قرآن کریم کی سورت کا تعارف
*سورت نمبر: 45*
*سورۃ جاثیه*
تعارف
اس سورت میں بنیادی طور پر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی اتنی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایک انسان اگر معقولیت کے ساتھ اُن پر غور کرے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کائنات کے خالق کو اپنی خدائی کے انتظام میں کسی شریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اُس کی عبادت کرنا سراسر بے بنیاد بات ہے۔ دوسرے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ آپ کو شریعت کے کچھ ایسے احکام دیئے گئے ہیں جو پچھلی امتوں کو دیئے ہوئے احکام سے کسی قدر مختلف ہیں۔ چونکہ یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اس لئے اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ تیسرے اس سورت میں قیامت کے ہولناک مناظر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں آیت نمبر ۲۸ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ ڈر کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے ۔ ” جاثیه عربی زبان میں اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو گھٹنے کے بل بیٹھے ہوں۔ اسی لفظ کو سورت کا نام بنادیا گیا ہے۔

No comments:
Post a Comment