* رب کائنات نے انسانوں کو اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا، یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہونا چاہیے۔ جب کوئی بھی شخص اللہ کى غلامی سے نکل کر ،لوگوں کی غلامی اختیار کرتا ہے تو وہ مسائل اور مشکلات کا سامنا کرتا ہے ۔
آج کا یہ سبق سن کر میں سوچتی رہی میری زندگی میں ایسا کیا خلا پیدا ہو گیا کہ میں اللہ کی قدرت اور عظمت کو دیکھتے ہوئے ، آسمان اور زمین میں رب کائنات کی پھیلی ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد بھی میں اس کی عظمت اپنے دل میں محسوس نہ کر سکی اور اس کی عبادت کی طرف نہ بڑھ سکی؟
انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ سکون حاصل کرنے کے لیے اور اس کی تلاش میں ہر ممکن کوشش اختیار کرتا ہے لیکن ایسا کیا ہوا کہ اس دھوکے کی زندگی اور فانی دنیا کی رونقوں میں کھو کر مجھے سکون نہ مل سکا؟ میں عبادات میں لذت محسوس نہ کر سکی؟
انسان کی فطرت میں ہے کہ جب وہ کسی کو بڑا سمجھتا ہے، اس سے محبت کرتا ہے، وہ اس کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے تو آخر کیا ہوا کہ میں نے اپنے آپ کو رب کائنات کے سامنے چھوٹا نہ سمجھا ؟میری نمازوں میں کیفیت کیسی ہوتی ہے؟
میں نے یہ کیوں نہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ رب تو بہت زیادہ نوازتا ہے تو میں کیوں آخر اس سے نہیں مانگتی اور میں لوگوں سے مانگتی ہوں ؟
جب مال کی محبت نے مجھے عبادات سے غافل کر دیا تو میں نے اپنی زندگی کا مقصد کھو دیا ۔
یہ زندگی ایک محدود وقت کے لیے اللہ تعالٰی نے مجھے دی ہے تاکہ میں اپنی عبادات کے ارد گرد اپنی زندگی کی ضروریات پوری کر سکوں اور انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی خواہشات میں کمی سے کمی ہی کرتا چلا جائے اور آخرت کو مدنظر رکھ کر زندگی گزارے۔
موت ایک حقیقت ہے اور یہ ایک process ہے جو ماں کے رحم سے شروع ہو گیا تھا۔ ہر گزرنے والا دن اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ زندگی کا ایک دن اور کم ہو گیا اور موت سے ایک دن اور ہم قریب ہو گئے... میں نے اپنی قبر کی وحشت کے لیے کیا ساز و سامان تیار کیا ؟
میں سوچتی رہی کہ مجھے دنیا کی ہر چیز سے،ہر انسان سے بڑھ کر اللہ سے محبت ہونی چاہیے اور انسانوں اور چیزوں سے محبت بھی صرف اللہ ہی کی خاطر ہو اور یہ ایسی محبت ہو جو اللہ کی عبادت میں مزید بہتری لا سکے۔
رب کائنات سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دل کو اپنی محبت سے بھر دے اور ہمیں ہماری زندگی کا مقصد دکھا اور سجھا دے تاکہ جب ہم آخرت میں جائیں تو اپنی دنیا کی زندگی پر افسردہ نہ ہوں۔آمین
*وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ*

No comments:
Post a Comment