Thursday, January 2, 2025

برکت کیا یے؟؟ZarThoughts Story

*برکت صرف پیسوں کی کثرت میں نہیں ھوتی،* برکات یہ بھی ھیں کہ ایک مہینہ، دو یا تین ماہ گزر جائیں اور تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے، کیونکہ اللہ نے تمہاری صحت میں برکت دی ھو۔ برکت یہ ھے کہ موسم، دو یا تین بدل جائیں اور تمہیں نیا لباس لینے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ تمہارا جسم ویسا ھی رھے اور اللہ نے تمہارے لباس اور جسمانی حالت میں برکت رکھی ھو، کہ نہ لباس پھٹے اور نہ خراب ھو۔ برکت یہ ھے کہ تم تھوڑا کھانا کھاؤ اور سیر ہو جاؤ۔ برکت یہ ہے کہ تم کم سو کر بھی تروتازہ اٹھو۔ برکت یہ ھے کہ تم کوئی نئی بات سیکھو اور فوراً سمجھ جاؤ، بغیر کسی کی مدد کے۔ برکت یہ ھے کہ تم ایسی جگہ جاؤ جہاں رش ھو اور تاخیر کا اندیشہ ھو، لیکن اللہ تمہارے معاملات آسان کر دے، بغیر تمہاری کوشش کے۔ برکت یہ ھے کہ تم جہاں بھی جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں، بغیر کسی اضافی محنت کے۔ برکت بے شمار چیزوں میں ھوتی ھے جنہیں گنا نہیں جا سکتا، مگر ھم خود ھی اپنی سوچ کو محدود کر لیتے ھیں۔ یا اللہ پاک عزوجل! جو تُو نے ھمیں عطا کیا ھے، اس میں برکت و رحمت عطا فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ، یہ امت انٹرنیٹ پہ فدا ہو گئی ۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء یوں ہی قضا ہو گئی ۔ یا الله غریب رکھ یا امیر رکھ ، بس اپنے قریب رکھ ، میں تیرے علاوہ کسی کا محتاج نہ بنوں ، *بس ایسا میرا نصیب رکھ ..* *آمین ثم آمین یا رب العالمین ،*

Wednesday, January 1, 2025

ZarThoughts

*پورے علم و حکمت والا تو ہی ہے۔۔۔* اللہ تعالیٰ پورے علم اور حکمت والا ہے ۔۔ ہے نا؟ کبھی محسوس کیا ہے اسے؟ اسکے علم کو ؟ اسکے علم میں چھپی حکمتوں کو؟ چلیں ہم اب جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس علم و حکمت والی ذات کو کیسے محسوس کیا جائے۔۔۔ کیا آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہو جو آپ چاہتے نہیں تھے کہ آپکے ساتھ ہو؟ آپ کچھ اور چاہتے تھے۔ لیکن کچھ اور ہو گیا۔ جو آپ چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا تھا۔ اور جو آپ نہیں چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا نہیں تھا۔۔ ایسا ہی تھا نا؟ یا ایسا ہی ہے نا؟؟ ہر ایک ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی کام یا کوئی بات ہماری چاہ کے مطابق نہ ہو تو ہم اسے اپنے لیے برا سمجھ لیتے ہیں۔ پتا ہے کیوں؟ کیوں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ہم اللہ کے "علیم" ہونے اور "حکیم" ہونے کو بھلا دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں اللہ کو زیادہ پتا ہے کہ یہ کام ہمارے لیے بہتر ہے۔۔اسکا علم حکمتوں سے بھرا ہے۔ ہماری بہتری کی حکمتوں سے۔۔ جس میں ہمارے لیے بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ یاد کریں! سوچیں جو آپکے ساتھ ہو چکا ۔ کچھ ایسا جو آپ نہ چاہتے ہوں۔ مثال کے طور پر دھوکہ ہی لگا لیں۔ آپکو کسی نے دھوکہ دیا۔ اب یہ آپکے نظریے اور علم کے مطابق آپکے برا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے مطابق یہی آپکے ٹھیک تھا۔لیکن کیسے؟ کیونکہ اگر آپکو دھوکہ نہ ملتا تو آپ بدلتے ہی نہ۔۔ آپ یونہی ہر ایک پر اندھا اعتماد کر کے اپنا کوئی بڑا نقصان کروا بیٹھتے۔ آپ کو اس دھوکے کی وجہ سے لوگوں کی پہچان کرنا آگئی ۔ آپ نے لوگوں کو پرکھنا سیکھ لیا۔ ورنہ ہر کوئی آپکو استعمال کرتا رہتا۔ اس لیے یہ دھوکہ آپکے لیے ضروری تھا۔ آپکو بہتر بنانے کیلئے ۔۔ اور اچھا بنانے کیلئے ۔ آپکو نکھارنے کیلئے ۔ اب آپ پہلے سے ایک بہتر انسان ہیں ۔ لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم صرف اس دھوکہ کے برے اثر کو دیکھتے ہیں کہ ہاں بھئی میرا ساتھ برا ہو گیا۔۔ بھئی کیوں ہو گیا برا؟؟ اپنے اندر آئے بدلاو کو بھی تو دیکھے نا۔ جو سبق جو نصیحت آپکو ملی کیا وہ کسی سکول کالج سے مل سکتی تھی؟ بلکل نہیں۔ یہ نصیحتیں یہ بدلاو ایسے ہی آتے ہیں۔۔ یہ اللہ کے کام ہیں۔۔ہم ویسے سمجھتے ہی نہیں۔ بلکہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ اس لیے اگر آپکے ساتھ کچھ برا ہوت تو وہ اصل میں برا نہیں ہوتا بلکہ آپکو کسی بڑی مصیبت سے بچانے اور لڑنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔۔ آپکی ٹریننگ ہوتی ہے۔ مشکل حالات سے گزار کر۔۔ ان آزمائشوں کو اپنے لیے برا ہر گز نہ سمجھیں۔ یہ آپکی پرورش کر رہی ہیں۔ آپکو مضبوط بنا رہی ہیں۔ایک بڑے دن میں حساب کیلئے ۔۔ایسا خوفناک دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔۔۔ اس لیے اپنے کم علم کی بنا پر اللہ سے شکوہ نہ کریں۔ وہ زیادہ علم والا ہے۔اور وہی حکمت والا ہے۔ وہ بہتر جانتا کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔۔۔ہم نہیں جانتے۔ ہم تو پیدا ہونے سے پہلے اپنے ماں باپ کو بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کوم ہوں گے تو ہم زندگی کے باقی معاملات کو کیسے جان سکتے ہیں؟ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چیز ہمارے لیے ٹھیک نہیں؟ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر یقین کرنا ، توکل کرنا شروع کریں۔ یقین کریں اس سے بڑھ کر آپکے فائدہ یا نقصان کی اور کسی کو فکر نہیں۔ ہمیں خود بھی نہیں۔۔۔۔۔

Tuesday, December 31, 2024

Motivational Story

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شاندار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں جو جوتا پہنیں وہ کسی دوسرے کے پاس نہ ہو‘ شہر کی سب سے لمبی‘ مہنگی اور شاندار گاڑی ہمارے پاس ہونی چاہئے‘ملک کا‘ شہر کا اور محلے کا سب سے بڑا اور مہنگا گھر ہمارا ہونا چاہئے‘ شہر کی سب سے خوبصورت لڑکی ہماری بیوی ہونی چاہئے‘ ہمارے بچے شہر کے تمام بچوں سے خوبصورت ہونے چاہئیں‘ ہم ملک کی سب سے بڑی نوکری حاصل کریں اور ہم جب کاروبار میں قدم رکھیں تو وہ تیزی سے ترقی کرے اور لوگ ہمارے نام‘ ہماری شکل سے واقف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب ایک مختلف انسان تھے‘ وہ ایک ’’ایوریج‘‘ زندگی گزارنا چاہتے تھے‘ وہ کسی امتحان میں ٹاپ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے تھے‘ وہ رٹے لگاتے تھے‘ اساتذہ سے نمبر حاصل کرنے کیلئے تعلقات بڑھاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت صرف دو تین گھنٹے پڑھتے تھے‘ یہ امتحان کے دنوں میں بھی رات کو نیند پوری کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا میں صرف زیادہ نمبر لینے کیلئے اپنی نیند قربان نہیں کر سکتا‘ یہ لمبی تان کر سوتے تھے اور ان کی اس درویشی کو ان کے ساتھی بے حسی اور بے وقوفی قرار دیتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب خوش تھے‘ انہوں نے اس عالم میں درمیانے درجے کے نمبر لے کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ یہ ڈاکٹر بن گئے ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے تمام ساتھی‘ تمام کلاس فیلوز سپیشلائزین میں جت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے مزید پڑھنے سے انکار کر دیا‘یہ چھوٹے سے ہسپتال میں فزیشن بھرتی ہو گئے اور سرکاری تنخواہ پر گزارا کرنے لگے‘ ان کے ساتھی ہسپتال سے واپس آ کر بمشکل لنچ کرتے تھے‘ سہ پہر کو پرائیویٹ پریکٹس میں لگ جاتے تھے اور رات گئے تک نوٹ بنانے میں لگے رہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب ہسپتال سے واپس آ کر آرام کرتے تھے‘ شام کو جاگنگ کرتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ میوزک سنتے تھے‘ دوستوں سے ملتے تھےاور اس دوران اگر کوئی مریض آ جاتا تھا تو یہ اس کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ ان دنوں اپنی آمدنی میں اضافے کے بارے میں بھی ہرگز ہر گز نہیں سوچتے تھے‘ یہ اپنی تنخواہ میں مزے کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے‘ ان کا چھوٹاسا گھرتھا‘ گھر میں اے سی نہیں تھا‘ ان کے پاس چھوٹا سا فریج تھا اور یہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے‘ یہ ان سہولتوں کو اپنے لئے کافی سمجھتے تھے‘ انہوں نے زندگی کو ان چیزوں سے آگے نہیں دیکھا تھا۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی شادی کا وقت آ گیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملے میں بھی ’’میانہ روی‘‘ اختیار کی‘ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی ‘تمام دوست اور تمام کلاس فیلو سب سے اچھی‘ سب سے خوبصورت لڑکی اور سب سے اچھا خاندان کے چکر میں تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایک واجبی شکل و صورت کی عام سی لڑکی منتخب کی اور اس کے ساتھ شادی کر لی‘ یہ دونوں میاں بیوی اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہنے لگےبعدازاں بچے پیدا ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب ان بچوں کیلئے بھی بڑے سکولوں اور اعلیٰ ترین تعلیم کے پیچھے نہیں بھاگے‘ انہوں نے بچوں کو عام سے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا کیونکہ یہ پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرتے تھے چنانچہ شام کے وقت ان کے پاس ٹھیک ٹھاک وقت ہوتا تھا لہٰذا یہ بچوں کو خود پڑھا لیتے‘ ان کے بچے بھی زیادہ ذہین نہیں تھے‘ یہ درمیانے درجوں میں پاس ہوتے تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو کبھی ٹاپ کرنے یا اول پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دی‘یہ بس انہیں پاس ہونے اور تعلیم مکمل کرنے کا سبق دیتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کے بچے بھی اس اپروچ کے ساتھ خوش تھے کیونکہ وہ سکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے تھے‘ آرام کرتے تھے‘ شام کو کھیلتے تھے‘ تھوڑا سا پڑھتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے اور سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ واک کرتے تھے اور بس ۔ وہ بچے ٹاپ کی ریس سے الگ تھے چنانچہ ان کے پاس بھی خوش رہنے اور مطمئن رہنے کے بے شمار بہانے تھےلیکن آپ ہر گز ہر گز یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ یہ کہانی اسی طرح چلے گی۔ اس کہانی میں ایک بہت دلچسپ ٹرن آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دن سوچا انہیں ملک سے باہر جانا چاہئے‘ اس وقت ان کے کولیگز‘ ان کے دوست بڑے بڑے ملکوں کی طرف جا رہے تھے‘ کوئی امریکی سفارتخانے کے سامنے قطار میں لگا تھا‘ کوئی برطانیہ جانے کے منصوبے بنا رہا تھا‘ کسی نے کینیڈا اور آسٹریلیا کی امیگریشن کیلئے اپلائی کر رکھا تھالیکن ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں کوئی پاکستانی ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے پورے خاندان کے ساتھ مالدیپ چلے گئے‘ انہیں مالدیپ کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں جاب مل گئی اور یہ فیملی سمیت مالدیپ شفٹ ہو گئے۔ وہاں بھی انہوں نے خاندان بھر کو سائیکلیں لے کر دیں اور یہ سارا خاندان مالدیپ کے قدرتی حسن کو انجوانے کرنے لگا‘ بچے سکول میں درمیانے درجے کے طالب علموں کی طرح پڑھتے‘بیگم صاحبہ منڈی سے سبزیاں‘ پھل اور اناج خریدیتیں اور سارا خاندان شام کو واک کرتا‘ قہقہے لگاتا اور زندگی کو بھر پور طریقے سے انجوائے کرتا‘ یہ لوگ ویک اینڈ مناتے اور خوب موج مستی بھی کرتے‘ ان کیلئے زندگی واقعی خوبصورت نعمت تھی اور انہوں نے مالدیپ کے دنوں کو بھر پور طریقے سے گزارا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا۔ انہوں نے ایک دن اخبار میں پڑھا آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک فزیشن کی ضرورت ہے‘آسٹریلوی حکومت کو اس پوسٹ کیلئے ایک ایسا ڈاکٹر چاہئے جو محض ڈاکٹر ہو اوراس نے کسی قسم کی سپیشلائزیشن نہ کر رکھی ہو۔ یہ آسٹریلیا کی ایک غیر معروف جگہ تھی لہٰذا وہاں کوئی نہیں جاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بھیڑ چال میں چلنے والے شخص نہیں تھے‘ یہ درمیان میں رہنے والے ایک ایسے معتدل شخص تھے جنہوں نے کبھی اول آنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی چنانچہ انہوں نے اس جاب کیلئے اپلائی کر دیا‘یہ اس علاقے کے پہلے فارنر ڈاکٹر تھے‘ علاقے کے لوگ اور مقامی انتظامیہ ان کے ٹیلنٹ سے متاثر ہوئی اور انہوں نے انہیں پورے علاقے کے ہسپتالوں کا انچارج بنا دیا‘ یہ پانچ ہندسوں میں تنخواہ لینے لگے‘ حکومت نے انہیں دو ہزار ایکڑ زمین بھی دے دی‘ انہوں نے اس زمین میں فارم بنا لیا‘ یہ فارم ان کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا. اور یہ چند برسوں میں اس علاقے کے امیر ترین شخص بن گئے اور آج ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی ہیں‘یہ ہیلی کاپٹر کے مالک بھی ہیں‘ ان کے پاس ایکڑوں پر محیط گھر بھی ہے اور اس گھر میں آبشاریں اور ندیاں بھی ہیں اور ان کا بینک بیلنس بھی ہے لیکن یہ اس کے باوجود ایک ایوریج زندگی گزار رہے ہیں‘یہ دوپہر کو آرام کرتے ہیں‘ سہ پہر کے وقت بچوں کے ساتھ جاگنگ کرتے ہیں‘ شام کو ٹی وی دیکھتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے ہیں‘ میوزک سنتے ہیں‘ دوستوں کے ساتھ گپ لگاتے ہیں اور گولیوں کے بغیر صبح شام گزارتے ہیں اور آج ان کے وہ تمام کلا س فیلوز ‘ وہ تمام ساتھی سکھ‘ خوشی‘ اطمینان‘ صحت‘ دولت‘ کامیابی اور کامرانی میں ان سے بہت پیچھے ہیں‘ جو کبھی راتوں کو جاگ جاگ کر رٹے لگاتے تھے‘ جو اول آنے کی دوڑ میں اپنی آنکھیں سرخ کر لیتے تھے‘ جو بڑے فریج‘ بڑی گاڑی‘ بڑے گھر‘ بڑے بینک بیلنس اور واہ جی واہ کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے‘ جو ہسپتال جاتے تھے‘ شام کو کلینک کرتے تھے اور دواؤں سے پیسے کھاتے تھےاور جنہوں نے میڈیکل کے پروفیشن کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن’’ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے‘‘ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب دنیاوی کاموں میں بھی ان سے آگے نکل گئے‘ ان کے ساتھیوں کی وہ بیگمات جن کیلئے انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا‘ وہ بیمار‘ بوڑھی اور بدصورت ہو گئیں لیکن ان کی بیگم بوڑی ہو کر بھی ایوریج رہی‘ ان کے ساتھیوں کے وہ بچے جن کی تعلیم کیلئے انہوں نے بڑے بڑے پاپڑ بیلے تھےوہ سب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کو چھوڑ کرچلے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کے ایوریج بچے آج بھی ان کے ساتھ ہیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی بھی خوشیوں سے بھرپور تھا‘ حال بھی اور مستقبل بھی۔ہمارے پاس ٹاپ کی دوڑ کے علاوہ بھی ایک راستہ ہوتا ہے‘ اعتدال کا راستہ‘ ایوریج زندگی کا راستہ اور درمیان کا راستہ اور یہ وہ راستہ ہوتا ہے جس میں خوشیاں ہوتی ہیں لیکن ہم لوگ ٹاپ کی دوڑ میں لگ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں‘ہم اپنے ماضی‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل تینوں کو زہریلا کر لیتے ہیں اور آخر میں جا کر ہمیں اچانک محسوس ہوتا ہے ٹاپ کی اس دوڑ میں ہمارے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا‘ ہم تو بیلنس شیٹ کے سوا زندگی سے کچھ نہیں کما سکے۔ کاش ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کی طرح سوچیں‘ ہم خوشی کو کامیابی پر فوقیت دیں‘ ہم درمیان کا راستہ منتخب کرلیں...

Motivational Story

"وضو کرتے وقت غفلت میں نہ رہیں" یہ ایک خوبصورت نصیحت ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو وضو کرتے وقت ہنستے، باتیں کرتے یا دوسروں کی برائی کرتے ہیں۔ وضو کی اہمیت اور روحانی پہلو: ایک دوست نے مجھ سے پوچھا: "تم وضو کیسے کرتے ہو؟" میں نے بے دلی سے جواب دیا: "جیسا سب کرتے ہیں!" وہ مسکرایا اور بولا: "اور لوگ کیسے وضو کرتے ہیں؟" میں نے کہا: "جیسا تم کرتے ہو!" اس نے کہا: "یہ غلط ہے۔ میں وضو کرتے وقت ایک خاص روحانی حالت میں ہوتا ہوں۔ مجھے وضو میں خوشی اور لطف محسوس ہوتا ہے، اس کے ساتھ حلاوت، خوبصورتی اور سکون ملتا ہے۔ یہ سب مجھے نماز میں زیادہ خشوع عطا کرتا ہے۔" وضو کی روحانی تاثیر: اس نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ یاد دلائی: "جب کوئی مومن وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے، تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، حتیٰ کہ وہ پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے، تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا ہو، حتیٰ کہ وہ بھی پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے ان سے چل کر کیا ہو، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔" (صحیح مسلم) وضو کو نور بنائیں: دوست نے کہا: "اس حدیث کو غور سے دیکھو، تمہیں وضو میں لذت اور خوشی محسوس ہوگی۔ وضو کا پانی تمہارے جسم کو نہیں بلکہ تمہارے دل کو بھی صاف کر رہا ہے۔" میں نے کہا: "سبحان اللہ! یہ بات میرے ذہن میں کیوں نہ آئی؟ میں نے ہمیشہ وضو کو ایک معمولی عمل سمجھا۔ بس اعضا دھو کر فارغ ہو جاتا تھا، مگر روحانی تاثیر کو کبھی محسوس نہ کیا۔" دوست نے کہا: "جب تم وضو کرتے وقت دل کو حاضر کرو گے، تو یہ تمہیں اللہ کے قریب کر دے گا۔ تمہارا دل روحانی معانی سے بھر جائے گا اور یہ نماز کے لیے بہترین تیاری ہوگی۔" وضو کو عادت بنائیں: میں نے جواب دیا: "یہ تو مجھے ہر نماز سے پہلے وضو کرنے کی ترغیب دے رہا ہے، چاہے میرا وضو قائم ہی کیوں نہ ہو۔" دوست نے مسکراتے ہوئے کہا: "یہی بات! وضو کو ہمیشہ برقرار رکھو۔ ہر بار جب گھر سے باہر نکلو تو وضو کرو تاکہ زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ایک پاک دل کے ساتھ کر سکو۔"💞💞

Monday, December 30, 2024

ZarThought's Motivational Story

*”بل (Bill) کیا ہوتا ہے امی؟“* آٹھ سال کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ ماں نے اسے سمجھایا، جب ہم کسی سے کوئی سامان خریدتے ہیں یا کوئی کام کرواتے ہیں تو وہ اس سامان یا کام کے بدلے میں ہم سے پیسے لیتا ہے اور ہم کو اس سامان یا کام کی لسٹ بنا کر دیتا ہے، اسی کو ہم بل کہتے ہیں۔ بچے کو ماں کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔ رات کو سونے سے پہلے اس نے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پیپر رکھا جس میں اسی دن کا حساب لکھا ہوا تھا: دوکان سے سامان لا کر دیا *پانچ روپے* بابا کی بائیک صاف کر کے باہر نکالی *پانچ روپے* دادا جی کا سر دبایا *دس روپے* دادی امی کی چابیاں ڈھونڈ کر دی *دس روپے* ٹوٹل ہوا تیس روپے۔ یہ صرف آج کا بل ہے، اس کو آج ہی دے دیں تو نوازش ہو گی۔ صبح جب بچہ اٹھا تو اس کے تکیے کے نیچے تیس روپے رکھے ہوئے تھے۔ وہ انھیں دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ تو بہت اچھا کام ہو گیا۔ تبھی اس کی نظر ساتھ رکھے کاغذ پر پڑی۔ اس کی امی نے لکھا تھا: پیدائش سے لے کر آج تک پالا پوسا *معاوضہ صفر* بیمار ہونے پر ساری ساری رات سینے سے لگا کر گھمایا، بہلایا *معاوضہ صفر* اسکول بھیجنا اور ہوم ورک کروانا *معاوضہ صفر* صبح سے رات تک کھلانا، پلانا، کپڑے تبدیل کروانا، استری کرنا *معاوضہ صفر* حد سے زیادہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنا *معاوضہ صفر* یہ اب تک کا پورا بل ہے۔ اس کی جب بھی قیمت ادا کرنا چاہو، کر دینا۔ بچے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سیدھا جا کر اپنی ماں کے پاؤں پر جھک گیا اور بہت مشکل سے روتے ہوئے کہنے لگا: آپ کے بل میں تو قیمت لکھی ہی نہیں ہے امی۔ یہ تو *انمول* ہے۔ اس کی *قیمت* تو میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکوں گا، مجھے معاف کر دیں پیاری امی۔ امی نے ہنستے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ *نوٹ:* یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں۔

Sunday, December 29, 2024

ZarThought's Stories

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شاندار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں جو جوتا پہنیں وہ کسی دوسرے کے پاس نہ ہو‘ شہر کی سب سے لمبی‘ مہنگی اور شاندار گاڑی ہمارے پاس ہونی چاہئے‘ملک کا‘ شہر کا اور محلے کا سب سے بڑا اور مہنگا گھر ہمارا ہونا چاہئے‘ شہر کی سب سے خوبصورت لڑکی ہماری بیوی ہونی چاہئے‘ ہمارے بچے شہر کے تمام بچوں سے خوبصورت ہونے چاہئیں‘ ہم ملک کی سب سے بڑی نوکری حاصل کریں اور ہم جب کاروبار میں قدم رکھیں تو وہ تیزی سے ترقی کرے اور لوگ ہمارے نام‘ ہماری شکل سے واقف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب ایک مختلف انسان تھے‘ وہ ایک ’’ایوریج‘‘ زندگی گزارنا چاہتے تھے‘ وہ کسی امتحان میں ٹاپ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے تھے‘ وہ رٹے لگاتے تھے‘ اساتذہ سے نمبر حاصل کرنے کیلئے تعلقات بڑھاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت صرف دو تین گھنٹے پڑھتے تھے‘ یہ امتحان کے دنوں میں بھی رات کو نیند پوری کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا میں صرف زیادہ نمبر لینے کیلئے اپنی نیند قربان نہیں کر سکتا‘ یہ لمبی تان کر سوتے تھے اور ان کی اس درویشی کو ان کے ساتھی بے حسی اور بے وقوفی قرار دیتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب خوش تھے‘ انہوں نے اس عالم میں درمیانے درجے کے نمبر لے کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ یہ ڈاکٹر بن گئے ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے تمام ساتھی‘ تمام کلاس فیلوز سپیشلائزین میں جت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے مزید پڑھنے سے انکار کر دیا‘یہ چھوٹے سے ہسپتال میں فزیشن بھرتی ہو گئے اور سرکاری تنخواہ پر گزارا کرنے لگے‘ ان کے ساتھی ہسپتال سے واپس آ کر بمشکل لنچ کرتے تھے‘ سہ پہر کو پرائیویٹ پریکٹس میں لگ جاتے تھے اور رات گئے تک نوٹ بنانے میں لگے رہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب ہسپتال سے واپس آ کر آرام کرتے تھے‘ شام کو جاگنگ کرتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ میوزک سنتے تھے‘ دوستوں سے ملتے تھےاور اس دوران اگر کوئی مریض آ جاتا تھا تو یہ اس کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ ان دنوں اپنی آمدنی میں اضافے کے بارے میں بھی ہرگز ہر گز نہیں سوچتے تھے‘ یہ اپنی تنخواہ میں مزے کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے‘ ان کا چھوٹاسا گھرتھا‘ گھر میں اے سی نہیں تھا‘ ان کے پاس چھوٹا سا فریج تھا اور یہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے‘ یہ ان سہولتوں کو اپنے لئے کافی سمجھتے تھے‘ انہوں نے زندگی کو ان چیزوں سے آگے نہیں دیکھا تھا۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی شادی کا وقت آ گیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملے میں بھی ’’میانہ روی‘‘ اختیار کی‘ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی ‘تمام دوست اور تمام کلاس فیلو سب سے اچھی‘ سب سے خوبصورت لڑکی اور سب سے اچھا خاندان کے چکر میں تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایک واجبی شکل و صورت کی عام سی لڑکی منتخب کی اور اس کے ساتھ شادی کر لی‘ یہ دونوں میاں بیوی اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہنے لگےبعدازاں بچے پیدا ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب ان بچوں کیلئے بھی بڑے سکولوں اور اعلیٰ ترین تعلیم کے پیچھے نہیں بھاگے‘ انہوں نے بچوں کو عام سے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا کیونکہ یہ پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرتے تھے چنانچہ شام کے وقت ان کے پاس ٹھیک ٹھاک وقت ہوتا تھا لہٰذا یہ بچوں کو خود پڑھا لیتے‘ ان کے بچے بھی زیادہ ذہین نہیں تھے‘ یہ درمیانے درجوں میں پاس ہوتے تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو کبھی ٹاپ کرنے یا اول پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دی‘یہ بس انہیں پاس ہونے اور تعلیم مکمل کرنے کا سبق دیتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کے بچے بھی اس اپروچ کے ساتھ خوش تھے کیونکہ وہ سکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے تھے‘ آرام کرتے تھے‘ شام کو کھیلتے تھے‘ تھوڑا سا پڑھتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے اور سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ واک کرتے تھے اور بس ۔ وہ بچے ٹاپ کی ریس سے الگ تھے چنانچہ ان کے پاس بھی خوش رہنے اور مطمئن رہنے کے بے شمار بہانے تھےلیکن آپ ہر گز ہر گز یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ یہ کہانی اسی طرح چلے گی۔ اس کہانی میں ایک بہت دلچسپ ٹرن آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دن سوچا انہیں ملک سے باہر جانا چاہئے‘ اس وقت ان کے کولیگز‘ ان کے دوست بڑے بڑے ملکوں کی طرف جا رہے تھے‘ کوئی امریکی سفارتخانے کے سامنے قطار میں لگا تھا‘ کوئی برطانیہ جانے کے منصوبے بنا رہا تھا‘ کسی نے کینیڈا اور آسٹریلیا کی امیگریشن کیلئے اپلائی کر رکھا تھالیکن ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں کوئی پاکستانی ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے پورے خاندان کے ساتھ مالدیپ چلے گئے‘ انہیں مالدیپ کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں جاب مل گئی اور یہ فیملی سمیت مالدیپ شفٹ ہو گئے۔ وہاں بھی انہوں نے خاندان بھر کو سائیکلیں لے کر دیں اور یہ سارا خاندان مالدیپ کے قدرتی حسن کو انجوانے کرنے لگا‘ بچے سکول میں درمیانے درجے کے طالب علموں کی طرح پڑھتے‘بیگم صاحبہ منڈی سے سبزیاں‘ پھل اور اناج خریدیتیں اور سارا خاندان شام کو واک کرتا‘ قہقہے لگاتا اور زندگی کو بھر پور طریقے سے انجوائے کرتا‘ یہ لوگ ویک اینڈ مناتے اور خوب موج مستی بھی کرتے‘ ان کیلئے زندگی واقعی خوبصورت نعمت تھی اور انہوں نے مالدیپ کے دنوں کو بھر پور طریقے سے گزارا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا۔ انہوں نے ایک دن اخبار میں پڑھا آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک فزیشن کی ضرورت ہے‘آسٹریلوی حکومت کو اس پوسٹ کیلئے ایک ایسا ڈاکٹر چاہئے جو محض ڈاکٹر ہو اوراس نے کسی قسم کی سپیشلائزیشن نہ کر رکھی ہو۔ یہ آسٹریلیا کی ایک غیر معروف جگہ تھی لہٰذا وہاں کوئی نہیں جاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بھیڑ چال میں چلنے والے شخص نہیں تھے‘ یہ درمیان میں رہنے والے ایک ایسے معتدل شخص تھے جنہوں نے کبھی اول آنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی چنانچہ انہوں نے اس جاب کیلئے اپلائی کر دیا‘یہ اس علاقے کے پہلے فارنر ڈاکٹر تھے‘ علاقے کے لوگ اور مقامی انتظامیہ ان کے ٹیلنٹ سے متاثر ہوئی اور انہوں نے انہیں پورے علاقے کے ہسپتالوں کا انچارج بنا دیا‘ یہ پانچ ہندسوں میں تنخواہ لینے لگے‘ حکومت نے انہیں دو ہزار ایکڑ زمین بھی دے دی‘ انہوں نے اس زمین میں فارم بنا لیا‘ یہ فارم ان کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا. اور یہ چند برسوں میں اس علاقے کے امیر ترین شخص بن گئے اور آج ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی ہیں‘یہ ہیلی کاپٹر کے مالک بھی ہیں‘ ان کے پاس ایکڑوں پر محیط گھر بھی ہے اور اس گھر میں آبشاریں اور ندیاں بھی ہیں اور ان کا بینک بیلنس بھی ہے لیکن یہ اس کے باوجود ایک ایوریج زندگی گزار رہے ہیں‘یہ دوپہر کو آرام کرتے ہیں‘ سہ پہر کے وقت بچوں کے ساتھ جاگنگ کرتے ہیں‘ شام کو ٹی وی دیکھتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے ہیں‘ میوزک سنتے ہیں‘ دوستوں کے ساتھ گپ لگاتے ہیں اور گولیوں کے بغیر صبح شام گزارتے ہیں اور آج ان کے وہ تمام کلا س فیلوز ‘ وہ تمام ساتھی سکھ‘ خوشی‘ اطمینان‘ صحت‘ دولت‘ کامیابی اور کامرانی میں ان سے بہت پیچھے ہیں‘ جو کبھی راتوں کو جاگ جاگ کر رٹے لگاتے تھے‘ جو اول آنے کی دوڑ میں اپنی آنکھیں سرخ کر لیتے تھے‘ جو بڑے فریج‘ بڑی گاڑی‘ بڑے گھر‘ بڑے بینک بیلنس اور واہ جی واہ کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے‘ جو ہسپتال جاتے تھے‘ شام کو کلینک کرتے تھے اور دواؤں سے پیسے کھاتے تھےاور جنہوں نے میڈیکل کے پروفیشن کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن’’ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے‘‘ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب دنیاوی کاموں میں بھی ان سے آگے نکل گئے‘ ان کے ساتھیوں کی وہ بیگمات جن کیلئے انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا‘ وہ بیمار‘ بوڑھی اور بدصورت ہو گئیں لیکن ان کی بیگم بوڑی ہو کر بھی ایوریج رہی‘ ان کے ساتھیوں کے وہ بچے جن کی تعلیم کیلئے انہوں نے بڑے بڑے پاپڑ بیلے تھےوہ سب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کو چھوڑ کرچلے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کے ایوریج بچے آج بھی ان کے ساتھ ہیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی بھی خوشیوں سے بھرپور تھا‘ حال بھی اور مستقبل بھی۔ہمارے پاس ٹاپ کی دوڑ کے علاوہ بھی ایک راستہ ہوتا ہے‘ اعتدال کا راستہ‘ ایوریج زندگی کا راستہ اور درمیان کا راستہ اور یہ وہ راستہ ہوتا ہے جس میں خوشیاں ہوتی ہیں لیکن ہم لوگ ٹاپ کی دوڑ میں لگ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں‘ہم اپنے ماضی‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل تینوں کو زہریلا کر لیتے ہیں اور آخر میں جا کر ہمیں اچانک محسوس ہوتا ہے ٹاپ کی اس دوڑ میں ہمارے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا‘ ہم تو بیلنس شیٹ کے سوا زندگی سے کچھ نہیں کما سکے۔ کاش ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کی طرح سوچیں‘ ہم خوشی کو کامیابی پر فوقیت دیں‘ ہم درمیان کا راستہ منتخب کرلیں...

Motivational Story

ایک آدمی نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ وہ طوطا باتیں بھی کرتا تھا، ایک دن اس آدمی نے طوطے سے کہا کہ : " میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں، وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا ... " طوطے نے کہا کہ : " وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے, وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں، ہمارے ساتھی رہتے ہیں، وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک "غلام طوطا" پنجرے میں رہنے والا ، غلامی میں، پابند ِ قفس آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے ... " سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی، ایک طوطا گِرا، دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑاحیران کہ یہ پیغام کیا تھا، قیامت ہی تھی اور اداس ہوکے چلا آیا۔ واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ : " کیا میرا سلام دیا تھا ...؟ " اس نے کہا کہ : " بڑی اداس بات ہے، سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے ... " اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا : " یہ_کیا ...؟ " طوطے نے کہا کہ : " بات یہ ہے کہ، میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔ اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا ... '' " موتوا قبل ان تموتوا " یعنی : " مرنے سے پہلے مر جاؤ " اپنے نفس یعنی شریر خیالات کو مار دو اور ھمیشہ کی زندگی پاؤ -----------------------------------------------------وہ ایک سجدہ جیسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے ادمی کو نجات....*

Thursday, August 15, 2024

Great Motivation


 * رب کائنات نے انسانوں کو اپنی بندگی اور عبادت کے لیے پیدا کیا،  یہی انسان کی زندگی کا مقصد ہونا چاہیے۔ جب کوئی بھی شخص اللہ کى غلامی سے نکل کر ،لوگوں کی غلامی اختیار کرتا ہے تو وہ مسائل اور مشکلات کا سامنا کرتا ہے ۔

آج کا یہ سبق سن کر میں سوچتی رہی میری زندگی میں ایسا کیا خلا پیدا ہو گیا کہ میں اللہ کی  قدرت اور عظمت کو دیکھتے ہوئے ، آسمان اور زمین میں رب کائنات کی پھیلی ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد بھی میں اس کی عظمت اپنے دل میں محسوس نہ کر سکی اور اس کی عبادت کی طرف نہ بڑھ سکی؟

انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ سکون حاصل کرنے کے لیے اور اس کی تلاش میں ہر ممکن کوشش اختیار کرتا ہے لیکن ایسا کیا ہوا کہ اس دھوکے کی زندگی اور فانی دنیا کی رونقوں  میں  کھو کر مجھے سکون نہ مل سکا؟ میں عبادات میں لذت محسوس نہ کر سکی؟

انسان کی فطرت میں ہے کہ جب وہ کسی کو بڑا سمجھتا ہے، اس سے محبت کرتا ہے، وہ اس کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے تو آخر کیا ہوا کہ میں نے اپنے آپ کو رب کائنات کے سامنے  چھوٹا نہ سمجھا ؟میری نمازوں میں کیفیت کیسی ہوتی ہے؟ 


میں نے یہ کیوں نہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ رب تو بہت زیادہ نوازتا ہے تو میں کیوں آخر اس سے نہیں مانگتی اور میں لوگوں سے مانگتی ہوں ؟


جب مال کی محبت نے مجھے عبادات سے غافل کر دیا تو میں نے اپنی زندگی کا مقصد کھو دیا ۔


یہ زندگی ایک محدود وقت کے لیے اللہ تعالٰی نے مجھے دی ہے تاکہ میں اپنی عبادات کے ارد گرد اپنی زندگی کی ضروریات پوری کر سکوں اور انسان کی بہتری اسی میں ہے کہ وہ اپنی خواہشات میں کمی سے کمی ہی کرتا چلا جائے اور آخرت کو مدنظر رکھ کر زندگی گزارے۔


موت ایک حقیقت ہے اور یہ ایک process ہے جو ماں کے رحم سے شروع ہو گیا تھا۔ ہر  گزرنے والا دن اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ زندگی کا ایک دن اور کم ہو گیا اور موت سے ایک دن اور ہم قریب ہو گئے... میں نے اپنی قبر کی وحشت کے لیے کیا ساز و سامان تیار کیا ؟


میں سوچتی رہی کہ مجھے دنیا کی ہر چیز سے،ہر  انسان سے بڑھ کر اللہ سے محبت ہونی چاہیے اور انسانوں اور چیزوں سے محبت بھی صرف اللہ ہی کی خاطر ہو اور یہ ایسی محبت ہو جو اللہ کی عبادت میں مزید بہتری لا سکے۔


رب کائنات سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دل کو اپنی محبت سے بھر دے اور ہمیں ہماری زندگی کا مقصد دکھا اور سجھا دے تاکہ جب ہم آخرت میں جائیں تو اپنی دنیا کی زندگی پر افسردہ نہ ہوں۔آمین


*وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ*

Motivational Story

 

شادی کے دوسرے دن میاں نے اپنی بیوی سے ناشتہ میں انڈہ کھانے کی فرمائش کر دی، بیوی نے خوشی خوشی آملیٹ تیار کر دیا مگر تنقیدی شوہر نے اعتراض لگایا کہ انڈہ تو اچھا ہے مگر میرا دل تو فرائی انڈے کا تھا، بیوی کو افسوس ہوا کہ وہ شوہر کی خواہش پر پوری نہیں اتر سکی ،

اگلی صبح بیوی نے شوہر کے کہنے سے پہلے ہی فرائی انڈہ پیش کیا تو تنقیدی شوہر نے پھر سے تنقید کر ڈالی کہ بیگم انڈہ تو اچھا ہے مگر آج میرا دل آملیٹ کھانے کا تھا، بیوی بیچاری پھر سے شرمندہ ہو گئی اور اگلی صبح ڈرتے ڈرتے آملیٹ اور فرائی دونوں انڈئے پیش کیے، شوہر تو تنقیدی تھا ہی اس نے دونوں انڈے غور سے دیکھے اور ناراض ہوتے ہوے کہا کہ بیگم میری اپنی رائے اور پسند پر تم کبھی نہیں اتر سکتی میری رائے کے مطابق جو انڈہ فرائی کرنا تھا وہ تم نے آملیٹ بنا دیا اور جس انڈے کو تم نے آملیٹ بنایا اسکو فرائی کرنا تھا…

ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے ذہین لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہوتا ہے، وہ ہر عمل کو صرف اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس پر بحث کرتے ہوئے اپنی ذاتی پسند نا پسند کی وضاحت کر ڈالتے ہیں جو کہ انکی نظر میں ہتمی اور سہی ہوتی ہے،

ایسے لوگوں سے بحث کر کے جیتا نہیں جا سکتا ہاں مگر خاموشی ضرور اختیار کی جاسکتی...!!

Sunday, July 21, 2024

تلاوت قرآن کے آداب

اخلاق حملة القرآن 

 *قرآن پڑھنے کے آداب*



▫️قرآن مجید کو مصحف سے دیکھ کر پڑھنا چاہیے کیونکہ اس کی بہت فضیلت ہے۔

▫️مصحف کو باوضو ہو کر پکڑنا چاہیے۔وضو کے بغیر مصحف کو  دیکھ کر قرآن پڑھا جا سکتا ہے۔

▫️دوران قرآت جمائی آئے تو قرات کو روک لینا چاہئے۔

▫️دوران قرآت آیت سجدہ آئے تو سجدہ کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔

▫️سجدہ تلاوت کرنا اللہ کو راضی کرنے والا اور شیطان کو غصہ دلانے والا عمل ہے۔

▫️جو شخص راستے میں چلتا ہوا قران پڑھ رہا ہو اور آیت سجدہ آ جائے تو قبل رخ منہ کرلے اور سر کے اشارے سےاسی وقت سجدہ کر لے ۔

▫️قرآن پڑھتے ہوئے غوروفکر کرنا اور دلوں کو غافل کرنے والی چیزوں سے اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنا

▫️تلاوت قرآن کے وقت ہر دوسرا کام چھوڑ دے تاکہ مکمل یکسوئی سے تلاوت کر سکے ۔ 

▫️قرآن کے فہم کو حاضر دماغی سے لے اور رب کے کلام کے علاؤہ  کسی اور چیز میں مشغول نہ ہو۔ 

▫️قرآن میں تدبر لازم ہے۔۔ تدبر کے بغیر نصیحت حاصل نہیں کی جا سکتی۔۔۔

 *كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ اِلَيۡكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوۡۤا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ* ۞ (ص۔ 29)

▫️سب سے اہم الفاظ کے معانی سمجھنا ،اللہ تعالیٰ کی مراد سمجھنا ،احکامات کو سمجھنا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کر سکتے۔  تدبر  کے لیے دل کو صرف قرآن میں مشغول کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں بنائے۔تلاوت قرآن کے وقت کسی اور طرف توجہ کرنے سے تدبر نہیں ہو سکتا۔

▪️نافع کہتے ہیں "ابن عمر جب تلاوت کرتے تو کوئی اور بات زبان پر نہ لاتے یہاں تک کہ  تلاوت مکمل کرلیتے"

یہ نہیں کہ ایک ایت پڑھی اور کسی سے بات کر لی یا میسج کا جواب دینے لگ گئے یا آنے جانے والے کو دیکھنے لگ گئے ۔۔.

▪️غزوہِ ذات الرقاع میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون پہرہ دے گا تو ایک مہاجر اور ایک انصاری کھڑے ہوئے۔ دونوں نے طے کیا کہ باری باری پہرہ دیں گے، مہاجر لیٹ گیا اور انصاری نماز پڑھنے لگااور ساتھ پہرہ دینے لگا۔جب مشرک نے تیر مارا تو انصاری نے جسم سے تیر نکال دیا اور نماز جاری رکھی یہاں تک کہ مشرک نے تین تیر مارے اس نے رکوع اور سجدہ کیا۔اتنے میں مہاجر جاگ گیا اور دیکھا کہ انصاری لہو لہان ہے، تو کہا سبحان اللہ تم نے مجھے پہلے تیر پر پی کیوں نہ جگا دیا ۔۔اس نے جواب دیا *میں ایک سورۃ پڑھ رہا تھا میرا دل نہ چاہا کہ میں اسے ادھورا چھوڑ دوں*

▫️اپنا جائزہ لینا۔۔میں تلاوت قرآن کے وقت کتنی فوکس ہوتی ہوں کتنا غوروفکر کرتی ہوں؟

▫️قرآن پڑھتے ہوئے رحمت والی آیت پڑھے تو اللہ کی رحمت کا سوال کرے"اللہم انی اسئلک من فضلک ورحمتک" ۔۔اور جب عذاب کی آیت ہو تو اللہ سے اس کی آگ سے پناہ طلب کرے "اللہم انی اعوذبک من النار"   اور جس آیت میں اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کی گئی ہو تو اللہ کی تسبیح بیان کرے اور اللہ کی تعظیم کرے ۔۔ایسی آیت ہو جس میں اللہ کی طرف کوئی بات منسوب کی گئی ہو جیسے اللہ نے بیٹا بنایا ہے یا اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تو کہے سبحان اللہ ۔۔میں اللہ کو ایسی باتوں اور تمام نقائص سے پاک قرار دیتی ہوں۔

 *اللھم ارزقنی التفکر والتدبر بما یتلوہ لسانی من کتابک، والفھم له والمعرفة بمعانیه ، والنظر فی عجائبه والعمل بذالک ما بقیت، انک علی کل شئی قدیر .*

Thursday, July 18, 2024

اللّٰہ سب سے بڑا ہے* ۔

 *اللّٰہ اکبر*

*اللّٰہ سب سے بڑا ہے* ۔

ZarThoughts


 *کس سے بڑا ہے؟* 


ہر چیز سے بڑا ہے۔ ہر اس چیز سے بڑا ہے، جس سے آپ کو خوف آتا ہے۔ ہر اس مشکل سے بڑا ہے، جس کا آپ شکار ہیں۔ ہر اس پریشانی سے بڑا ہے، جو آپ کو در پیش ہے۔ ہر اس بیماری سے بڑا ہے، جو ابھی آپ کو لاحق ہے۔ وہ ہر ہر چیز سے بڑا ہے۔ 

اسے پکاریں وہ آپ کی سنے گا، وہ آپ کو جواب دے کا۔ وہ آپ کے خوف، مشکلات، پریشانیوں، بیماریوں، ہر چیز سے بڑا ہے۔ وہ ہی ان سب کو دور کرے گا۔ 

*اس کو پکار کر تو دیکھیں!!* 

نماز کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے یہ سب چیزیں دماغ میں لائیں اور پھر سوچیں کہ میرا اللّٰہ تو اس سب سے بڑا ہے۔ اور اس سوچ کے ساتھ نماز پڑھیں۔ پھر ان شاءاللہ آپ کی نماز میں بہتری آۓ گی۔

 *تقبل منا ومنکم صالح الاعمال* 

*رب سے جڑنے کا سفر*

Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy

 Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy 🎙️  لیکچر  نمبر  01 سورہ الفاتحہ  | آیت...