*ZarThoughts*. Wélcôme in ZårThóughts Islamîc Motivational Blóg I Wrïtë here Islamic BoostUp Blogs in urdu i m willing to write top qualities Mōtïvãtîōnãl Islamic Articles, Quranîc Vérsès wîth creative design. I am graduated in English(Literature Linguistic) Subject . I am Expert in Quran Teaching having a great experience.
Tuesday, January 7, 2025
ایصال ثواب ZarThoughts
🌸ایصالِ ثواب🌸
🌸رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
جب انسان فوت ہوجاتا ہےتو *تین* اعمال کے سوا اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔
◀صدقہ جاریہ
◀وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے۔
◀نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے
🌸صدقہ جاریہ🌸
صدقہ جاریہ سے مراد خیر و بھلائ کےان کاموں میں مال خرچ کرناہے جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔
جیسے
🌸مسجد
🌸اسکول
🌸مدرسہ
🌸مسافر خانہ
🌸ہسپتال کی تعمیر
🌸کوئ مفید دوا بنانا
🌸پانی پلانے کا انتظام
🌸کنواں کھوانا
🌸سایہ دار یا پھل دار درخت لگوانا
وغیرہ
🌸مسجد تعمیر کرنا🌸
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
”جس نے اللہ کے لیے قطات (پرندے) کے گھونسلے جتنی یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائ تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر تیار کریں گے“
*سنن ابی ماجہ۔738*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص اللہ کے لیے کوئ مسجد بناۓ گا تو اللہ تعالی اس کے لیے اسی طرح کا ایک گھر جنت میں بنادے گا“
*صحیح مسلم۔1189*
🌸پانی کا انتظام کرنا🌸
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
“جس نے کوئ کنواں کھدوایا پھر جو بھی پیاسا جاندار اس میں سے پانی پیے گا خواہ وہ جن ہو۔انسان ہو یا کوئ پرندہ تو قیامت تک اللہ تعالی اس شخص کو اجر دیتا رہے گا“
*صحیح الترغیب و الترھیب۔271*
کنواں کھدوانے کے علاوہ دیگر طریقوں کے ذریعے پانی کا انتظام کرنا بھی باعث ثواب ہے۔
مثلا
ہینڈ پمپ اور الیکٹرک کولر لگانا
🌸درخت لگانا🌸
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس مسلمان نے کوئ درخت لگایا تو جو اس درخت سے کچھ کھا گیا وہ اسکے لیے صدقہ ہے۔جو اس میں سے چوری ہوگیا وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔جو درندوں نے کھا لیا وہ بھی اسکے لیے صدقہ ہے اور جو بھی اس میں کمی کرے گا مگروہ بھی اسکے لیے صدقہ ہوگا“
*صحیح مسلم۔3968*
🌸مسافروں کی ضروریات کا خیال رکھنا🌸
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
”یہ مال سر سبز و شیریں ہے اور مسلمان بہترین ساتھی ہے جب کہ اس میں سے مسکین۔یتیم اور مسافر کو دیا جاۓ“
*صحیح البخاری۔1465*
🌸نفع بخش علم🌸
🌸قرآن و حدیث کی تعلیم دینا۔
🌸امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا۔
🌸دین کی نشر و اشاعت کے دیگر کام جیسے مستند دینی کتب لکھنا۔درس و تدریس پر مشتمل کیسٹس اور سی ڈیز کی تیاری۔
🌸مفید سائنسی ایجاد وغیرہ🌸۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بے شک اللہ۔اس کے فرشتے۔آسمانوں اور زمیں کی ہر چیز یہاں تک کہ اپنے بلوں میں موجود چیونٹیاں اور مچھلیاں لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والے کے لیے دعا کرتی ہیں۔“
*سنن الترمزی۔2685*
🌸نیک اولاد
اولاد کی صحیح تربیت والاقیامت تک اس کی کمائ وصول کرتا رہے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بلاشبہ اللہ تعالی جنت میں نیک آدمی کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے:
“اے میرے رب!یہ درجہ کیسے حاصل ہوا؟تو اللہ تعالی فرماتا ہے:تیری اولاد کی تیرے لیے دعاۓ مغفرت ہے“
*مسند احمد۔ج۔(10610-16)*
Monday, January 6, 2025
نفس انسانی کی تین حالتیں ZarThoughts
*🔮نفس انسانی کی تین حالتیں🔮*
*1۔ نفس مطمئنہ۔* ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27)
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ
*نفس مطمئنہ :* جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے
*2۔ نفس لوّامہ* ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2)
وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ
*نفس لوامہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟
*3۔ نفس امّارہ۔* گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53)
وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ
*نفس امارہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے ۔
بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ نفس کی الگ الگ تین قسمیں نہیں بلک ایک ہی نفس کی مختلف کیفیات وصفات ہیں۔ چنانچہ نفس امارہ ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت وغضب کے وقت عقل وشرع کے حکم پر غلبہ کرتا ہے۔ لوامہ ہونا بھی ہر نفس کی صفت ہے جس وقت وہ عقل وشرع کی طرف توجہ کرتا ہے اور خیر وشر کے درمیان فرق و پہچان کرتا ہے۔ اور مطمئنہ بھی ہر نفس کی صفت ہے مگر یہ صفت اور کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر کا نور بدن کے تمام اجزاء پر غالب ہوجاتا ہے
*نفس امارہ :* قرآن کریم میں نفس کا لفظ تین مختلف معنوں میں آیا ہے، ایک تو یہاں نفس امارہ کے معنوں میں یعنی وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس کو حیوانیت کا نام دیتے ہیں کہ انسان کے اندر نفس امارہ ہے جو انسان کو جانوروں والی حیوانیت اور سفاکیت پر ابھارتا ہے۔
Sunday, January 5, 2025
ZarThoughts
`پرفتن دور میں مومن کیلئے پانچ ثابت قدمی کی راہیں`
1. تلاوت القرآن:
{كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا}
ترجمہ: "اسی طرح ہم نے اسے (قرآن کو) تیرے دل کو مضبوط کرنے کے لیے نازل کیا اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔" (سورۃ الفرقان: 32)
2. مطالعة سیرة النبویة:
{وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ}
ترجمہ: "اور ہم سب رسولوں کے واقعات آپ کو سناتے ہیں تاکہ اس سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔" (سورۃ ہود: 120)
3. عمل بالعلم:
{وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا}
ترجمہ: "اگر وہ وہی کرتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ ثابت قدمی کا باعث ہوتا۔" (سورۃ النساء: 66)
4. دعاء بالثبات:
{رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ}
ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 8)
5. الصحبة الصالحة:
{وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَاةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ}
ترجمہ: "اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ صبر سے رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار ہیں۔" (سورۃ الکہف: 28)
Saturday, January 4, 2025
ZarThoughts سماجی تعلقات کے اصول
🔮 *سماجی تعلقات کے اصول:* 🔮
1. **متواتر کالز نہ کریں:* اگر کوئی شخص ایک یا دو بار میں آپ کی کال کا جواب نہیں دیتا، تو فرض کر لیں کہ وہ مصروف ہے۔
2. **قرض واپس کریں:* جو پیسے یا چیزیں آپ نے قرض لی ہیں، انہیں وقت پر واپس کریں۔ یہ آپ کی دیانت داری اور کردار کی علامت ہے۔
3. **کھانے کی دعوت:* جب کوئی آپ کو کھانے پر مدعو کرے، تو کبھی سب سے مہنگا آئٹم نہ مانگیں۔
4. **ناپسندیدہ سوالات سے گریز کریں:** کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کریں جیسے شادی، بچے، یا مالی حالات پر سوالات کرنا۔
5. **دروازہ کھولنا:** ہمیشہ اپنے پیچھے آنے والے شخص کے لیے دروازہ کھولیں، یہ عمر یا جنس سے بالاتر ہے۔
6. **اگلے موقع پر ادائیگی کریں:** اگر آپ کے دوست نے ٹیکسی کا کرایہ دیا ہے، تو اگلی بار آپ ادائیگی کریں۔
7. **آراء کا احترام کریں:** دوسرے لوگوں کی آراء کا احترام کریں، کیونکہ ہر شخص کی دنیا کو دیکھنے کا اپنا زاویہ ہوتا ہے۔
8. **بات نہ کاٹیں:** جب کوئی بات کر رہا ہو تو اسے مکمل طور پر سنیں، پھر اپنی رائے دیں۔
9. **گفتگو کے دوران توجہ دیں:** اگر کسی کو آپ کی بات میں دلچسپی نہیں ہے، تو اپنی گفتگو کو جاری رکھنے کے بجائے اسے ختم کریں۔
10. **شکریہ کہنا:** جب کوئی آپ کی مدد کرے، تو شکریہ ادا کریں۔
11. **تعریف اور تنقید:** لوگوں کی تعریف عوام میں کریں اور تنقید نجی طور پر کریں۔
12. **وزن یا ظاہری شکل پر تبصرہ نہ کریں:** کسی کے وزن یا جسمانی حالت پر بات نہ کریں، بلکہ ان کی مثبت خصوصیات پر توجہ دیں۔
13. **کسی کی تصاویر مت کھینچے:** اگر کوئی آپ کو اپنے فون پر کچھ دکھاتا ہے، تو دوسری تصاویر یا ڈاکومنٹس پر نہ جائیں۔
14. **ذاتی سوالات سے گریز کریں:** اگر کوئی آپ کو بتاتا ہے کہ اس کا ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ ہے، تو مقصد مت پوچھیں۔
15. **ہر ایک سے عزت سے پیش آئیں:** صفائی کرنے والے یا کسی بھی پیشے کے فرد کے ساتھ اسی عزت سے پیش آئیں جس سے آپ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے ساتھ پیش آتے ہیں۔
16. **موبائل فون کا استعمال:** اگر آپ سے کوئی براہ راست بات کر رہا ہے، تو موبائل فون کا استعمال نہ کریں۔
17. **مشورہ دینا:** مشورہ صرف اس وقت دیں جب آپ سے پوچھا جائے۔
18. **ذاتی معلومات:** کسی شخص سے ذاتی معلومات جیسے عمر یا تنخواہ کے بارے میں نہ پوچھیں، جب تک وہ خود بات نہ کرے۔
19. **اپنے معاملات تک محدود رہیں:** دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کریں۔
20. **احترام کا اظہار:** جب آپ کسی سے بات کریں، تو اپنی آنکھوں سے رابطہ قائم کریں اور احترام کا مظاہرہ کریں۔
21. **دولت کا ذکر نہ کریں:** اپنی دولت کے بارے میں لوگوں کے سامنے بات نہ کریں جو کم خوشحال ہوں۔
22. **تعریف کریں:** لوگوں کو پسندیدگی اور احترام کے ساتھ پیش آئیں، کیونکہ یہ دل جیتنے کا بہترین طریقہ ہے.
Friday, January 3, 2025
ZarThoughts Motivational Thoughts
*اپنے یقین کو مدھم نہ پڑنے دو،
تم اللّٰه کو وہاں پاتے ہو جہاں سب چھوڑ جاتے ہیں۔
جب سب راستے بند ہو جائیں تو وہ اچانک آسانیاں بھیج دیتا ہے۔
جب راہیں تاریک ہوں تو کہیں سے جگنو امید تھامے آ ہی جاتا ہے۔
انسان کی سوچ وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں سے وہ اچانک اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔
پس تھام لو اسے اور تھامے رکھو۔
پھر دیکھو تمھارے حصے کی سحر طلوع ہو کر رہے گی۔*
ان شاء اللّٰه
🌸
Thursday, January 2, 2025
لاپرواہی سے خبردار رہیں ??ZarThoughts?
*🔮لاپرواہی سے خبردار رہیں🔮*
✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے یا بیٹی کی بلند آواز آپ کے یا کسی بڑے شخص کے ساتھ بولنے پر خاموش رہنا، انہیں بد زبانی اور بے باکی سکھاتا ہے۔
✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے یا بیٹی کے کسی بات یا نظر سے آپ یا کسی اور کا مذاق اُڑانے کو نظرانداز کرنا، انہیں دل کی سختی، بدتمیزی، اور بدسلوکی سکھاتا ہے۔
✅ لاپرواہی... اپنے بچے کو آپ سے الگ تھلگ رہنے دینا اور ان کا حقیقی یا ورچوئل دنیا میں گم ہو جانا، انہیں ایک بے حس انسان بنا دیتا ہے، جس کے بارے میں آپ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ زندہ ہے۔
✅ لاپرواہی... فرض عبادات چھوڑنے کی اجازت دینا، دل اور روح کو بہرا بنا دیتا ہے اور انہیں زندگی میں کوئی محفوظ پناہ گاہ یا معنی نہیں ملتا۔
✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے کو کچھ ذمہ داریوں سے بھاگنے کی اجازت دینا، آہستہ آہستہ اس کی اصل مردانگی کو ختم کر دیتا ہے۔
✅ لاپرواہی... اپنی بیٹی کو الفاظ، اعمال، اور لباس کے لحاظ سے حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت دینا، اسے عزت کے بجائے تحقیر کی نظروں کا شکار بناتا ہے۔
زیادہ مذاق اور غلط لوگوں سے تعلق رکھنے سے ایسے بیمار ذہن اور شریر افراد اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
✅ لاپرواہی... غلطیوں کو بار بار دہرانے کی اجازت دینا، انہیں عادت اور معمولی بنا دیتا ہے، کیونکہ جو سزا سے بے خوف ہو، وہ بدتمیز ہو جاتا ہے۔
✅ زیادہ نرمی... اپنے بیٹے یا بیٹی کے ساتھ حد سے زیادہ لاڈ پیار کرنا، ان میں ناشکری، بے حسی، دل کی سختی، اور شوق کی کمی پیدا کرتا ہے۔
✅ زیادہ سختی... ان کو ٹوٹ پھوٹ، محرومی، اور اپنے اوپر اور دوسروں پر اعتماد کھونے کا سبب بنتی ہے۔ یہ رویہ شدت پسند خیالات اور بعض اوقات خودکشی کی سوچ بھی پیدا کر سکتا ہے۔
✅ یاد رکھیں:
والدین یا دوسروں کے ساتھ بچوں کا بدتمیزی کرنا کوئی جدید یا ترقی یافتہ تربیت نہیں، بلکہ یہ ایک لعنت، نفسیاتی غربت، اور فکری جہالت کی نشانی ہے۔
✅ لاپرواہی... حلال و حرام کے درمیان فرق نہ کرنے کی اجازت دینا، شناخت کے کھو جانے، مذہب کے ستونوں کی بے حرمتی، اور گناہوں میں لذت محسوس کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اپنے بچوں کو ادب، پاکیزگی، اور احترام سکھائیں، باتوں میں، عمل میں، دل سے، لباس سے، اور رویے میں۔
ایسا نہ ہو کہ فاصلوں کو ختم کر کے وہ آپ کا مذاق اُڑانے لگیں یا تعلقات میں سرد مہری اور بے حسی غالب آ جائے، یہاں تک کہ بڑھاپے میں بھی ان کا ساتھ اور محبت کھو دیں۔
✅ نہ تو اپنے بچے کو اتنا لاڈ پیار دیں کہ وہ بگڑ جائے۔
✅ اور نہ ہی اتنا سخت بنائیں کہ وہ نفرت اور دوری اختیار کر لے۔
✅ ایک وقت میں سخت، دوست، ہمدرد، اور رہنما بنیں۔
✅ ہر حال میں اپنے گھر کے سربراہ اور قائد رہیں۔
برکت کیا یے؟؟ZarThoughts Story
*برکت صرف پیسوں کی کثرت میں نہیں ھوتی،*
برکات یہ بھی ھیں کہ ایک مہینہ، دو یا تین ماہ گزر جائیں اور تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہ پڑے، کیونکہ اللہ نے تمہاری صحت میں برکت دی ھو۔
برکت یہ ھے کہ موسم، دو یا تین بدل جائیں اور تمہیں نیا لباس لینے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ تمہارا جسم ویسا ھی رھے اور اللہ نے تمہارے لباس اور جسمانی حالت میں برکت رکھی ھو، کہ نہ لباس پھٹے اور نہ خراب ھو۔
برکت یہ ھے کہ تم تھوڑا کھانا کھاؤ اور سیر ہو جاؤ۔
برکت یہ ہے کہ تم کم سو کر بھی تروتازہ اٹھو۔
برکت یہ ھے کہ تم کوئی نئی بات سیکھو اور فوراً سمجھ جاؤ، بغیر کسی کی مدد کے۔
برکت یہ ھے کہ تم ایسی جگہ جاؤ جہاں رش ھو اور تاخیر کا اندیشہ ھو، لیکن اللہ تمہارے معاملات آسان کر دے، بغیر تمہاری کوشش کے۔
برکت یہ ھے کہ تم جہاں بھی جاؤ، لوگ تم سے محبت کریں، بغیر کسی اضافی محنت کے۔
برکت بے شمار چیزوں میں ھوتی ھے جنہیں گنا نہیں جا سکتا، مگر ھم خود ھی اپنی سوچ کو محدود کر لیتے ھیں۔
یا اللہ پاک عزوجل! جو تُو نے ھمیں عطا کیا ھے، اس میں برکت و رحمت عطا فرما۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین ،
یہ امت انٹرنیٹ پہ فدا ہو گئی ۔
فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء
یوں ہی قضا ہو گئی ۔
یا الله غریب رکھ یا امیر رکھ ،
بس اپنے قریب رکھ ،
میں تیرے علاوہ کسی کا محتاج نہ بنوں ،
*بس ایسا میرا نصیب رکھ ..*
*آمین ثم آمین یا رب العالمین ،*
Wednesday, January 1, 2025
ZarThoughts
*پورے علم و حکمت والا تو ہی ہے۔۔۔*
اللہ تعالیٰ پورے علم اور حکمت والا ہے ۔۔ ہے نا؟ کبھی محسوس کیا ہے اسے؟ اسکے علم کو ؟ اسکے علم میں چھپی حکمتوں کو؟
چلیں ہم اب جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس علم و حکمت والی ذات کو کیسے محسوس کیا جائے۔۔۔
کیا آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہو جو آپ چاہتے نہیں تھے کہ آپکے ساتھ ہو؟ آپ کچھ اور چاہتے تھے۔ لیکن کچھ اور ہو گیا۔ جو آپ چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا تھا۔ اور جو آپ نہیں چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا نہیں تھا۔۔
ایسا ہی تھا نا؟ یا ایسا ہی ہے نا؟؟
ہر ایک ساتھ ایسا ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی کام یا کوئی بات ہماری چاہ کے مطابق نہ ہو تو ہم اسے اپنے لیے برا سمجھ لیتے ہیں۔ پتا ہے کیوں؟ کیوں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ہم اللہ کے "علیم" ہونے اور "حکیم" ہونے کو بھلا دیتے ہیں۔
ہم بھول جاتے ہیں اللہ کو زیادہ پتا ہے کہ یہ کام ہمارے لیے بہتر ہے۔۔اسکا علم حکمتوں سے بھرا ہے۔ ہماری بہتری کی حکمتوں سے۔۔ جس میں ہمارے لیے بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔
یاد کریں! سوچیں جو آپکے ساتھ ہو چکا ۔ کچھ ایسا جو آپ نہ چاہتے ہوں۔ مثال کے طور پر دھوکہ ہی لگا لیں۔ آپکو کسی نے دھوکہ دیا۔ اب یہ آپکے نظریے اور علم کے مطابق آپکے برا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے مطابق یہی آپکے ٹھیک تھا۔لیکن کیسے؟ کیونکہ اگر آپکو دھوکہ نہ ملتا تو آپ بدلتے ہی نہ۔۔ آپ یونہی ہر ایک پر اندھا اعتماد کر کے اپنا کوئی بڑا نقصان کروا بیٹھتے۔
آپ کو اس دھوکے کی وجہ سے لوگوں کی پہچان کرنا آگئی ۔ آپ نے لوگوں کو پرکھنا سیکھ لیا۔ ورنہ ہر کوئی آپکو استعمال کرتا رہتا۔ اس لیے یہ دھوکہ آپکے لیے ضروری تھا۔ آپکو بہتر بنانے کیلئے ۔۔ اور اچھا بنانے کیلئے ۔ آپکو نکھارنے کیلئے ۔
اب آپ پہلے سے ایک بہتر انسان ہیں ۔
لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم صرف اس دھوکہ کے برے اثر کو دیکھتے ہیں کہ ہاں بھئی میرا ساتھ برا ہو گیا۔۔ بھئی کیوں ہو گیا برا؟؟ اپنے اندر آئے بدلاو کو بھی تو دیکھے نا۔ جو سبق جو نصیحت آپکو ملی کیا وہ کسی سکول کالج سے مل سکتی تھی؟ بلکل نہیں۔ یہ نصیحتیں یہ بدلاو ایسے ہی آتے ہیں۔۔ یہ اللہ کے کام ہیں۔۔ہم ویسے سمجھتے ہی نہیں۔ بلکہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
اس لیے اگر آپکے ساتھ کچھ برا ہوت تو وہ اصل میں برا نہیں ہوتا بلکہ آپکو کسی بڑی مصیبت سے بچانے اور لڑنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔۔
آپکی ٹریننگ ہوتی ہے۔ مشکل حالات سے گزار کر۔۔ ان آزمائشوں کو اپنے لیے برا ہر گز نہ سمجھیں۔ یہ آپکی پرورش کر رہی ہیں۔ آپکو مضبوط بنا رہی ہیں۔ایک بڑے دن میں حساب کیلئے ۔۔ایسا خوفناک دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔۔۔
اس لیے اپنے کم علم کی بنا پر اللہ سے شکوہ نہ کریں۔ وہ زیادہ علم والا ہے۔اور وہی حکمت والا ہے۔ وہ بہتر جانتا کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔۔۔ہم نہیں جانتے۔
ہم تو پیدا ہونے سے پہلے اپنے ماں باپ کو بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کوم ہوں گے تو ہم زندگی کے باقی معاملات کو کیسے جان سکتے ہیں؟ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چیز ہمارے لیے ٹھیک نہیں؟
اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر یقین کرنا ، توکل کرنا شروع کریں۔ یقین کریں اس سے بڑھ کر آپکے فائدہ یا نقصان کی اور کسی کو فکر نہیں۔ ہمیں خود بھی نہیں۔۔۔۔۔
Tuesday, December 31, 2024
Motivational Story
یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شاندار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘
ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا چاہتے ہیں‘ ہم چاہتے ہیں جو جوتا پہنیں وہ کسی دوسرے کے پاس نہ ہو‘ شہر کی سب سے لمبی‘ مہنگی اور شاندار گاڑی ہمارے پاس ہونی چاہئے‘ملک کا‘ شہر کا اور محلے کا سب سے بڑا اور مہنگا گھر ہمارا ہونا چاہئے‘ شہر کی سب سے خوبصورت لڑکی ہماری بیوی ہونی چاہئے‘ ہمارے بچے شہر کے تمام بچوں سے خوبصورت ہونے چاہئیں‘ ہم ملک کی سب سے بڑی نوکری حاصل کریں اور ہم جب کاروبار میں قدم رکھیں تو وہ تیزی سے ترقی کرے اور لوگ ہمارے نام‘ ہماری شکل سے واقف ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب ایک مختلف انسان تھے‘ وہ ایک ’’ایوریج‘‘ زندگی گزارنا چاہتے تھے‘ وہ کسی امتحان میں ٹاپ نہیں کرنا چاہتے تھے‘ وہ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتے تھے‘ وہ رٹے لگاتے تھے‘ اساتذہ سے نمبر حاصل کرنے کیلئے تعلقات بڑھاتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت صرف دو تین گھنٹے پڑھتے تھے‘ یہ امتحان کے دنوں میں بھی رات کو نیند پوری کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا میں صرف زیادہ نمبر لینے کیلئے اپنی نیند قربان نہیں کر سکتا‘ یہ لمبی تان کر سوتے تھے اور ان کی اس درویشی کو ان کے ساتھی بے حسی اور بے وقوفی قرار دیتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب خوش تھے‘ انہوں نے اس عالم میں درمیانے درجے کے نمبر لے کر ایم بی بی ایس کر لیا‘ یہ ڈاکٹر بن گئے
ڈاکٹر بننے کے بعد ان کے تمام ساتھی‘ تمام کلاس فیلوز سپیشلائزین میں جت گئے لیکن ڈاکٹر صاحب نے مزید پڑھنے سے انکار کر دیا‘یہ چھوٹے سے ہسپتال میں فزیشن بھرتی ہو گئے اور سرکاری تنخواہ پر گزارا کرنے لگے‘ ان کے ساتھی ہسپتال سے واپس آ کر بمشکل لنچ کرتے تھے‘ سہ پہر کو پرائیویٹ پریکٹس میں لگ جاتے تھے اور رات گئے تک نوٹ بنانے میں لگے رہتے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب ہسپتال سے واپس آ کر آرام کرتے تھے‘ شام کو جاگنگ کرتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے‘ کتابیں پڑھتے تھے‘ میوزک سنتے تھے‘ دوستوں سے ملتے تھےاور اس دوران اگر کوئی مریض آ جاتا تھا تو یہ اس کا مفت علاج کرتے تھے‘ یہ ان دنوں اپنی آمدنی میں اضافے کے بارے میں بھی ہرگز ہر گز نہیں سوچتے تھے‘ یہ اپنی تنخواہ میں مزے کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے‘ ان کا چھوٹاسا گھرتھا‘ گھر میں اے سی نہیں تھا‘
ان کے پاس چھوٹا سا فریج تھا اور یہ موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے‘ یہ ان سہولتوں کو اپنے لئے کافی سمجھتے تھے‘ انہوں نے زندگی کو ان چیزوں سے آگے نہیں دیکھا تھا۔اس دوران ڈاکٹر صاحب کی شادی کا وقت آ گیا‘ ڈاکٹر صاحب نے اس معاملے میں بھی ’’میانہ روی‘‘ اختیار کی‘ اس وقت جب ان کے تمام ساتھی ‘تمام دوست اور تمام کلاس فیلو سب سے اچھی‘ سب سے خوبصورت لڑکی اور سب سے اچھا خاندان کے چکر میں تھے ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایک واجبی شکل و صورت کی عام سی لڑکی منتخب کی اور اس کے ساتھ شادی کر لی‘ یہ دونوں میاں بیوی اس چھوٹے سے گھر میں خوش رہنے لگےبعدازاں بچے پیدا ہو گئے‘ ڈاکٹر صاحب ان بچوں کیلئے بھی بڑے سکولوں اور اعلیٰ ترین تعلیم کے پیچھے نہیں بھاگے‘ انہوں نے بچوں کو عام سے تعلیمی اداروں میں داخل کرایا کیونکہ یہ پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرتے تھے چنانچہ شام کے وقت ان کے پاس ٹھیک ٹھاک وقت ہوتا تھا لہٰذا یہ بچوں کو خود پڑھا لیتے‘
ان کے بچے بھی زیادہ ذہین نہیں تھے‘ یہ درمیانے درجوں میں پاس ہوتے تھے اور ڈاکٹر صاحب نے اپنے بچوں کو کبھی ٹاپ کرنے یا اول پوزیشن حاصل کرنے کی ترغیب نہیں دی‘یہ بس انہیں پاس ہونے اور تعلیم مکمل کرنے کا سبق دیتے تھے‘ ڈاکٹر صاحب کے بچے بھی اس اپروچ کے ساتھ خوش تھے کیونکہ وہ سکول سے واپس آ کر کھانا کھاتے تھے‘ آرام کرتے تھے‘ شام کو کھیلتے تھے‘ تھوڑا سا پڑھتے تھے‘ ٹی وی دیکھتے تھے اور سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ واک کرتے تھے اور بس ۔ وہ بچے ٹاپ کی ریس سے الگ تھے چنانچہ ان کے پاس بھی خوش رہنے اور مطمئن رہنے کے بے شمار بہانے تھےلیکن آپ ہر گز ہر گز یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ یہ کہانی اسی طرح چلے گی۔ اس کہانی میں ایک بہت دلچسپ ٹرن آیا۔
ڈاکٹر صاحب نے ایک دن سوچا انہیں ملک سے باہر جانا چاہئے‘ اس وقت ان کے کولیگز‘ ان کے دوست بڑے بڑے ملکوں کی طرف جا رہے تھے‘ کوئی امریکی سفارتخانے کے سامنے قطار میں لگا تھا‘ کوئی برطانیہ جانے کے منصوبے بنا رہا تھا‘ کسی نے کینیڈا اور آسٹریلیا کی امیگریشن کیلئے اپلائی کر رکھا تھالیکن ڈاکٹر صاحب نے اس وقت ایسے ملک کا انتخاب کیا جہاں کوئی پاکستانی ڈاکٹر جانا پسند نہیں کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے پورے خاندان کے ساتھ مالدیپ چلے گئے‘ انہیں مالدیپ کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں جاب مل گئی اور یہ فیملی سمیت مالدیپ شفٹ ہو گئے۔ وہاں بھی انہوں نے خاندان بھر کو سائیکلیں لے کر دیں اور یہ سارا خاندان مالدیپ کے قدرتی حسن کو انجوانے کرنے لگا‘ بچے سکول میں درمیانے درجے کے طالب علموں کی طرح پڑھتے‘بیگم صاحبہ منڈی سے سبزیاں‘ پھل اور اناج خریدیتیں اور سارا خاندان شام کو واک کرتا‘ قہقہے لگاتا اور زندگی کو بھر پور طریقے سے انجوائے کرتا‘ یہ لوگ ویک اینڈ مناتے اور خوب موج مستی بھی کرتے‘ ان کیلئے زندگی واقعی خوبصورت نعمت تھی اور انہوں نے مالدیپ کے دنوں کو بھر پور طریقے سے گزارا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کی زندگی میں ایک اور موڑ آیا۔
انہوں نے ایک دن اخبار میں پڑھا آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک فزیشن کی ضرورت ہے‘آسٹریلوی حکومت کو اس پوسٹ کیلئے ایک ایسا ڈاکٹر چاہئے جو محض ڈاکٹر ہو اوراس نے کسی قسم کی سپیشلائزیشن نہ کر رکھی ہو۔ یہ آسٹریلیا کی ایک غیر معروف جگہ تھی لہٰذا وہاں کوئی نہیں جاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب بھیڑ چال میں چلنے والے شخص نہیں تھے‘ یہ درمیان میں رہنے والے ایک ایسے معتدل شخص تھے جنہوں نے کبھی اول آنے کی دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی چنانچہ انہوں نے اس جاب کیلئے اپلائی کر دیا‘یہ اس علاقے کے پہلے فارنر ڈاکٹر تھے‘ علاقے کے لوگ اور مقامی انتظامیہ ان کے ٹیلنٹ سے متاثر ہوئی اور انہوں نے انہیں پورے علاقے کے ہسپتالوں کا انچارج بنا دیا‘ یہ پانچ ہندسوں میں تنخواہ لینے لگے‘ حکومت نے انہیں دو ہزار ایکڑ زمین بھی دے دی‘ انہوں نے اس زمین میں فارم بنا لیا‘ یہ فارم ان کیلئے سونے کی کان ثابت ہوا.
اور یہ چند برسوں میں اس علاقے کے امیر ترین شخص بن گئے اور آج ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں بھی ہیں‘یہ ہیلی کاپٹر کے مالک بھی ہیں‘ ان کے پاس ایکڑوں پر محیط گھر بھی ہے اور اس گھر میں آبشاریں اور ندیاں بھی ہیں اور ان کا بینک بیلنس بھی ہے لیکن یہ اس کے باوجود ایک ایوریج زندگی گزار رہے ہیں‘یہ دوپہر کو آرام کرتے ہیں‘ سہ پہر کے وقت بچوں کے ساتھ جاگنگ کرتے ہیں‘ شام کو ٹی وی دیکھتے ہیں‘ کتابیں پڑھتے ہیں‘ میوزک سنتے ہیں‘ دوستوں کے ساتھ گپ لگاتے ہیں اور گولیوں کے بغیر صبح شام گزارتے ہیں اور آج ان کے وہ تمام کلا س فیلوز ‘ وہ تمام ساتھی سکھ‘ خوشی‘ اطمینان‘ صحت‘ دولت‘ کامیابی اور کامرانی میں ان سے بہت پیچھے ہیں‘ جو کبھی راتوں کو جاگ جاگ کر رٹے لگاتے تھے‘ جو اول آنے کی دوڑ میں اپنی آنکھیں سرخ کر لیتے تھے‘ جو بڑے فریج‘ بڑی گاڑی‘ بڑے گھر‘ بڑے بینک بیلنس اور واہ جی واہ کیلئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے تھے‘ جو ہسپتال جاتے تھے‘ شام کو کلینک کرتے تھے اور دواؤں سے پیسے کھاتے تھےاور جنہوں نے میڈیکل کے پروفیشن کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن’’ایٹ دی اینڈ آف دی ڈے‘‘ ہمارے یہ ڈاکٹر صاحب دنیاوی کاموں میں بھی ان سے آگے نکل گئے‘
ان کے ساتھیوں کی وہ بیگمات جن کیلئے انہوں نے زمین آسمان ایک کر دیا تھا‘ وہ بیمار‘ بوڑھی اور بدصورت ہو گئیں لیکن ان کی بیگم بوڑی ہو کر بھی ایوریج رہی‘ ان کے ساتھیوں کے وہ بچے جن کی تعلیم کیلئے انہوں نے بڑے بڑے پاپڑ بیلے تھےوہ سب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے والدین کو چھوڑ کرچلے گئے لیکن ڈاکٹر صاحب کے ایوریج بچے آج بھی ان کے ساتھ ہیں چنانچہ ڈاکٹر صاحب کا ماضی بھی خوشیوں سے بھرپور تھا‘ حال بھی اور مستقبل بھی۔ہمارے پاس ٹاپ کی دوڑ کے علاوہ بھی ایک راستہ ہوتا ہے‘ اعتدال کا راستہ‘ ایوریج زندگی کا راستہ اور درمیان کا راستہ اور یہ وہ راستہ ہوتا ہے جس میں خوشیاں ہوتی ہیں لیکن ہم لوگ ٹاپ کی دوڑ میں لگ کر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں‘ہم اپنے ماضی‘ اپنے حال اور اپنے مستقبل تینوں کو زہریلا کر لیتے ہیں اور آخر میں جا کر ہمیں اچانک محسوس ہوتا ہے ٹاپ کی اس دوڑ میں ہمارے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں آیا‘ ہم تو بیلنس شیٹ کے سوا زندگی سے کچھ نہیں کما سکے۔ کاش ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کی طرح سوچیں‘ ہم خوشی کو کامیابی پر فوقیت دیں‘ ہم درمیان کا راستہ منتخب کرلیں...
Motivational Story
"وضو کرتے وقت غفلت میں نہ رہیں"
یہ ایک خوبصورت نصیحت ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو وضو کرتے وقت ہنستے، باتیں کرتے یا دوسروں کی برائی کرتے ہیں۔
وضو کی اہمیت اور روحانی پہلو:
ایک دوست نے مجھ سے پوچھا:
"تم وضو کیسے کرتے ہو؟"
میں نے بے دلی سے جواب دیا:
"جیسا سب کرتے ہیں!"
وہ مسکرایا اور بولا:
"اور لوگ کیسے وضو کرتے ہیں؟"
میں نے کہا:
"جیسا تم کرتے ہو!"
اس نے کہا:
"یہ غلط ہے۔ میں وضو کرتے وقت ایک خاص روحانی حالت میں ہوتا ہوں۔ مجھے وضو میں خوشی اور لطف محسوس ہوتا ہے، اس کے ساتھ حلاوت، خوبصورتی اور سکون ملتا ہے۔ یہ سب مجھے نماز میں زیادہ خشوع عطا کرتا ہے۔"
وضو کی روحانی تاثیر:
اس نے مجھے رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث مبارکہ یاد دلائی:
"جب کوئی مومن وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے، تو اس کے چہرے سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو، حتیٰ کہ وہ پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے، تو اس کے ہاتھوں سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا ہو، حتیٰ کہ وہ بھی پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتا ہے۔ جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو اس کے پاؤں سے ہر وہ گناہ دھل جاتا ہے جو اس نے ان سے چل کر کیا ہو، حتیٰ کہ وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔" (صحیح مسلم)
وضو کو نور بنائیں:
دوست نے کہا:
"اس حدیث کو غور سے دیکھو، تمہیں وضو میں لذت اور خوشی محسوس ہوگی۔ وضو کا پانی تمہارے جسم کو نہیں بلکہ تمہارے دل کو بھی صاف کر رہا ہے۔"
میں نے کہا:
"سبحان اللہ! یہ بات میرے ذہن میں کیوں نہ آئی؟ میں نے ہمیشہ وضو کو ایک معمولی عمل سمجھا۔ بس اعضا دھو کر فارغ ہو جاتا تھا، مگر روحانی تاثیر کو کبھی محسوس نہ کیا۔"
دوست نے کہا:
"جب تم وضو کرتے وقت دل کو حاضر کرو گے، تو یہ تمہیں اللہ کے قریب کر دے گا۔ تمہارا دل روحانی معانی سے بھر جائے گا اور یہ نماز کے لیے بہترین تیاری ہوگی۔"
وضو کو عادت بنائیں:
میں نے جواب دیا:
"یہ تو مجھے ہر نماز سے پہلے وضو کرنے کی ترغیب دے رہا ہے، چاہے میرا وضو قائم ہی کیوں نہ ہو۔"
دوست نے مسکراتے ہوئے کہا:
"یہی بات! وضو کو ہمیشہ برقرار رکھو۔ ہر بار جب گھر سے باہر نکلو تو وضو کرو تاکہ زندگی کی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ایک پاک دل کے ساتھ کر سکو۔"💞💞
Monday, December 30, 2024
ZarThought's Motivational Story
*”بل (Bill) کیا ہوتا ہے امی؟“* آٹھ سال کے بچے نے اپنی ماں سے پوچھا۔ ماں نے اسے
سمجھایا، جب ہم کسی سے کوئی سامان خریدتے ہیں یا کوئی کام کرواتے ہیں تو وہ اس
سامان یا کام کے بدلے میں ہم سے پیسے لیتا ہے اور ہم کو اس سامان یا کام کی لسٹ بنا
کر دیتا ہے، اسی کو ہم بل کہتے ہیں۔ بچے کو ماں کی بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔
رات کو سونے سے پہلے اس نے ماں کے تکیے کے نیچے ایک پیپر رکھا جس میں اسی دن کا
حساب لکھا ہوا تھا: دوکان سے سامان لا کر دیا *پانچ روپے* بابا کی بائیک صاف کر کے
باہر نکالی *پانچ روپے* دادا جی کا سر دبایا *دس روپے* دادی امی کی چابیاں ڈھونڈ کر
دی *دس روپے* ٹوٹل ہوا تیس روپے۔ یہ صرف آج کا بل ہے، اس کو آج ہی دے دیں تو نوازش
ہو گی۔ صبح جب بچہ اٹھا تو اس کے تکیے کے نیچے تیس روپے رکھے ہوئے تھے۔ وہ انھیں
دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ یہ تو بہت اچھا کام ہو گیا۔ تبھی اس کی نظر ساتھ رکھے کاغذ
پر پڑی۔ اس کی امی نے لکھا تھا: پیدائش سے لے کر آج تک پالا پوسا *معاوضہ صفر*
بیمار ہونے پر ساری ساری رات سینے سے لگا کر گھمایا، بہلایا *معاوضہ صفر* اسکول
بھیجنا اور ہوم ورک کروانا *معاوضہ صفر* صبح سے رات تک کھلانا، پلانا، کپڑے تبدیل
کروانا، استری کرنا *معاوضہ صفر* حد سے زیادہ تمھاری فرمائشیں پوری کرنا *معاوضہ
صفر* یہ اب تک کا پورا بل ہے۔ اس کی جب بھی قیمت ادا کرنا چاہو، کر دینا۔ بچے کی
آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ سیدھا جا کر اپنی ماں کے پاؤں پر جھک گیا اور بہت مشکل سے
روتے ہوئے کہنے لگا: آپ کے بل میں تو قیمت لکھی ہی نہیں ہے امی۔ یہ تو *انمول* ہے۔
اس کی *قیمت* تو میں زندگی بھر ادا نہیں کر سکوں گا، مجھے معاف کر دیں پیاری امی۔
امی نے ہنستے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ *نوٹ:* یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں
خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
*رب سے جڑنے کا سفر*
Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy
Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy 🎙️ لیکچر نمبر 01 سورہ الفاتحہ | آیت...
-
امت کی تاریخ سن کر انسان حیران ہوجاتاہے کہ مومن مرد اور مٶمن عورتیں علم کے ہنر پر مزئن اور خوبصورت ہوا کرتے تھے اور ان کی زندگی جہاد میں گ...
-
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ Roman: A'oozu billahi min ash-shaytaan ir-rajeem Word to Word Traslation in Urdu & En...










