعمت ڈھونڈو

"آج رات سونے سے پہلے 

ایک ایسی نعمت لکھو

جس پر آپ نے پہلے کبھی الحمدللہ نہیں کہا 

آنکھیں، سانس، کوئی رشتہ، کوئی چھوٹی سی خوشی 

لکھو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔"

 عمل نمبر 3: رات کا ایک منٹ

"رات سونے سے پہلے 

صرف ایک منٹ 

آنکھیں بند کرو اور سوچو:

'آج اللہ نے مجھے کیا کیا دیا؟'

پھر دل سے کہو  اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

 PART 11:  

CLOSING

⏱️ (28:30 — 30:00 منٹ)

"آج ہم نے صرف ایک آیت پڑھی 

لیکن اس ایک آیت میں پوری زندگی کا فلسفہ ہے 

ہر حال میں اللہ کی تعریف 

کیونکہ وہ رب ہے 

وہ جانتا ہے 

وہ پال رہا ہے 

ہمیں بس یقین رکھنا ہے۔"

"آج کے بعد 

جب بھی نماز میں یہ آیت پڑھو 

محسوس کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔"

"اگر آج کی بات نے آپ کے دل کو چھوا 

تو ایک کام کریں 

یہ لیکچر کسی ایک انسان تک پہنچائیں 

کیونکہ علم بانٹنا بھی صدقہ ہے۔"

"اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

"جزاکم اللہ خیراً —"

"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔"

Thursday, January 15, 2026

The Manners Of Recitation of Quran

 

The Manners of Recitation :
When Anas (R A)
was asked about the recitation of the Prophet (S A W),he said : "He would elongate it, so when he read 'Bismillah-ir-Rahman', he would elongate Allah, ar- Rahman & ar- Raheem." (al Bukhari)

The recitation of the Qur’an is not merely reading words; it is an act of reverence, calmness, and love. When Anas (R.A) was asked about the recitation of the Prophet Muhammad (S.A.W), he explained that the Prophet would recite with elongation and beauty. While reciting “Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem,” he would gently elongate Allah, Ar-Rahman, and Ar-Raheem. This Sunnah teaches us to recite the Qur’an with reflection, tranquility, and respect for every word.

قرآن کی تلاوت صرف الفاظ کا پڑھنا نہیں بلکہ ادب، محبت اور ٹھہراؤ کا نام ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر، خوبصورت انداز میں تلاوت فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” میں اللہ، الرحمٰن اور الرحیم کو واضح طور پر کھینچ کر پڑھتے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قرآن پڑھتے وقت دل حاضر ہو، آواز میں نرمی ہو اور ہر لفظ کے حق کو ادا کیا جائے۔ 💛📖✨

#Zarthoughs
#QuranRecitation #MannersOfRecitation #Sunnah #ProphetMuhammad#BeautifulTilawah #QuranLove #IslamicReminder #Hadith #Bismillah #RahmanRaheem #QuranReflection #SpiritualPeace  #IslamWorldwide  #MuslimUmmah #Pakistan  #GlobalIslam #Faith #HeartTouching 

Wednesday, December 24, 2025

Irritating روئیے

 

Irritating روئیے🥀

کچھ چیزیں معاشرے میں اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ ہم ان کی قباحت بھول چکے ہیں اور اسے فرض سمجھ کر رہے ہیں چاہے گناہ ہے، حقوق العباد متاثر ہو رہے ہیں، سامنے والے کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے یاں آنکھیں بھیگ رہی ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ ہم تو دوسروں کے بڑے خیرخواہ ہیں، ہمیں لگتا ہے جب تک ہم دوسروں کو نہیں بتائیں گے کہ ان کی زندگی، گھر اور شخصیتوں میں کیا کیاں کمیاں ہیں انہیں تو پتہ ہی نہیں چلے گا۔

خدارا ہمدردی کے نام پر دوسروں کو تکلیف دینا بند کر دیں۔

ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی زندگی میں کیا کمی ہے، بھری مجلس میں کسی کی کمزوری کو ہائی لائٹ کرنا اور پھر اس کا بار بار تذکرہ کرنا اصلاح نہیں ہے۔ 

اللہ کے مومن بندوں کا یہ رویہ نہیں ہوتا یہ شیطانی طرزعمل ہے۔

میرا آپ سب سے ایک سوال ہے۔

انسان کی تخلیق کس چیز سے کی گئی؟

آپ کہیں گے مٹی سے۔

میں پوچھوں گی کیا صرف مٹی سے؟

نہیں۔ مٹی ایک ایلیمنٹ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں:

سورة ص - آیت 71

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ `إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ`

جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں تھوڑی سی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

سورة ص - آیت 72

فَإِذَا `سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي` فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

ترجمہ:

تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔

ان دونوں آیات کو ملا کر دیکھیں جب اللہ سبحانہ وتعالی نے فرشتوں سے یہ نہیں کہا جب میں مٹی سے انسان کو بنا دوں تو اسے سجدہ کرنا بلکہ کہا جب میں اس کا تسویہ(یعنی اسے درست کر کے مکمل شکل میں انسان بنا دوں) کر دوں اور پھر اس میں روح پھونک دوں تو پھر اسے سجدہ کرنا۔

انسان کی تخلیق تسویہ اور روح کے بغیر نامکمل ہے، ایک مردہ جسم کا تصور کر لیں خود ہی آپ سمجھ جائیں گے۔

تو پھر انسان کی تخلیق کتنے مرحلوں ہوئی۔ تین مرحلوں میں۔

انسان تین چیزوں کا مجموعہ ہے مٹی، تسویہ اور روح۔

اب نیچے والی آیت دیکھیں جب شیطان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے کیا کہا۔

سورة الإسراء - آیت 61

`وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا`

ترجمہ:

” اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا۔“

شیطان نے صرف مٹی کا ذکر کیا کیونکہ اس کے نزدیک مٹی سب سے حقیر چیز تھی، انسان کی کمزوری کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے اس نے صرف مٹی کا نام لیا حالانکہ انسان صرف مٹی کا مجموعہ نہیں ہے۔

بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا ہو اور ہمیں بھری محفل میں بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں اوں ہوں یہ رنگ تو تم پر بالکل سوٹ نہیں کر رہا، یہ سوٹ تو تم نے فلاں ایونٹ پر بھی پہنا تھا نا اور اگر ایسا کوئی کمزور پہلو نہ ملے تو اس کی شخصیت کی کسی خامی، جسمانی عیب یاں قدرت کی طرف سے رکھی کمی کا تذکرہ کرکے خوشی سے چمکتے چہرے کو تاریک کر کے سکون محسوس کرتے ہیں۔پریکٹیکل لائف میں میں نے یہ چیز بہت زیادہ آبزرو کی ہے۔ ہم سب انسان ایک دوسرے کی خامیاں ڈھونڈنے اور پھر انہیں نشر کرنے میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ہم نے دوسروں کی خوبیوں کی طرف نظر رکھنا چھوڑ دیا ہے۔

عموما ایسا کرنے والے بھی ہمارے قریبی رشتہ دار، دوست یاں فیملی کے لوگ ہوتے ہیں۔

~مجھے حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں پر جنہیں دوسروں پر طنز، تمسخر اور طعن وتشنع کرتے ہوئے سامنے والے کے چہرے پر کندہ تکلیف اور تھکن بھی نظر نہیں آتی۔

~مجھے ترس آتا ہے ایسے لوگوں پر جو اپنے اندر کے احساس کمتری دوسروں کی کمزوریوں کو ہتھیار بنا کر کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں

~مجھے تکلیف ہوتی ہے جب یہ نیگیٹو لوگ اپنی نیگیٹویٹی بڑی آسانی سے دوسروں تک ٹرانسفر کر دیتے ہیں اور اس کے نقصانات پر ذرا برابر بھی توجہ نہیں دیتے۔

~اور سب سے بڑی تکلیف تب ہوتی ہے

جب دوسروں کی نیگیٹویٹی ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہے

اور ہم ان سے دور نہیں جا سکتے،  ہم انہیں بتا نہیں سکتے، خاموش نہیں کروا سکتے اور خود کو بہلا بھی نہیں سکتے۔

یہ تب ہوتا ہے جب ان کی نیگیٹویٹی پر ہم یقین کر لیتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا تھا۔

~آپ کیا ہیں یہ کوئی کیوں آ کر آپ کو بتائے، آپ میں کیا کمی ہے کوئی اور کیوں آ کر آپ کو جتائے آپ کو خود پتہ ہونا چاہئے۔

`آپ کو اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے، آپ کی زندگی کو آپ کے رب نے ڈیزائن کیا ہے جو آپ کے پاس ہے وہ بہترین ہے اور جو نہیں ہے اس میں رب کی  حکمت پوشیدہ ہے۔`

ٹاپک بہت لمبا ہے جتنی بھی بات کی جائے کم ہے، مگر صرف اتنا ہی کہوں گی۔

*~خود کو دوسروں کے آئینے سے دیکھنا بند کریں، کوئی نیچا دکھانا چاہے، آپ کو کمزور کرنا چاہے تو بجائے بحث اور مقابلے کے خود کو اور مضبوط کریں اور ہر پل یہ یقین رکھیں کہ آپ دنیا کے بہترین انسان ہیں کیونکہ آپ انسان ہے دوسروں کی نیگیٹویٹی آپ کی اچھائی پر غالب نہیں آنی چاہیے*

Sunday, December 14, 2025

آپ کے ناموں کی اہمیت


اللہ سبحانہ وتعالی نے کتنی خوبصورت نعمت عطا کی ہے نا کہ ہم ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہیں، ایک منٹ کے لیے سوچیں اگر ہمارے نام نہ ہوتے تو ہم ایک دوسرے کو کیسے مخاطب کرتے؟

شکلوں کے زاویوں سے، اپنے ہی ضابطوں سے یاں عادتوں اور عملوں کی بنیاد پر۔

ہر صورت میں کچھ انسان تکلیف اٹھاتے کیونکہ کچھ انسان دوسروں کی کمزوریوں کو اچھال کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اور اگر مخاطب کرنے کا کوئی بھی ذریعہ نہ ہوتا تو کمیونیکیشن کس قدر مشکل ہوتی ہم نہیں سوچتے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں اس مشکل میں ڈالا ہی نہیں ہمیں سیکھایا کہ اپنے بچوں کے خوبصورت نام رکھ لو جن سے انہیں مخاطب کیا کرو۔


چلیں آج سب مل کر زندگی میں پہلی بار اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں۔

آپ نے ہمیں اس قدر خوبصورت نام سے نوازا شکریہ پیارے اللہ

آپ نے ہمیں اس نعمت کے ادراک سے نوازا شکر الحمدللہ یارب

لیکن کیا ہم اس نعمت کا درست استعمال کرتے ہیں؟

اس نعمت کا درست استعمال کیا ہے؟

بہترین نام رکھنا وہ نام جو قرآن اور سنت سے ثابت ہوں، جن کا معنی درست ہو اور پھر ان ناموں کی تکریم کی جائے انہیں بگاڑا نہ جائے۔

محبت سے نام کو مختصر کرنا اور بات ہے یہ سنت سے ثابت ہے ایسا کیا جا سکتا ہے مگر ناموں کو بگاڑ کر مسخ کر دینا بالکل بھی درست نہیں۔

ایک چھوٹی سی بات اگر آپ عمل کر سکیں۔

ایسے نام رکھیں جنہیں بول اور سن کر اللہ کی یاد آئے، قرآن کی کوئی آیت یاد آئے، کسی نبی، صحابی رسول یاں صالحین کی یاد تازہ ہو۔

یہ آئیڈیا مجھے کہاں سے آیا؟

ابھی کچھ دن پہلے بھتیجے صاحب پھپھو سے ملنے آئے، وہ کھڑے تھے، میں نے آواز دی یوسف ایھا الصدیق (سورہ یوسف کی آیت)۔

مجھے ایک لمحے کو حیرانی سی ہوئی یہ کیا ہوا، پھر میرے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور ساتھ ہی دل نے شکر کیا اس نئی سیکھ پر اور زبان سے میں نے کہا قرآن میں موجود نام رکھنا کس قدر خوبصورت ہے نا۔

مجھے یحیی علیہ السلام یاد آئے جن کا نام اللہ سبحانہ وتعالی نے رکھا تھا، مجھے ابراہیم علیہ السّلام یاد آئے ان کی قربانیوں کی بیچ کہیں ان کے صبر کا ثمر اسماعیل علیہ السّلام تک جا پہنچی۔

اپنے خیالات کی ٹرین کو روک کر میں آپ کی طرف بڑھ آئی ہوں۔

کیونکہ اب ماڈرنزم کے نام پر بےمعنی اور بےتکے نام رکھنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے مزید برآں ہم گوگل سے معنی پڑھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں معنی بھی درست ہے اور نام بھی بڑا یونیک ہے، اور شریعت سے راہنمائی لینے کی تو ہم ویسے ہی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کوشش کریں نام رکھنے سے پہلے سنت سے راہنمائی لیں، میں یہ نہیں کہتی نام شخصیت بناتے ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گی ان کا کہیں نا کہیں ہماری شخصیت پر اثر ضرور پڑتا ہے۔

اس لیے صالح اولاد کے صالح نام رکھیں۔

اللہ سبحانہ وتعالی آپ کو صالح اولاد سے نوازے آمین

قرآن کریم کی سورت کا تعارف






قرآن کریم کی سورت کا تعارف

 *سورت نمبر: 45* 

 *سورۃ جاثیه* 

تعارف

اس سورت میں بنیادی طور پر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی اتنی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایک انسان اگر معقولیت کے ساتھ اُن پر غور کرے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کائنات کے خالق کو اپنی خدائی کے انتظام میں کسی شریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اُس کی عبادت کرنا سراسر بے بنیاد بات ہے۔ دوسرے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ آپ کو شریعت کے کچھ ایسے احکام دیئے گئے ہیں جو پچھلی امتوں کو دیئے ہوئے احکام سے کسی قدر مختلف ہیں۔ چونکہ یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اس لئے اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ تیسرے اس سورت میں قیامت کے ہولناک مناظر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں آیت نمبر ۲۸ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ ڈر کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے ۔ ” جاثیه عربی زبان میں اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو گھٹنے کے بل بیٹھے ہوں۔ اسی لفظ کو سورت کا نام بنادیا گیا ہے۔

Sunday, February 9, 2025

ZarThoughts Surha Naba Verse 09



رب سے جڑنے کا سفر

 *ZarThoughts International Islamic Online Learning Institite 

Assalamu alaikum,* Everyone!

Today, we're going to explore a beautiful verse from the Quran.

*Allah says, "* 

*Verse:* "وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتاً"

(And We have made your sleep as a thing for rest.)

Now, let's think about this verse in a deeper way. What does it mean to say that sleep is a gift from Allah?

Does it mean that we should be grateful for sleep?Is it about sleep?

That's correct! This verse is talking about sleep. But it's not just about sleep; it's about the purpose of sleep.

The word "سباتاً" (subatan) means (rest). It implies a state of tranquility where the body and mind are able to relax.

Exactly! We should be grateful for the blessing of sleep. Just think about it - without sleep, we wouldn't be able to function properly. We wouldn't be able to focus, learn, or even take care of our daily tasks.

Sleep is a gift from Allah to help us relax.It's a time for our bodies to repair and refresh themselves.You see, Allah has designed sleep as a way for our bodies to  recharge. 

That makes sense. I feel so tired after a long day, and sleep really helps me feel better.

Exactly! And that's what Allah is reminding us in this verse. He's telling us that sleep is a gift, a blessing from Him to help us cope with the challenges of life.

sleep is a mercy from Allah that allows us to come back stronger and more refreshed, ready to face the challenges of the next day.

Allah is reminding us to appreciate the simple things in life, like sleep, and to recognize His kindness and wisdom in creating something so essential for our well-being.

Allah has designed sleep as a natural mechanism to help us recover from the physical and mental exhaustion of the day. During sleep, our bodies repair and regenerate tissues, build bone and muscle, and strengthen our immune systems.

What about when we have trouble sleeping? What can we do then?

Ah, that's a great question! When we have trouble sleeping, it can be frustrating and affect our daily lives. In that case, we can try to establish a relaxing bedtime routine, avoid screens before bedtime, and even recite some Quranic verses or prayers to help us relax.

**Now Discuss* 

*The Purpose of Sleep*

Sleep is not just a physical necessity, but also a spiritual one. Allah has designed sleep as a way for our bodies to rest and recharge, 

*The Benefits of Sleep*

Sleep has numerous benefits for our physical and mental health. During sleep, our bodies repair and regenerate tissues, build bone and muscle, and strengthen our immune systems. Sleep also helps us to process and consolidate memories, and to regulate our emotions.

*Establishing a Healthy Sleep Routine*

So, how can we make the most of this gift of sleep? First, we need to establish a healthy sleep routine. This means going to bed and waking up at the same time every day, including weekends. It also means creating a sleep-conducive environment, such as keeping the bedroom cool, dark, and quiet.

*Avoiding Sleep Disturbances*

 We should also avoid things that can disturb our sleep, such as  electronic screens before bedtime. We should also try to avoid stimulating activities before bedtime, such as exercise or watching exciting movies.

*Reciting Quranic Verses Before Sleep*

Another way to make the most of our sleep is to recite Quranic verses before bedtime. This can help us to relax and to prepare our minds and hearts for sleep. Some recommended verses include Surah Al-Fatihah, Surah Al-Ikhlas, and Surah Al-Mu'minoon.Making Du'a Before Sleep* Finally, we should make du'a before sleep, asking Allah to protect us from harm and to grant us a restful sleep. We can say a simple du'a, such as (O Allah, I ask You for the best of this life and the best of the Hereafter).

By following these tips and making sleep a priority, we can make the most of this gift from Allah and wake up feeling refreshed, and ready to take on the day.

So, let's all take a moment to appreciate the gift of sleep. Let's make sure to get enough rest and take care of our bodies, so we can be strong and healthy to serve Allah and our communities.

Sunday, January 19, 2025

ZarThoughts

 


ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute 

Start with the name of Allah the most benificient the most Merciful

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ (1

About what are they asking

[1]Nothing is hidden from Allah Almighty. Here, due to the greatness of the matter, it has been mentioned in question format.

[2]When the Prophet صَلَّى الـلّٰـهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم invited the disbelievers of Makkah to the Oneness of Allah Almighty, informed them about being resurrected / reborn after death and recited the Quran to them, they began asking one another (whilst conversing): “What kind of religion has Muhammad صَلَّى الـلّٰـهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم brought?” Their mutual conversation has been mentioned here.

Saturday, January 11, 2025

ZarThoughts

ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute 

رب سے جڑنے کا سفر 

اس دنیا سے جاؤ گے تو ایک عجیب واقعہ ہوگا۔۔!!

یا تو تم ایک قیدخانے سے چھوٹو گے 

اور اپنے سامنے کھلی فضا پاؤ گے۔۔!!

یا پھر ابھی تم آزاد پھرتے ہو 

اور یہاں سے نکلتے ہی ایک قید خانے میں چلے جاؤ گے..!!

ایک قید ضروری ہے خواہ یہاں کاٹ لو یا وہاں۔۔!!

یہاں عمل اور بندگی کی قید ہے 

یہ چند دنوں کی بات ہے..!!

وہاں بےبسی اور جہنم کی قید ہے 

البتہ وہاں کے دن بہت لمبے (اور نہ ختم ہونے والے) ہیں...!!

چاہو تو یہاں کاٹ جاؤ 

اور چاہو تو وہاں جہاں کٹے گی نہیں 

مرضی کا سودا ہے !

جو قید کاٹ سکنے کی سکت رکھتے ہو 

وہ قبول کر لو۔۔!!

 

Friday, January 10, 2025

ZarThoughts

امت کی تاریخ سن کر انسان حیران ہوجاتاہے کہ مومن مرد اور مٶمن عورتیں علم کے ہنر پر مزئن اور خوبصورت ہوا کرتے تھے اور ان کی زندگی جہاد میں گزرتی تھی ۔ لیکن أج کے دن یہ نوجوان پھر ناچ گانے،ڈانس نے مصروف کٸے ھیں۔انہوں نے گزرے ہوۓ امت کے شہسواروں کو بھولا دیا۔امت کے ان کمانڈروں اور شہسواروں کو بھولا دیا جن کے نام سن کر کفاااار پر رعب اور وحشت طاری ھوا کرتا تھا۔اسوقت کے شہسواروں کے بچے بچپن سے ہی گھڑ سواری ،نیزہ بازی اور تیراندازی سیکھتے تھے۔اسوقت مساجد میں جہاد کی فضیلت اور اہمیت بیان کی جاتی تھی ۔اسوقت کی ماٸیں اور بہنیں اپنے بیٹوں اور بھاٸیوں کی شھادت کی خبر سن کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج کے نوجوانوں میں مال بڑھانے کی فکر بڑھ چکی ہیں۔ حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہی ۔ آج کل معاشرے میں آن لاٸن کے نام پر بہت سے نوجوان طبقہ سود میں مبتلا ہےکوٸی جوا کھیل رھے ہیں تو کوٸی نازیبا اور فضول ویڈیوز کو نشر کرتے ہیں۔ نوجوانوں خدا را اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔

Monday, January 6, 2025

نفس انسانی کی تین حالتیں ZarThoughts

*🔮نفس انسانی کی تین حالتیں🔮* *1۔ نفس مطمئنہ۔* ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27) يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ *نفس مطمئنہ :* جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے *2۔ نفس لوّامہ* ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2) وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ *نفس لوامہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟ *3۔ نفس امّارہ۔* گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53) وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ *نفس امارہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے ۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ نفس کی الگ الگ تین قسمیں نہیں بلک ایک ہی نفس کی مختلف کیفیات وصفات ہیں۔ چنانچہ نفس امارہ ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت وغضب کے وقت عقل وشرع کے حکم پر غلبہ کرتا ہے۔ لوامہ ہونا بھی ہر نفس کی صفت ہے جس وقت وہ عقل وشرع کی طرف توجہ کرتا ہے اور خیر وشر کے درمیان فرق و پہچان کرتا ہے۔ اور مطمئنہ بھی ہر نفس کی صفت ہے مگر یہ صفت اور کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر کا نور بدن کے تمام اجزاء پر غالب ہوجاتا ہے *نفس امارہ :* قرآن کریم میں نفس کا لفظ تین مختلف معنوں میں آیا ہے، ایک تو یہاں نفس امارہ کے معنوں میں یعنی وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس کو حیوانیت کا نام دیتے ہیں کہ انسان کے اندر نفس امارہ ہے جو انسان کو جانوروں والی حیوانیت اور سفاکیت پر ابھارتا ہے۔

Saturday, January 4, 2025

ZarThoughts سماجی تعلقات کے اصول

🔮 *سماجی تعلقات کے اصول:* 🔮 1. **متواتر کالز نہ کریں:* اگر کوئی شخص ایک یا دو بار میں آپ کی کال کا جواب نہیں دیتا، تو فرض کر لیں کہ وہ مصروف ہے۔ 2. **قرض واپس کریں:* جو پیسے یا چیزیں آپ نے قرض لی ہیں، انہیں وقت پر واپس کریں۔ یہ آپ کی دیانت داری اور کردار کی علامت ہے۔ 3. **کھانے کی دعوت:* جب کوئی آپ کو کھانے پر مدعو کرے، تو کبھی سب سے مہنگا آئٹم نہ مانگیں۔ 4. **ناپسندیدہ سوالات سے گریز کریں:** کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں جیسے شادی، بچے، یا مالی حالات پر سوالات کرنا۔ 5. **دروازہ کھولنا:** ہمیشہ اپنے پیچھے آنے والے شخص کے لیے دروازہ کھولیں، یہ عمر یا جنس سے بالاتر ہے۔ 6. **اگلے موقع پر ادائیگی کریں:** اگر آپ کے دوست نے ٹیکسی کا کرایہ دیا ہے، تو اگلی بار آپ ادائیگی کریں۔ 7. **آراء کا احترام کریں:** دوسرے لوگوں کی آراء کا احترام کریں، کیونکہ ہر شخص کی دنیا کو دیکھنے کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔ 8. **بات نہ کاٹیں:** جب کوئی بات کر رہا ہو تو اسے مکمل طور پر سنیں، پھر اپنی رائے دیں۔ 9. **گفتگو کے دوران توجہ دیں:** اگر کسی کو آپ کی بات میں دلچسپی نہیں ہے، تو اپنی گفتگو کو جاری رکھنے کے بجائے اسے ختم کریں۔ 10. **شکریہ کہنا:** جب کوئی آپ کی مدد کرے، تو شکریہ ادا کریں۔ 11. **تعریف اور تنقید:** لوگوں کی تعریف عوام میں کریں اور تنقید نجی طور پر کریں۔ 12. **وزن یا ظاہری شکل پر تبصرہ نہ کریں:** کسی کے وزن یا جسمانی حالت پر بات نہ کریں، بلکہ ان کی مثبت خصوصیات پر توجہ دیں۔ 13. **کسی کی تصاویر مت کھینچے:** اگر کوئی آپ کو اپنے فون پر کچھ دکھاتا ہے، تو دوسری تصاویر یا ڈاکومنٹس پر نہ جائیں۔ 14. **ذاتی سوالات سے گریز کریں:** اگر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ اس کا ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ہے، تو مقصد مت پوچھیں۔ 15. **ہر ایک سے عزت سے پیش آئیں:** صفائی کرنے والے یا کسی بھی پیشے کے فرد کے ساتھ اسی عزت سے پیش آئیں جس سے آپ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ 16. **موبائل فون کا استعمال:** اگر آپ سے کوئی براہ راست بات کر رہا ہے، تو موبائل فون کا استعمال نہ کریں۔ 17. **مشورہ دینا:** مشورہ صرف اس وقت دیں جب آپ سے پوچھا جائے۔ 18. **ذاتی معلومات:** کسی شخص سے ذاتی معلومات جیسے عمر یا تنخواہ کے بارے میں نہ پوچھیں، جب تک وہ خود بات نہ کرے۔ 19. **اپنے معاملات تک محدود رہیں:** دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔ 20. **احترام کا اظہار:** جب آپ کسی سے بات کریں، تو اپنی آنکھوں سے رابطہ قائم کریں اور احترام کا مظاہرہ کریں۔ 21. **دولت کا ذکر نہ کریں:** اپنی دولت کے بارے میں لوگوں کے سامنے بات نہ کریں جو کم خوشحال ہوں۔ 22. **تعریف کریں:** لوگوں کو پسندیدگی اور احترام کے ساتھ پیش آئیں، کیونکہ یہ دل جیتنے کا بہترین طریقہ ہے.

Friday, January 3, 2025

ZarThoughts Motivational Thoughts

*اپنے یقین کو مدھم نہ پڑنے دو، تم اللّٰه کو وہاں پاتے ہو جہاں سب چھوڑ جاتے ہیں۔ جب سب راستے بند ہو جائیں تو وہ اچانک آسانیاں بھیج دیتا ہے۔ جب راہیں تاریک ہوں تو کہیں سے جگنو امید تھامے آ ہی جاتا ہے۔ انسان کی سوچ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں سے وہ اچانک اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ پس تھام لو اسے اور تھامے رکھو۔ پھر دیکھو تمھارے حصے کی سحر طلوع ہو کر رہے گی۔* ان شاء اللّٰه 🌸

Thursday, January 2, 2025

برکت کیا یے؟؟ZarThoughts Story

*برکت صرف پیسوں کی کثرت میں نہیں ھوتی،* برکات یہ بھی ھیں کہ ایک مہینہ، دو یا تین ماہ گزر جائیں اور تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے، کیونکہ اللہ نے تمہاری صحت میں برکت دی ھو۔ برکت یہ ھے کہ موسم، دو یا تین بدل جائیں اور تمہیں نیا لباس لینے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ تمہارا جسم ویسا ھی رھے اور اللہ نے تمہارے لباس اور جسمانی حالت میں برکت رکھی ھو، کہ نہ لباس پھٹے اور نہ خراب ھو۔ برکت یہ ھے کہ تم تھوڑا کھانا کھاؤ اور سیر ہو جاؤ۔ برکت یہ ہے کہ تم کم سو کر بھی تروتازہ اٹھو۔ برکت یہ ھے کہ تم کوئی نئی بات سیکھو اور فوراً سمجھ جاؤ، بغیر کسی کی مدد کے۔ برکت یہ ھے کہ تم ایسی جگہ جاؤ جہاں رش ھو اور تاخیر کا اندیشہ ھو، لیکن اللہ تمہارے معاملات آسان کر دے، بغیر تمہاری کوشش کے۔ برکت یہ ھے کہ تم جہاں بھی جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں، بغیر کسی اضافی محنت کے۔ برکت بے شمار چیزوں میں ھوتی ھے جنہیں گنا نہیں جا سکتا، مگر ھم خود ھی اپنی سوچ کو محدود کر لیتے ھیں۔ یا اللہ پاک عزوجل! جو تُو نے ھمیں عطا کیا ھے، اس میں برکت و رحمت عطا فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ، یہ امت انٹرنیٹ پہ فدا ہو گئی ۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء یوں ہی قضا ہو گئی ۔ یا الله غریب رکھ یا امیر رکھ ، بس اپنے قریب رکھ ، میں تیرے علاوہ کسی کا محتاج نہ بنوں ، *بس ایسا میرا نصیب رکھ ..* *آمین ثم آمین یا رب العالمین ،*

Tuesday, December 31, 2024

Motivational Story

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شاندار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں جو جوتا پہنیں وہ کسی دوسرے کے پاس نہ ہو‘ شہر کی سب سے لمبی‘ مہنگی اور شاندار گاڑی ہمارے پاس ہونی چاہئے‘ملک کا‘ شہر کا اور محلے کا سب سے بڑا اور مہنگا گھر ہمارا ہونا چاہئے‘ شہر کی سب سے خوبصورت لڑکی ہماری بیوی ہونی چاہئے‘ ہمارے بچے شہر کے تمام بچوں سے خوبصورت ہونے چاہئیں‘ ہم ملک کی سب سے بڑی نوکری حاصل کریں اور ہم جب کاروبار میں قدم رکھیں تو وہ تیزی سے ترقی کرے اور لوگ ہمارے نام‘ ہماری شکل سے واقف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب ایک مختلف انسان تھے‘ وہ ایک ’’ایوریج‘‘ زندگی گزارنا چاہتے تھے‘ وہ کسی امتحان میں ٹاپ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے تھے‘ وہ رٹے لگاتے تھے‘ اساتذہ سے نمبر حاصل کرنے کیلئے تعلقات بڑھاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت صرف دو تین گھنٹے پڑھتے تھے‘ یہ امتحان کے دنوں میں بھی رات کو نیند پوری کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا میں صرف زیادہ نمبر لینے کیلئے اپنی نیند قربان نہیں کر سکتا‘ یہ لمبی تان کر سوتے تھے اور ان کی اس درویشی کو ان کے ساتھی بے حسی اور بے وقوفی قرار دیتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب خوش تھے‘ انہوں نے اس عالم میں درمیانے درجے کے نمبر لے کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ یہ ڈاکٹر بن گئے ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے تمام ساتھی‘ تمام کلاس فیلوز سپیشلائزین میں جت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے مزید پڑھنے سے انکار کر دیا‘یہ چھوٹے سے ہسپتال میں فزیشن بھرتی ہو گئے اور سرکاری تنخواہ پر گزارا کرنے لگے‘ ان کے ساتھی ہسپتال سے واپس آ کر بمشکل لنچ کرتے تھے‘ سہ پہر کو پرائیویٹ پریکٹس میں لگ جاتے تھے اور رات گئے تک نوٹ بنانے میں لگے رہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب ہسپتال سے واپس آ کر آرام کرتے تھے‘ شام کو جاگنگ کرتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ میوزک سنتے تھے‘ دوستوں سے ملتے تھےاور اس دوران اگر کوئی مریض آ جاتا تھا تو یہ اس کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ ان دنوں اپنی آمدنی میں اضافے کے بارے میں بھی ہرگز ہر گز نہیں سوچتے تھے‘ یہ اپنی تنخواہ میں مزے کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے‘ ان کا چھوٹاسا گھرتھا‘ گھر میں اے سی نہیں تھا‘ ان کے پاس چھوٹا سا فریج تھا اور یہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے‘ یہ ان سہولتوں کو اپنے لئے کافی سمجھتے تھے‘ انہوں نے زندگی کو ان چیزوں سے آگے نہیں دیکھا تھا۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی شادی کا وقت آ گیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملے میں بھی ’’میانہ روی‘‘ اختیار کی‘ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی ‘تمام دوست اور تمام کلاس فیلو سب سے اچھی‘ سب سے خوبصورت لڑکی اور سب سے اچھا خاندان کے چکر میں تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایک واجبی شکل و صورت کی عام سی لڑکی منتخب کی اور اس کے ساتھ شادی کر لی‘ یہ دونوں میاں بیوی اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہنے لگےبعدازاں بچے پیدا ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب ان بچوں کیلئے بھی بڑے سکولوں اور اعلیٰ ترین تعلیم کے پیچھے نہیں بھاگے‘ انہوں نے بچوں کو عام سے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا کیونکہ یہ پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرتے تھے چنانچہ شام کے وقت ان کے پاس ٹھیک ٹھاک وقت ہوتا تھا لہٰذا یہ بچوں کو خود پڑھا لیتے‘ ان کے بچے بھی زیادہ ذہین نہیں تھے‘ یہ درمیانے درجوں میں پاس ہوتے تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو کبھی ٹاپ کرنے یا اول پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دی‘یہ بس انہیں پاس ہونے اور تعلیم مکمل کرنے کا سبق دیتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کے بچے بھی اس اپروچ کے ساتھ خوش تھے کیونکہ وہ سکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے تھے‘ آرام کرتے تھے‘ شام کو کھیلتے تھے‘ تھوڑا سا پڑھتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے اور سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ واک کرتے تھے اور بس ۔ وہ بچے ٹاپ کی ریس سے الگ تھے چنانچہ ان کے پاس بھی خوش رہنے اور مطمئن رہنے کے بے شمار بہانے تھےلیکن آپ ہر گز ہر گز یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ یہ کہانی اسی طرح چلے گی۔ اس کہانی میں ایک بہت دلچسپ ٹرن آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دن سوچا انہیں ملک سے باہر جانا چاہئے‘ اس وقت ان کے کولیگز‘ ان کے دوست بڑے بڑے ملکوں کی طرف جا رہے تھے‘ کوئی امریکی سفارتخانے کے سامنے قطار میں لگا تھا‘ کوئی برطانیہ جانے کے منصوبے بنا رہا تھا‘ کسی نے کینیڈا اور آسٹریلیا کی امیگریشن کیلئے اپلائی کر رکھا تھالیکن ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں کوئی پاکستانی ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے پورے خاندان کے ساتھ مالدیپ چلے گئے‘ انہیں مالدیپ کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں جاب مل گئی اور یہ فیملی سمیت مالدیپ شفٹ ہو گئے۔ وہاں بھی انہوں نے خاندان بھر کو سائیکلیں لے کر دیں اور یہ سارا خاندان مالدیپ کے قدرتی حسن کو انجوانے کرنے لگا‘ بچے سکول میں درمیانے درجے کے طالب علموں کی طرح پڑھتے‘بیگم صاحبہ منڈی سے سبزیاں‘ پھل اور اناج خریدیتیں اور سارا خاندان شام کو واک کرتا‘ قہقہے لگاتا اور زندگی کو بھر پور طریقے سے انجوائے کرتا‘ یہ لوگ ویک اینڈ مناتے اور خوب موج مستی بھی کرتے‘ ان کیلئے زندگی واقعی خوبصورت نعمت تھی اور انہوں نے مالدیپ کے دنوں کو بھر پور طریقے سے گزارا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا۔ انہوں نے ایک دن اخبار میں پڑھا آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک فزیشن کی ضرورت ہے‘آسٹریلوی حکومت کو اس پوسٹ کیلئے ایک ایسا ڈاکٹر چاہئے جو محض ڈاکٹر ہو اوراس نے کسی قسم کی سپیشلائزیشن نہ کر رکھی ہو۔ یہ آسٹریلیا کی ایک غیر معروف جگہ تھی لہٰذا وہاں کوئی نہیں جاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بھیڑ چال میں چلنے والے شخص نہیں تھے‘ یہ درمیان میں رہنے والے ایک ایسے معتدل شخص تھے جنہوں نے کبھی اول آنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی چنانچہ انہوں نے اس جاب کیلئے اپلائی کر دیا‘یہ اس علاقے کے پہلے فارنر ڈاکٹر تھے‘ علاقے کے لوگ اور مقامی انتظامیہ ان کے ٹیلنٹ سے متاثر ہوئی اور انہوں نے انہیں پورے علاقے کے ہسپتالوں کا انچارج بنا دیا‘ یہ پانچ ہندسوں میں تنخواہ لینے لگے‘ حکومت نے انہیں دو ہزار ایکڑ زمین بھی دے دی‘ انہوں نے اس زمین میں فارم بنا لیا‘ یہ فارم ان کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا. اور یہ چند برسوں میں اس علاقے کے امیر ترین شخص بن گئے اور آج ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی ہیں‘یہ ہیلی کاپٹر کے مالک بھی ہیں‘ ان کے پاس ایکڑوں پر محیط گھر بھی ہے اور اس گھر میں آبشاریں اور ندیاں بھی ہیں اور ان کا بینک بیلنس بھی ہے لیکن یہ اس کے باوجود ایک ایوریج زندگی گزار رہے ہیں‘یہ دوپہر کو آرام کرتے ہیں‘ سہ پہر کے وقت بچوں کے ساتھ جاگنگ کرتے ہیں‘ شام کو ٹی وی دیکھتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے ہیں‘ میوزک سنتے ہیں‘ دوستوں کے ساتھ گپ لگاتے ہیں اور گولیوں کے بغیر صبح شام گزارتے ہیں اور آج ان کے وہ تمام کلا س فیلوز ‘ وہ تمام ساتھی سکھ‘ خوشی‘ اطمینان‘ صحت‘ دولت‘ کامیابی اور کامرانی میں ان سے بہت پیچھے ہیں‘ جو کبھی راتوں کو جاگ جاگ کر رٹے لگاتے تھے‘ جو اول آنے کی دوڑ میں اپنی آنکھیں سرخ کر لیتے تھے‘ جو بڑے فریج‘ بڑی گاڑی‘ بڑے گھر‘ بڑے بینک بیلنس اور واہ جی واہ کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے‘ جو ہسپتال جاتے تھے‘ شام کو کلینک کرتے تھے اور دواؤں سے پیسے کھاتے تھےاور جنہوں نے میڈیکل کے پروفیشن کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن’’ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے‘‘ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب دنیاوی کاموں میں بھی ان سے آگے نکل گئے‘ ان کے ساتھیوں کی وہ بیگمات جن کیلئے انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا‘ وہ بیمار‘ بوڑھی اور بدصورت ہو گئیں لیکن ان کی بیگم بوڑی ہو کر بھی ایوریج رہی‘ ان کے ساتھیوں کے وہ بچے جن کی تعلیم کیلئے انہوں نے بڑے بڑے پاپڑ بیلے تھےوہ سب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کو چھوڑ کرچلے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کے ایوریج بچے آج بھی ان کے ساتھ ہیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی بھی خوشیوں سے بھرپور تھا‘ حال بھی اور مستقبل بھی۔ہمارے پاس ٹاپ کی دوڑ کے علاوہ بھی ایک راستہ ہوتا ہے‘ اعتدال کا راستہ‘ ایوریج زندگی کا راستہ اور درمیان کا راستہ اور یہ وہ راستہ ہوتا ہے جس میں خوشیاں ہوتی ہیں لیکن ہم لوگ ٹاپ کی دوڑ میں لگ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں‘ہم اپنے ماضی‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل تینوں کو زہریلا کر لیتے ہیں اور آخر میں جا کر ہمیں اچانک محسوس ہوتا ہے ٹاپ کی اس دوڑ میں ہمارے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا‘ ہم تو بیلنس شیٹ کے سوا زندگی سے کچھ نہیں کما سکے۔ کاش ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کی طرح سوچیں‘ ہم خوشی کو کامیابی پر فوقیت دیں‘ ہم درمیان کا راستہ منتخب کرلیں...

Motivational Story

"وضو کرتے وقت غفلت میں نہ رہیں" یہ ایک خوبصورت نصیحت ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو وضو کرتے وقت ہنستے، باتیں کرتے یا دوسروں کی برائی کرتے ہیں۔ وضو کی اہمیت اور روحانی پہلو: ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: "تم وضو کیسے کرتے ہو؟" میں نے بے دلی سے جواب دیا: "جیسا سب کرتے ہیں!" وہ مسکرایا اور بولا: "اور لوگ کیسے وضو کرتے ہیں؟" میں نے کہا: "جیسا تم کرتے ہو!" اس نے کہا: "یہ غلط ہے۔ میں وضو کرتے وقت ایک خاص روحانی حالت میں ہوتا ہوں۔ مجھے وضو میں خوشی اور لطف محسوس ہوتا ہے، اس کے ساتھ حلاوت، خوبصورتی اور سکون ملتا ہے۔ یہ سب مجھے نماز میں زیادہ خشوع عطا کرتا ہے۔" وضو کی روحانی تاثیر: اس نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ یاد دلائی: "جب کوئی مومن وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے، تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، حتیٰ کہ وہ پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے، تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا ہو، حتیٰ کہ وہ بھی پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے ان سے چل کر کیا ہو، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔" (صحیح مسلم) وضو کو نور بنائیں: دوست نے کہا: "اس حدیث کو غور سے دیکھو، تمہیں وضو میں لذت اور خوشی محسوس ہوگی۔ وضو کا پانی تمہارے جسم کو نہیں بلکہ تمہارے دل کو بھی صاف کر رہا ہے۔" میں نے کہا: "سبحان اللہ! یہ بات میرے ذہن میں کیوں نہ آئی؟ میں نے ہمیشہ وضو کو ایک معمولی عمل سمجھا۔ بس اعضا دھو کر فارغ ہو جاتا تھا، مگر روحانی تاثیر کو کبھی محسوس نہ کیا۔" دوست نے کہا: "جب تم وضو کرتے وقت دل کو حاضر کرو گے، تو یہ تمہیں اللہ کے قریب کر دے گا۔ تمہارا دل روحانی معانی سے بھر جائے گا اور یہ نماز کے لیے بہترین تیاری ہوگی۔" وضو کو عادت بنائیں: میں نے جواب دیا: "یہ تو مجھے ہر نماز سے پہلے وضو کرنے کی ترغیب دے رہا ہے، چاہے میرا وضو قائم ہی کیوں نہ ہو۔" دوست نے مسکراتے ہوئے کہا: "یہی بات! وضو کو ہمیشہ برقرار رکھو۔ ہر بار جب گھر سے باہر نکلو تو وضو کرو تاکہ زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ایک پاک دل کے ساتھ کر سکو۔"💞💞

Monday, December 30, 2024

ZarThought's Motivational Story

*”بل (Bill) کیا ہوتا ہے امی؟“* آٹھ سال کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ ماں نے اسے سمجھایا، جب ہم کسی سے کوئی سامان خریدتے ہیں یا کوئی کام کرواتے ہیں تو وہ اس سامان یا کام کے بدلے میں ہم سے پیسے لیتا ہے اور ہم کو اس سامان یا کام کی لسٹ بنا کر دیتا ہے، اسی کو ہم بل کہتے ہیں۔ بچے کو ماں کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ رات کو سونے سے پہلے اس نے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پیپر رکھا جس میں اسی دن کا حساب لکھا ہوا تھا: دوکان سے سامان لا کر دیا *پانچ روپے* بابا کی بائیک صاف کر کے باہر نکالی *پانچ روپے* دادا جی کا سر دبایا *دس روپے* دادی امی کی چابیاں ڈھونڈ کر دی *دس روپے* ٹوٹل ہوا تیس روپے۔ یہ صرف آج کا بل ہے، اس کو آج ہی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ صبح جب بچہ اٹھا تو اس کے تکیے کے نیچے تیس روپے رکھے ہوئے تھے۔ وہ انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ تو بہت اچھا کام ہو گیا۔ تبھی اس کی نظر ساتھ رکھے کاغذ پر پڑی۔ اس کی امی نے لکھا تھا: پیدائش سے لے کر آج تک پالا پوسا *معاوضہ صفر* بیمار ہونے پر ساری ساری رات سینے سے لگا کر گھمایا، بہلایا *معاوضہ صفر* اسکول بھیجنا اور ہوم ورک کروانا *معاوضہ صفر* صبح سے رات تک کھلانا، پلانا، کپڑے تبدیل کروانا، استری کرنا *معاوضہ صفر* حد سے زیادہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنا *معاوضہ صفر* یہ اب تک کا پورا بل ہے۔ اس کی جب بھی قیمت ادا کرنا چاہو، کر دینا۔ بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سیدھا جا کر اپنی ماں کے پاؤں پر جھک گیا اور بہت مشکل سے روتے ہوئے کہنے لگا: آپ کے بل میں تو قیمت لکھی ہی نہیں ہے امی۔ یہ تو *انمول* ہے۔ اس کی *قیمت* تو میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکوں گا، مجھے معاف کر دیں پیاری امی۔ امی نے ہنستے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ *نوٹ:* یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں۔

Sunday, December 29, 2024

ZarThought's Stories

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شاندار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں جو جوتا پہنیں وہ کسی دوسرے کے پاس نہ ہو‘ شہر کی سب سے لمبی‘ مہنگی اور شاندار گاڑی ہمارے پاس ہونی چاہئے‘ملک کا‘ شہر کا اور محلے کا سب سے بڑا اور مہنگا گھر ہمارا ہونا چاہئے‘ شہر کی سب سے خوبصورت لڑکی ہماری بیوی ہونی چاہئے‘ ہمارے بچے شہر کے تمام بچوں سے خوبصورت ہونے چاہئیں‘ ہم ملک کی سب سے بڑی نوکری حاصل کریں اور ہم جب کاروبار میں قدم رکھیں تو وہ تیزی سے ترقی کرے اور لوگ ہمارے نام‘ ہماری شکل سے واقف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب ایک مختلف انسان تھے‘ وہ ایک ’’ایوریج‘‘ زندگی گزارنا چاہتے تھے‘ وہ کسی امتحان میں ٹاپ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے تھے‘ وہ رٹے لگاتے تھے‘ اساتذہ سے نمبر حاصل کرنے کیلئے تعلقات بڑھاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت صرف دو تین گھنٹے پڑھتے تھے‘ یہ امتحان کے دنوں میں بھی رات کو نیند پوری کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا میں صرف زیادہ نمبر لینے کیلئے اپنی نیند قربان نہیں کر سکتا‘ یہ لمبی تان کر سوتے تھے اور ان کی اس درویشی کو ان کے ساتھی بے حسی اور بے وقوفی قرار دیتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب خوش تھے‘ انہوں نے اس عالم میں درمیانے درجے کے نمبر لے کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ یہ ڈاکٹر بن گئے ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے تمام ساتھی‘ تمام کلاس فیلوز سپیشلائزین میں جت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے مزید پڑھنے سے انکار کر دیا‘یہ چھوٹے سے ہسپتال میں فزیشن بھرتی ہو گئے اور سرکاری تنخواہ پر گزارا کرنے لگے‘ ان کے ساتھی ہسپتال سے واپس آ کر بمشکل لنچ کرتے تھے‘ سہ پہر کو پرائیویٹ پریکٹس میں لگ جاتے تھے اور رات گئے تک نوٹ بنانے میں لگے رہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب ہسپتال سے واپس آ کر آرام کرتے تھے‘ شام کو جاگنگ کرتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ میوزک سنتے تھے‘ دوستوں سے ملتے تھےاور اس دوران اگر کوئی مریض آ جاتا تھا تو یہ اس کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ ان دنوں اپنی آمدنی میں اضافے کے بارے میں بھی ہرگز ہر گز نہیں سوچتے تھے‘ یہ اپنی تنخواہ میں مزے کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے‘ ان کا چھوٹاسا گھرتھا‘ گھر میں اے سی نہیں تھا‘ ان کے پاس چھوٹا سا فریج تھا اور یہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے‘ یہ ان سہولتوں کو اپنے لئے کافی سمجھتے تھے‘ انہوں نے زندگی کو ان چیزوں سے آگے نہیں دیکھا تھا۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی شادی کا وقت آ گیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملے میں بھی ’’میانہ روی‘‘ اختیار کی‘ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی ‘تمام دوست اور تمام کلاس فیلو سب سے اچھی‘ سب سے خوبصورت لڑکی اور سب سے اچھا خاندان کے چکر میں تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایک واجبی شکل و صورت کی عام سی لڑکی منتخب کی اور اس کے ساتھ شادی کر لی‘ یہ دونوں میاں بیوی اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہنے لگےبعدازاں بچے پیدا ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب ان بچوں کیلئے بھی بڑے سکولوں اور اعلیٰ ترین تعلیم کے پیچھے نہیں بھاگے‘ انہوں نے بچوں کو عام سے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا کیونکہ یہ پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرتے تھے چنانچہ شام کے وقت ان کے پاس ٹھیک ٹھاک وقت ہوتا تھا لہٰذا یہ بچوں کو خود پڑھا لیتے‘ ان کے بچے بھی زیادہ ذہین نہیں تھے‘ یہ درمیانے درجوں میں پاس ہوتے تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو کبھی ٹاپ کرنے یا اول پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دی‘یہ بس انہیں پاس ہونے اور تعلیم مکمل کرنے کا سبق دیتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کے بچے بھی اس اپروچ کے ساتھ خوش تھے کیونکہ وہ سکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے تھے‘ آرام کرتے تھے‘ شام کو کھیلتے تھے‘ تھوڑا سا پڑھتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے اور سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ واک کرتے تھے اور بس ۔ وہ بچے ٹاپ کی ریس سے الگ تھے چنانچہ ان کے پاس بھی خوش رہنے اور مطمئن رہنے کے بے شمار بہانے تھےلیکن آپ ہر گز ہر گز یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ یہ کہانی اسی طرح چلے گی۔ اس کہانی میں ایک بہت دلچسپ ٹرن آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دن سوچا انہیں ملک سے باہر جانا چاہئے‘ اس وقت ان کے کولیگز‘ ان کے دوست بڑے بڑے ملکوں کی طرف جا رہے تھے‘ کوئی امریکی سفارتخانے کے سامنے قطار میں لگا تھا‘ کوئی برطانیہ جانے کے منصوبے بنا رہا تھا‘ کسی نے کینیڈا اور آسٹریلیا کی امیگریشن کیلئے اپلائی کر رکھا تھالیکن ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں کوئی پاکستانی ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے پورے خاندان کے ساتھ مالدیپ چلے گئے‘ انہیں مالدیپ کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں جاب مل گئی اور یہ فیملی سمیت مالدیپ شفٹ ہو گئے۔ وہاں بھی انہوں نے خاندان بھر کو سائیکلیں لے کر دیں اور یہ سارا خاندان مالدیپ کے قدرتی حسن کو انجوانے کرنے لگا‘ بچے سکول میں درمیانے درجے کے طالب علموں کی طرح پڑھتے‘بیگم صاحبہ منڈی سے سبزیاں‘ پھل اور اناج خریدیتیں اور سارا خاندان شام کو واک کرتا‘ قہقہے لگاتا اور زندگی کو بھر پور طریقے سے انجوائے کرتا‘ یہ لوگ ویک اینڈ مناتے اور خوب موج مستی بھی کرتے‘ ان کیلئے زندگی واقعی خوبصورت نعمت تھی اور انہوں نے مالدیپ کے دنوں کو بھر پور طریقے سے گزارا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا۔ انہوں نے ایک دن اخبار میں پڑھا آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک فزیشن کی ضرورت ہے‘آسٹریلوی حکومت کو اس پوسٹ کیلئے ایک ایسا ڈاکٹر چاہئے جو محض ڈاکٹر ہو اوراس نے کسی قسم کی سپیشلائزیشن نہ کر رکھی ہو۔ یہ آسٹریلیا کی ایک غیر معروف جگہ تھی لہٰذا وہاں کوئی نہیں جاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بھیڑ چال میں چلنے والے شخص نہیں تھے‘ یہ درمیان میں رہنے والے ایک ایسے معتدل شخص تھے جنہوں نے کبھی اول آنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی چنانچہ انہوں نے اس جاب کیلئے اپلائی کر دیا‘یہ اس علاقے کے پہلے فارنر ڈاکٹر تھے‘ علاقے کے لوگ اور مقامی انتظامیہ ان کے ٹیلنٹ سے متاثر ہوئی اور انہوں نے انہیں پورے علاقے کے ہسپتالوں کا انچارج بنا دیا‘ یہ پانچ ہندسوں میں تنخواہ لینے لگے‘ حکومت نے انہیں دو ہزار ایکڑ زمین بھی دے دی‘ انہوں نے اس زمین میں فارم بنا لیا‘ یہ فارم ان کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا. اور یہ چند برسوں میں اس علاقے کے امیر ترین شخص بن گئے اور آج ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی ہیں‘یہ ہیلی کاپٹر کے مالک بھی ہیں‘ ان کے پاس ایکڑوں پر محیط گھر بھی ہے اور اس گھر میں آبشاریں اور ندیاں بھی ہیں اور ان کا بینک بیلنس بھی ہے لیکن یہ اس کے باوجود ایک ایوریج زندگی گزار رہے ہیں‘یہ دوپہر کو آرام کرتے ہیں‘ سہ پہر کے وقت بچوں کے ساتھ جاگنگ کرتے ہیں‘ شام کو ٹی وی دیکھتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے ہیں‘ میوزک سنتے ہیں‘ دوستوں کے ساتھ گپ لگاتے ہیں اور گولیوں کے بغیر صبح شام گزارتے ہیں اور آج ان کے وہ تمام کلا س فیلوز ‘ وہ تمام ساتھی سکھ‘ خوشی‘ اطمینان‘ صحت‘ دولت‘ کامیابی اور کامرانی میں ان سے بہت پیچھے ہیں‘ جو کبھی راتوں کو جاگ جاگ کر رٹے لگاتے تھے‘ جو اول آنے کی دوڑ میں اپنی آنکھیں سرخ کر لیتے تھے‘ جو بڑے فریج‘ بڑی گاڑی‘ بڑے گھر‘ بڑے بینک بیلنس اور واہ جی واہ کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے‘ جو ہسپتال جاتے تھے‘ شام کو کلینک کرتے تھے اور دواؤں سے پیسے کھاتے تھےاور جنہوں نے میڈیکل کے پروفیشن کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن’’ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے‘‘ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب دنیاوی کاموں میں بھی ان سے آگے نکل گئے‘ ان کے ساتھیوں کی وہ بیگمات جن کیلئے انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا‘ وہ بیمار‘ بوڑھی اور بدصورت ہو گئیں لیکن ان کی بیگم بوڑی ہو کر بھی ایوریج رہی‘ ان کے ساتھیوں کے وہ بچے جن کی تعلیم کیلئے انہوں نے بڑے بڑے پاپڑ بیلے تھےوہ سب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کو چھوڑ کرچلے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کے ایوریج بچے آج بھی ان کے ساتھ ہیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی بھی خوشیوں سے بھرپور تھا‘ حال بھی اور مستقبل بھی۔ہمارے پاس ٹاپ کی دوڑ کے علاوہ بھی ایک راستہ ہوتا ہے‘ اعتدال کا راستہ‘ ایوریج زندگی کا راستہ اور درمیان کا راستہ اور یہ وہ راستہ ہوتا ہے جس میں خوشیاں ہوتی ہیں لیکن ہم لوگ ٹاپ کی دوڑ میں لگ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں‘ہم اپنے ماضی‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل تینوں کو زہریلا کر لیتے ہیں اور آخر میں جا کر ہمیں اچانک محسوس ہوتا ہے ٹاپ کی اس دوڑ میں ہمارے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا‘ ہم تو بیلنس شیٹ کے سوا زندگی سے کچھ نہیں کما سکے۔ کاش ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کی طرح سوچیں‘ ہم خوشی کو کامیابی پر فوقیت دیں‘ ہم درمیان کا راستہ منتخب کرلیں...

Thursday, August 15, 2024

Motivational Story

 

شادی کے دوسرے دن میاں نے اپنی بیوی سے ناشتہ میں انڈہ کھانے کی فرمائش کر دی، بیوی نے خوشی خوشی آملیٹ تیار کر دیا مگر تنقیدی شوہر نے اعتراض لگایا کہ انڈہ تو اچھا ہے مگر میرا دل تو فرائی انڈے کا تھا، بیوی کو افسوس ہوا کہ وہ شوہر کی خواہش پر پوری نہیں اتر سکی ،

اگلی صبح بیوی نے شوہر کے کہنے سے پہلے ہی فرائی انڈہ پیش کیا تو تنقیدی شوہر نے پھر سے تنقید کر ڈالی کہ بیگم انڈہ تو اچھا ہے مگر آج میرا دل آملیٹ کھانے کا تھا، بیوی بیچاری پھر سے شرمندہ ہو گئی اور اگلی صبح ڈرتے ڈرتے آملیٹ اور فرائی دونوں انڈئے پیش کیے، شوہر تو تنقیدی تھا ہی اس نے دونوں انڈے غور سے دیکھے اور ناراض ہوتے ہوے کہا کہ بیگم میری اپنی رائے اور پسند پر تم کبھی نہیں اتر سکتی میری رائے کے مطابق جو انڈہ فرائی کرنا تھا وہ تم نے آملیٹ بنا دیا اور جس انڈے کو تم نے آملیٹ بنایا اسکو فرائی کرنا تھا…

ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے ذہین لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہوتا ہے، وہ ہر عمل کو صرف اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس پر بحث کرتے ہوئے اپنی ذاتی پسند نا پسند کی وضاحت کر ڈالتے ہیں جو کہ انکی نظر میں ہتمی اور سہی ہوتی ہے،

ایسے لوگوں سے بحث کر کے جیتا نہیں جا سکتا ہاں مگر خاموشی ضرور اختیار کی جاسکتی...!!

Sunday, June 9, 2024

دعا

 *اے پروردگار! یہ چند گھنٹے کی گرمی کی تپش ہم سے برداشت نہیں ہوتی اور ہم بلبلا اٹھتے ہیں۔۔*🥺❤‍🩹

 *یا اللّٰہ ہمیں جہنم کی ہولناک آگ سے بچانا، ہماری کھالوں میں وہ تاب نہیں کہ ہم تیرا عتاب سہہ سکیں۔۔۔* ❤‍🩹🥹🤌🏻

 *یا اللّٰہ بروز محشر ہمیں اپنے عرش کے سائے تلے رکھنا۔۔* 🤲🏻🥹

 *اللھم اجرنی من النار۔۔* 🤲🏻

 *اللھم اجرنی من النار۔۔* 🤲🏻

 *اللھم اجرنی من النار۔۔*🤲🏻

*رب سے جڑنے کا سفر*

Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy

 Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy 🎙️  لیکچر  نمبر  01 سورہ الفاتحہ  | آیت...