Saturday, April 18, 2026

Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy

 Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy




🎙️  لیکچر  نمبر  01

سورہ الفاتحہ  | آیت 1 |

 اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

⏱️ کل وقت: 30 منٹ

 INTRO

⏱️ (0:00 — 2:00 منٹ)

"بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"

"اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

 "آج کا سیشن بہت special ہے۔

ہم آج قرآن کی وہ آیت پڑھیں گے جو آپ نے اپنی زندگی میں ہزاروں بار پڑھی ہے .

نماز میں، گھر میں، زبان پر 

لیکن آج شاید پہلی بار اس کو اندر سے سمجھیں گے۔

آج کے بعد جب بھی یہ آیت پڑھیں گے —

وہی الفاظ ہوں گے، لیکن feel بالکل مختلف ہوگی۔"

 PART 2

⏱️ (2:00 — 4:00 منٹ)

 "جب کوئی آپ کی تعریف کرے — آپ کو کیسا لگتا ہے؟"

"سچ بتاؤ — اچھا لگتا ہے ناں؟

ماں تعریف کرے — دل خوش ہو جاتا ہے۔

Teacher کہے well done — دن بن جاتا ہے۔

کوئی notice کرے — motivation مل جاتی ہے۔"

"اب ذرا سوچو 

اللہ نے اپنی پوری کائنات بنائی۔

آسمان، زمین، چاند، سورج، ہم سب 

اور پھر اپنی کتاب کا آغاز کیا 

تو پہلا لفظ کیا رکھا؟"

"اَلْحَمْدُ — یعنی تمام تعریفیں۔"

"اللہ نے کہا — میری تعریف کرو۔

یہ narcissism نہیں 

یہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔

آج ہم جانیں گے — کیوں۔"

 PART 3:  

⏱️ (4:00 — 5:00 منٹ)

"آج ہم یہ کریں گے  

 لفظ بہ لفظ تجوید سیکھیں گے

 ہر لفظ کا مطلب سمجھیں گے

 اسکالرز کی تفسیر سنیں گے

 اپنی زندگی سے کنکشن بنائیں گے

 ایک عمل لے کر جائیں گے

"30 منٹ — لیکن میں promise کرتی ہوں 

یہ 30 منٹ آپ کی زندگی کے سب سے قیمتی 30 منٹ بنیں گے۔

بس ایک کام کرو 

جو بھی دل میں چل رہا ہے 

فون، فکر، کام 

سب ایک طرف رکھ دو۔

اگلے 30 منٹ صرف اللہ کے کلام کے ساتھ رہو۔"

"بِسْمِ اللہ — شروع کرتے ہیں۔"

PART 4: 

پوری آیت — تلاوت + ترجمہ

⏱️ (5:00 — 7:00 منٹ)

"سب سے پہلے پوری آیت سنو — صرف سنو، سمجھنے کی کوشش نہ کرو ابھی۔"

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

"اب اس کا مکمل ترجمہ:"

"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں —

جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔"

"یہ صرف ایک جملہ نہیں 

یہ ایک اعلان ہے۔

ایک declaration ہے۔

آج ہم اسے توڑ توڑ کر سمجھیں گے۔"

PART 5: 

لفظ بہ لفظ  تجوید + ترجمہ

⏱️ (7:00 — 15:00 منٹ)

 لفظ نمبر 1: اَلْحَمْدُ

"پہلا لفظ ہے — اَلْحَمْدُ"

"پہلے تجوید سمجھو:"

اَلْ — یہاں لامِ قمری ہے

کیونکہ 'ح' قمری حروف میں سے ہے

یعنی لام ظاہر پڑھو — دبانا نہیں

حَ — یہ حرف وسطِ حلق سے نکلتا ہے

گلے کے بیچ سے — ہلکی گہرائی کے ساتھ

نہ بہت اندر سے، نہ منہ کے سامنے سے

مْدُ — م پر ہونٹ ملیں گے، صاف بند ہوں

د زبان کی نوک اوپر کے دانتوں کی جڑ سے

 اَلْحَمْدُ"

"اب مطلب:"

"حمد کا مطلب صرف Thank You نہیں 

یہ تین چیزوں کا مجموعہ ہے:"

1. تعریف — اللہ کی صفات پر

2. شکر — اللہ کی نعمتوں پر

3. محبت — دل سے، خوشی سے

"اردو میں Thank You کہتے ہو جب کوئی کچھ کرے —

لیکن حمد کہتے ہو کیونکہ اللہ کامل ہے —

چاہے وہ کچھ کرے یا نہ کرے۔"

"سوچو 

اگر اللہ نے آج تمہیں کوئی نئی نعمت نہ دی ہوتی 

پھر بھی کیا وہ تعریف کے لائق ہے؟"

"ہاں — کیونکہ وہ ہے ہی کامل

یہی فرق ہے Thank You اور الحمدللہ میں۔"

 لفظ نمبر 2: لِلَّهِ

"دوسرا لفظ — لِلَّهِ"

"تجوید:"

لِ — زیر کے ساتھ

لَّ — لام مشدد — ذرا رکو اس پر

هِ — آخر میں زیر

"یہاں بہت اہم rule ہے —"

"اللہ" سے پہلے اگر زیر ہو → لام باریک پڑھو (ترقیق)

 "اللہ" سے پہلے اگر زبر یا پیش ہو → لام موٹا پڑھو (تفخیم)

"یہاں لِلَّهِ — زیر ہے → باریک پڑھیں گے"

(ایک بار کلاس سے دہرائیں)

"مطلب: اللہ کے لیے "

"صرف اللہ کے لیے 

کسی اور کے لیے نہیں۔

یہ لام اختصاص کا لام ہے 

یعنی یہ حق صرف اللہ کا ہے، کسی اور کا نہیں۔"

 لفظ نمبر 3: رَبِّ

"تیسرا لفظ — رَبِّ"

"تجوید:"

رَ — زبان کی نوک اوپر کے تالو کے قریب

بِّ — ب مشدد — دونوں ہونٹ مل کر ذرا رکیں

(ایک بار دہرائیں)

"مطلب — رب"

"رب کا ترجمہ صرف 'Lord' نہیں —

رب وہ ہے جو:"

 پیدا کرے

 پالے

 سنبھالے

 بڑھائے

 مکمل کرے

"ماں بچے کو پالتی ہے  وہ بھی ایک طرح کی ربوبیت ہے 

لیکن اللہ کی ربوبیت؟

وہ تمہیں اس وقت بھی پال رہا ہے جب تم سو رہے ہو 

جب تم اسے بھول جاتے ہو 

جب تم اس سے منہ موڑ لیتے ہو 

پھر بھی دل چل رہا ہے، سانس آ رہی ہے۔"

لفظ نمبر 4: الْعَالَمِينَ

"چوتھا لفظ — الْعَالَمِينَ"

"تجوید:"

اَلْ   یہاں لامِ قمری 

ع قمری حروف میں ہے → لام ظاہر

عَا   ع گلے کے نچلے حصے سے م آواز میں گہرائی

لَمِيْنَ — ی مدّ — ذرا کھینچو

(ایک بار دہرائیں)

"مطلب: تمام جہان "

"عالمین   صرف انسان نہیں 

جنات، فرشتے، جانور، پودے، پانی، ہوا 

جو کچھ بھی exist کرتا ہے 

سب کا رب اللہ ہے۔"

"تم اکیلے نہیں ہو 

تمہاری ہر سانس، ہر دھڑکن 

ایک ایسے رب کی نگرانی میں ہے

جو پوری کائنات کا رب ہے 

لیکن پھر بھی تم پر نظر رکھتا ہے۔"

PART 6: 

پوری آیت کا مکمل ترجمہ

⏱️ (15:00 — 16:00 منٹ)

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

"لفظ بہ لفظ ترجمہ:"

لفظ

ترجمہ

اَلْحَمْدُ

تمام تعریفیں

لِلَّهِ

اللہ کے لیے (صرف اللہ کے لیے)

رَبِّ

جو رب ہے

الْعَالَمِينَ

تمام جہانوں کا

"مکمل ترجمہ:"

"تمام تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں — جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔"

 PART 7: 

تفسیر — اسکالرز کی روشنی میں

⏱️ (16:00 — 21:00 منٹ)

"اب تفسیر 

 اس آیت میں کیا چھپا ہے۔"

 امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"'الحمد' میں شکر بھی ہے اور تعریف بھی —

لیکن شکر صرف نعمت پر ہوتا ہے،

تعریف نعمت کے بغیر بھی ہوتی ہے۔

اس لیے 'حمد' شکر سے زیادہ بڑا لفظ ہے۔"

"یعنی  اللہ کی تعریف کرو چاہے تمہارے پاس نعمت ہو یا نہ ہو 

کیونکہ وہ خود تعریف کے لائق ہے۔"

 امام ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"الحمدللہ کہنا اللہ کی ان تین صفات کو تسلیم کرنا ہے:"

 وہ کامل ہے — ہر عیب سے پاک

 وہ محبوب ہے  ہم اس سے محبت کرتے ہیں

 وہ منعم ہے  نعمتیں دینے والا

"جب تم الحمدللہ کہتے ہو —

تم یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ کہہ رہے ہوتے ہو

بغیر جانے بھی۔"

 امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"'رَبِّ الْعَالَمِينَ' میں اللہ نے اپنا تعارف 'رب' سے کرایا —

بادشاہ سے نہیں، مالک سے نہیں 

رب سے۔

کیونکہ رب وہ ہے جو پالتا ہے، سنبھالتا ہے 

یعنی اللہ کا پہلا تعارف محبت اور پرورش سے ہے  خوف سے نہیں۔"

"اللہ نے کہا — میں تمہارا رب ہوں 

یعنی میں تمہیں پال رہا ہوں 

یہ ایک باپ کا اپنے بچے سے تعارف ہے —

یہ ایک آقا کا اپنے غلام سے نہیں۔"

 PART 8: 

حدیث

⏱️ (21:00 — 22:30 منٹ)

"اب سنو — نبی ﷺ نے الحمدللہ کے بارے میں کیا فرمایا:"

"اَلْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ"

"الحمدللہ میزان کو بھر دیتا ہے۔"

(صحیح مسلم)

"سوچو 

قیامت کے دن اعمال تُلیں گے 

اور یہ دو الفاظ 

میزان کو بھر دیں گے۔"

"یہ دو الفاظ ہیں 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ

اور یہ اتنے بھاری ہیں کہ پورا پلڑا بھر دیں 

لیکن ہم انہیں کتنی بے دھیانی سے کہتے ہیں؟"

 PART 9:

 ڈیلی لائف کنکشن

⏱️ (22:30 — 26:00 منٹ)

قرآن کیا کہہ رہا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں۔"

 Example 1:

"صبح آنکھ کھلی 

کیا پہلا خیال تھا؟

فون چیک کرنا؟ کام کی فکر؟

قرآن کہتا ہے  پہلا لفظ یہ ہونا چاہیے 

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ — کہ میں زندہ ہوں۔"

 Example 2:

"آپ کا plan cancel ہوا 

exam میں نمبر کم آئے 

کوئی چیز نہیں ملی جو چاہتے تھے 

ہم کیا کہتے ہیں؟

'اللہ نے نہیں دیا' اور دل ناراض ہو جاتا ہے۔

لیکن قرآن کہتا ہے 

الحمدللہ رب العالمین 

وہ صرف تمہارا رب نہیں 

وہ پوری کائنات کا رب ہے 

اسے معلوم ہے کہ تمہارے لیے کیا بہتر ہے۔"

 Example 3:

"ایک شخص کے ساتھ accident ہوا 

گاڑی ٹوٹ گئی 

لیکن وہ بچ گیا 

اس نے کہا  الحمدللہ۔

کسی نے پوچھا  کیسے شکر کرتے ہو؟ گاڑی تو ٹوٹ گئی 

اس نے کہا 

'گاڑی ٹوٹی  میں نہیں ٹوٹا۔

الحمدللہ۔'"

"یہ ہے الحمدللہ 

ہر حال میں 

کیونکہ اللہ رب العالمین ہے 

وہ جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔"

 PART 10: 

عمل کے پوائنٹس

⏱️ (26:00 — 28:00 منٹ)

"اب last part 

آج کا سبق صرف سننے کے لیے نہیں 

قرآن عمل مانگتا ہے۔

آج تین کام کرنے ہیں:"

عمل نمبر 1: شعوری الحمدللہ

"آج پورے دن  ہر کام کے بعد 

consciously الحمدللہ کہنا ہے۔

پانی پیا   الحمدللہ

کھانا ملا  الحمدللہ

کوئی مشکل آئی الحمدللہ

صرف زبان سے نہیں 

دل کو ایک سیکنڈ لگانا ہے۔"

عمل نمبر 2: چھوٹی نعمت ڈھونڈو

"آج رات سونے سے پہلے 

ایک ایسی نعمت لکھو

جس پر آپ نے پہلے کبھی الحمدللہ نہیں کہا 

آنکھیں، سانس، کوئی رشتہ، کوئی چھوٹی سی خوشی 

لکھو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔"

 عمل نمبر 3: رات کا ایک منٹ

"رات سونے سے پہلے 

صرف ایک منٹ 

آنکھیں بند کرو اور سوچو:

'آج اللہ نے مجھے کیا کیا دیا؟'

پھر دل سے کہو  اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

 PART 11:  

CLOSING

⏱️ (28:30 — 30:00 منٹ)

"آج ہم نے صرف ایک آیت پڑھی 

لیکن اس ایک آیت میں پوری زندگی کا فلسفہ ہے 

ہر حال میں اللہ کی تعریف 

کیونکہ وہ رب ہے 

وہ جانتا ہے 

وہ پال رہا ہے 

ہمیں بس یقین رکھنا ہے۔"

"آج کے بعد 

جب بھی نماز میں یہ آیت پڑھو 

محسوس کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔"

"اگر آج کی بات نے آپ کے دل کو چھوا 

تو ایک کام کریں 

یہ لیکچر کسی ایک انسان تک پہنچائیں 

کیونکہ علم بانٹنا بھی صدقہ ہے۔"

"اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

"جزاکم اللہ خیراً —"

"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔"

Thursday, January 15, 2026

The Manners Of Recitation of Quran

 

The Manners of Recitation :
When Anas (R A)
was asked about the recitation of the Prophet (S A W),he said : "He would elongate it, so when he read 'Bismillah-ir-Rahman', he would elongate Allah, ar- Rahman & ar- Raheem." (al Bukhari)

The recitation of the Qur’an is not merely reading words; it is an act of reverence, calmness, and love. When Anas (R.A) was asked about the recitation of the Prophet Muhammad (S.A.W), he explained that the Prophet would recite with elongation and beauty. While reciting “Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem,” he would gently elongate Allah, Ar-Rahman, and Ar-Raheem. This Sunnah teaches us to recite the Qur’an with reflection, tranquility, and respect for every word.

قرآن کی تلاوت صرف الفاظ کا پڑھنا نہیں بلکہ ادب، محبت اور ٹھہراؤ کا نام ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر، خوبصورت انداز میں تلاوت فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” میں اللہ، الرحمٰن اور الرحیم کو واضح طور پر کھینچ کر پڑھتے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قرآن پڑھتے وقت دل حاضر ہو، آواز میں نرمی ہو اور ہر لفظ کے حق کو ادا کیا جائے۔ 💛📖✨

#Zarthoughs
#QuranRecitation #MannersOfRecitation #Sunnah #ProphetMuhammad#BeautifulTilawah #QuranLove #IslamicReminder #Hadith #Bismillah #RahmanRaheem #QuranReflection #SpiritualPeace  #IslamWorldwide  #MuslimUmmah #Pakistan  #GlobalIslam #Faith #HeartTouching 

Wednesday, December 24, 2025

Irritating روئیے

 

Irritating روئیے🥀

کچھ چیزیں معاشرے میں اس قدر عام ہو چکی ہیں کہ ہم ان کی قباحت بھول چکے ہیں اور اسے فرض سمجھ کر رہے ہیں چاہے گناہ ہے، حقوق العباد متاثر ہو رہے ہیں، سامنے والے کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ رہا ہے یاں آنکھیں بھیگ رہی ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا کیونکہ ہم تو دوسروں کے بڑے خیرخواہ ہیں، ہمیں لگتا ہے جب تک ہم دوسروں کو نہیں بتائیں گے کہ ان کی زندگی، گھر اور شخصیتوں میں کیا کیاں کمیاں ہیں انہیں تو پتہ ہی نہیں چلے گا۔

خدارا ہمدردی کے نام پر دوسروں کو تکلیف دینا بند کر دیں۔

ہر انسان جانتا ہے کہ اس کی زندگی میں کیا کمی ہے، بھری مجلس میں کسی کی کمزوری کو ہائی لائٹ کرنا اور پھر اس کا بار بار تذکرہ کرنا اصلاح نہیں ہے۔ 

اللہ کے مومن بندوں کا یہ رویہ نہیں ہوتا یہ شیطانی طرزعمل ہے۔

میرا آپ سب سے ایک سوال ہے۔

انسان کی تخلیق کس چیز سے کی گئی؟

آپ کہیں گے مٹی سے۔

میں پوچھوں گی کیا صرف مٹی سے؟

نہیں۔ مٹی ایک ایلیمنٹ ہے۔ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالی فرماتے ہیں:

سورة ص - آیت 71

إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ `إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن طِينٍ`

جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں تھوڑی سی مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔

سورة ص - آیت 72

فَإِذَا `سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي` فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ

ترجمہ:

تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔

ان دونوں آیات کو ملا کر دیکھیں جب اللہ سبحانہ وتعالی نے فرشتوں سے یہ نہیں کہا جب میں مٹی سے انسان کو بنا دوں تو اسے سجدہ کرنا بلکہ کہا جب میں اس کا تسویہ(یعنی اسے درست کر کے مکمل شکل میں انسان بنا دوں) کر دوں اور پھر اس میں روح پھونک دوں تو پھر اسے سجدہ کرنا۔

انسان کی تخلیق تسویہ اور روح کے بغیر نامکمل ہے، ایک مردہ جسم کا تصور کر لیں خود ہی آپ سمجھ جائیں گے۔

تو پھر انسان کی تخلیق کتنے مرحلوں ہوئی۔ تین مرحلوں میں۔

انسان تین چیزوں کا مجموعہ ہے مٹی، تسویہ اور روح۔

اب نیچے والی آیت دیکھیں جب شیطان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے کیا کہا۔

سورة الإسراء - آیت 61

`وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ قَالَ أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا`

ترجمہ:

” اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا۔“

شیطان نے صرف مٹی کا ذکر کیا کیونکہ اس کے نزدیک مٹی سب سے حقیر چیز تھی، انسان کی کمزوری کو ہائی لائٹ کرنے کے لیے اس نے صرف مٹی کا نام لیا حالانکہ انسان صرف مٹی کا مجموعہ نہیں ہے۔

بالکل ویسے ہی جیسے کوئی بہت زیادہ خوبصورت لگ رہا ہو اور ہمیں بھری محفل میں بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں اوں ہوں یہ رنگ تو تم پر بالکل سوٹ نہیں کر رہا، یہ سوٹ تو تم نے فلاں ایونٹ پر بھی پہنا تھا نا اور اگر ایسا کوئی کمزور پہلو نہ ملے تو اس کی شخصیت کی کسی خامی، جسمانی عیب یاں قدرت کی طرف سے رکھی کمی کا تذکرہ کرکے خوشی سے چمکتے چہرے کو تاریک کر کے سکون محسوس کرتے ہیں۔پریکٹیکل لائف میں میں نے یہ چیز بہت زیادہ آبزرو کی ہے۔ ہم سب انسان ایک دوسرے کی خامیاں ڈھونڈنے اور پھر انہیں نشر کرنے میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ہم نے دوسروں کی خوبیوں کی طرف نظر رکھنا چھوڑ دیا ہے۔

عموما ایسا کرنے والے بھی ہمارے قریبی رشتہ دار، دوست یاں فیملی کے لوگ ہوتے ہیں۔

~مجھے حیرت ہوتی ہے ایسے لوگوں پر جنہیں دوسروں پر طنز، تمسخر اور طعن وتشنع کرتے ہوئے سامنے والے کے چہرے پر کندہ تکلیف اور تھکن بھی نظر نہیں آتی۔

~مجھے ترس آتا ہے ایسے لوگوں پر جو اپنے اندر کے احساس کمتری دوسروں کی کمزوریوں کو ہتھیار بنا کر کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں

~مجھے تکلیف ہوتی ہے جب یہ نیگیٹو لوگ اپنی نیگیٹویٹی بڑی آسانی سے دوسروں تک ٹرانسفر کر دیتے ہیں اور اس کے نقصانات پر ذرا برابر بھی توجہ نہیں دیتے۔

~اور سب سے بڑی تکلیف تب ہوتی ہے

جب دوسروں کی نیگیٹویٹی ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہی ہوتی ہے

اور ہم ان سے دور نہیں جا سکتے،  ہم انہیں بتا نہیں سکتے، خاموش نہیں کروا سکتے اور خود کو بہلا بھی نہیں سکتے۔

یہ تب ہوتا ہے جب ان کی نیگیٹویٹی پر ہم یقین کر لیتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا تھا۔

~آپ کیا ہیں یہ کوئی کیوں آ کر آپ کو بتائے، آپ میں کیا کمی ہے کوئی اور کیوں آ کر آپ کو جتائے آپ کو خود پتہ ہونا چاہئے۔

`آپ کو اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے، آپ کی زندگی کو آپ کے رب نے ڈیزائن کیا ہے جو آپ کے پاس ہے وہ بہترین ہے اور جو نہیں ہے اس میں رب کی  حکمت پوشیدہ ہے۔`

ٹاپک بہت لمبا ہے جتنی بھی بات کی جائے کم ہے، مگر صرف اتنا ہی کہوں گی۔

*~خود کو دوسروں کے آئینے سے دیکھنا بند کریں، کوئی نیچا دکھانا چاہے، آپ کو کمزور کرنا چاہے تو بجائے بحث اور مقابلے کے خود کو اور مضبوط کریں اور ہر پل یہ یقین رکھیں کہ آپ دنیا کے بہترین انسان ہیں کیونکہ آپ انسان ہے دوسروں کی نیگیٹویٹی آپ کی اچھائی پر غالب نہیں آنی چاہیے*

Sunday, December 14, 2025

آپ کے ناموں کی اہمیت


اللہ سبحانہ وتعالی نے کتنی خوبصورت نعمت عطا کی ہے نا کہ ہم ایک دوسرے کو ناموں سے پکارتے ہیں، ایک منٹ کے لیے سوچیں اگر ہمارے نام نہ ہوتے تو ہم ایک دوسرے کو کیسے مخاطب کرتے؟

شکلوں کے زاویوں سے، اپنے ہی ضابطوں سے یاں عادتوں اور عملوں کی بنیاد پر۔

ہر صورت میں کچھ انسان تکلیف اٹھاتے کیونکہ کچھ انسان دوسروں کی کمزوریوں کو اچھال کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اور اگر مخاطب کرنے کا کوئی بھی ذریعہ نہ ہوتا تو کمیونیکیشن کس قدر مشکل ہوتی ہم نہیں سوچتے کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں اس مشکل میں ڈالا ہی نہیں ہمیں سیکھایا کہ اپنے بچوں کے خوبصورت نام رکھ لو جن سے انہیں مخاطب کیا کرو۔


چلیں آج سب مل کر زندگی میں پہلی بار اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں۔

آپ نے ہمیں اس قدر خوبصورت نام سے نوازا شکریہ پیارے اللہ

آپ نے ہمیں اس نعمت کے ادراک سے نوازا شکر الحمدللہ یارب

لیکن کیا ہم اس نعمت کا درست استعمال کرتے ہیں؟

اس نعمت کا درست استعمال کیا ہے؟

بہترین نام رکھنا وہ نام جو قرآن اور سنت سے ثابت ہوں، جن کا معنی درست ہو اور پھر ان ناموں کی تکریم کی جائے انہیں بگاڑا نہ جائے۔

محبت سے نام کو مختصر کرنا اور بات ہے یہ سنت سے ثابت ہے ایسا کیا جا سکتا ہے مگر ناموں کو بگاڑ کر مسخ کر دینا بالکل بھی درست نہیں۔

ایک چھوٹی سی بات اگر آپ عمل کر سکیں۔

ایسے نام رکھیں جنہیں بول اور سن کر اللہ کی یاد آئے، قرآن کی کوئی آیت یاد آئے، کسی نبی، صحابی رسول یاں صالحین کی یاد تازہ ہو۔

یہ آئیڈیا مجھے کہاں سے آیا؟

ابھی کچھ دن پہلے بھتیجے صاحب پھپھو سے ملنے آئے، وہ کھڑے تھے، میں نے آواز دی یوسف ایھا الصدیق (سورہ یوسف کی آیت)۔

مجھے ایک لمحے کو حیرانی سی ہوئی یہ کیا ہوا، پھر میرے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور ساتھ ہی دل نے شکر کیا اس نئی سیکھ پر اور زبان سے میں نے کہا قرآن میں موجود نام رکھنا کس قدر خوبصورت ہے نا۔

مجھے یحیی علیہ السلام یاد آئے جن کا نام اللہ سبحانہ وتعالی نے رکھا تھا، مجھے ابراہیم علیہ السّلام یاد آئے ان کی قربانیوں کی بیچ کہیں ان کے صبر کا ثمر اسماعیل علیہ السّلام تک جا پہنچی۔

اپنے خیالات کی ٹرین کو روک کر میں آپ کی طرف بڑھ آئی ہوں۔

کیونکہ اب ماڈرنزم کے نام پر بےمعنی اور بےتکے نام رکھنے کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے مزید برآں ہم گوگل سے معنی پڑھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں معنی بھی درست ہے اور نام بھی بڑا یونیک ہے، اور شریعت سے راہنمائی لینے کی تو ہم ویسے ہی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کوشش کریں نام رکھنے سے پہلے سنت سے راہنمائی لیں، میں یہ نہیں کہتی نام شخصیت بناتے ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گی ان کا کہیں نا کہیں ہماری شخصیت پر اثر ضرور پڑتا ہے۔

اس لیے صالح اولاد کے صالح نام رکھیں۔

اللہ سبحانہ وتعالی آپ کو صالح اولاد سے نوازے آمین

قرآن کریم کی سورت کا تعارف






قرآن کریم کی سورت کا تعارف

 *سورت نمبر: 45* 

 *سورۃ جاثیه* 

تعارف

اس سورت میں بنیادی طور پر تین باتوں پر زور دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات میں ہر طرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی اتنی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں کہ ایک انسان اگر معقولیت کے ساتھ اُن پر غور کرے تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کائنات کے خالق کو اپنی خدائی کے انتظام میں کسی شریک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لہذا اُس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اُس کی عبادت کرنا سراسر بے بنیاد بات ہے۔ دوسرے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہے کہ آپ کو شریعت کے کچھ ایسے احکام دیئے گئے ہیں جو پچھلی امتوں کو دیئے ہوئے احکام سے کسی قدر مختلف ہیں۔ چونکہ یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، اس لئے اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ تیسرے اس سورت میں قیامت کے ہولناک مناظر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں آیت نمبر ۲۸ میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ ڈر کے مارے گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گے ۔ ” جاثیه عربی زبان میں اُن لوگوں کو کہتے ہیں جو گھٹنے کے بل بیٹھے ہوں۔ اسی لفظ کو سورت کا نام بنادیا گیا ہے۔

Saturday, November 22, 2025

شیطان سے پناہ..Seek Allah’s Refuge

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

Roman: A'oozu billahi min ash-shaytaan ir-rajeem

Word to Word Traslation in Urdu & English

1. أَعُوذُ

Urdu: میں پناہ مانگتا/مانگتی ہوں

English: I seek refuge

2. بِاللّٰهِ

Urdu: اللہ سے

English: in Allah

3. مِنَ

Urdu: سے / کے مقابل

English: from

4. الشَّيْطَان

Urdu: شیطان

English: the devil / Satan

5. الرَّجِيمِ

Urdu: مردود / دھتکارا ہوا

English: the accursed / rejecte

🔸 Urdu Translation

“میں اللہ کی پناہ مانگتا/مانگتی ہوں شیطانِ مردود سے۔”

🔸 English Translation

“I seek refuge in Allah from the accursed Satan.”

⭐  Urdu Description

"اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم"

 یہ وہ دعا ہے جس سے انسان اپنے دل، دماغ اور زندگی کو شیطان کے وسوسوں، برے خیالات اور منفی توانائی سے محفوظ کرتا ہے۔

یہ کلمات ایمان کی مضبوطی، روحانی سکون اور اللہ کی پناہ کا سب سے پہلا دروازہ ہیں۔

ہر کام کی شروعات ان الفاظ سے کرنا مومن کی پہچان ہے، کیونکہ کامیابی ہمیشہ اسی کے قدم چومتی ہے جو اپنے رب سے مدد مانگ کر چلتا ہے۔

آئیے… خود کو اللہ کی حفاظت میں دے کر ہر شر، ہر برائی اور ہر نقصان سے بچیں۔

"میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں شیطان مردود سے۔"

⭐  English Description

“A'oozu Billahi Minash-Shaytaanir-Rajeem” 

 These powerful words are a shield of divine protection, guarding the heart and mind from negative thoughts, evil whispers, and spiritual harm.Reciting this before beginning anything reflects true faith, inner peace, and complete reliance on Allah.

Success begins with seeking His refuge, for the one who starts with Allah never walks alone.

Let us place ourselves under the protection of the Almighty and stay safe from every evil and every harm.

“I seek refuge in Allah from the accursed Satan.”

🌟 Hadith

Urdu:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"جب کوئی کام شروع کرے تو 'اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم' کہے۔" (صحیح البخاری)

یہ الفاظ دل و دماغ کو منفی وسوسوں سے بچاتے ہیں اور کامیابی کا پہلا قدم ہیں۔

English:

Narrated Abu Hurairah (RA):

"When any of you begins a task, let him say 'A’oozu Billahi Minash-Shaytaanir-Rajeem'." (Sahih Bukhari)

These words protect the heart and mind from evil whispers and mark the first step toward 

🌟 پڑھنے کا فائدہ / Benefits of Reciting 🌟

Urdu:

دل اور دماغ محفوظ رہتا ہے

کام، پڑھائی اور روزمرہ زندگی میں آسانی آتی ہے۔

کامیابی اور سکون حاصل ہوتا ہے۔

English:

Protects heart and mind.

Makes work, studies, and daily life easier.

Brings success and inner peace.

🌟 نہ پڑھنے کا نقصان / Consequences of Not Reciting 🌟

Urdu:

شیطانی وسوسے اور منفی خیالات بڑھ سکتے ہیں۔

کام اور فیصلوں میں مشکلات اور غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

English:

Vulnerable to evil whispers and negative thoughts.

Tasks and decisions may face difficulties and mistakes.

🌟 روزمرہ زندگی میں اہمیت / Daily Life Connection 🌟

Example 1 / مثال 1:

Urdu: اگر آپ امتحان کی تیاری کر رہے ہیں، شروعات میں "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" پڑھنے سے دماغ فوکس اور یادداشت بہتر ہوتی ہے۔

English: When preparing for an exam, reciting "A’oozu Billahi Minash-Shaytaanir-Rajeem" at the start helps improve focus and memory.

Example 2 / مثال 2

Urdu: اگر آپ کام یا کوئی نیا منصوبہ شروع کر رہے ہیں، یہ دعا آپ کو اللہ کی حفاظت میں رکھتی ہے اور کام آسان ہوتا ہے۔

English: When starting work or a new project, this prayer keeps you under Allah’s protection and makes the task easier.

🌟 Urdu Poetry 

اعوذ باللہ سے شروع کرو ہر کام،

شیطان کی وسوسوں سے رکھو دامن آرام۔

دل میں سکون، دماغ میں روشنی،

ہر لمحہ زندگی ہو اللہ کی پناہ کی نوری۔

🌟 English Poetry 

Begin every task with A’oozu Billahi,

Shield your heart from whispers sly.

Peace in the mind, light in the soul,

Under Allah’s refuge, life is whole.

🌟 Urdu Dua 🌟
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، اللّٰہُم احفظ قلبي وذهني۔
ترجمہ:
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، اے اللہ! میرے دل اور دماغ کو محفوظ رکھ۔
🌟 English Dua 🌟

A’oozu Billahi Minash-Shaytaanir-Rajeem, O Allah! Protect my heart and mind.



Sunday, February 9, 2025

ZarThoughts Surha Naba Verse 09



رب سے جڑنے کا سفر

 *ZarThoughts International Islamic Online Learning Institite 

Assalamu alaikum,* Everyone!

Today, we're going to explore a beautiful verse from the Quran.

*Allah says, "* 

*Verse:* "وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتاً"

(And We have made your sleep as a thing for rest.)

Now, let's think about this verse in a deeper way. What does it mean to say that sleep is a gift from Allah?

Does it mean that we should be grateful for sleep?Is it about sleep?

That's correct! This verse is talking about sleep. But it's not just about sleep; it's about the purpose of sleep.

The word "سباتاً" (subatan) means (rest). It implies a state of tranquility where the body and mind are able to relax.

Exactly! We should be grateful for the blessing of sleep. Just think about it - without sleep, we wouldn't be able to function properly. We wouldn't be able to focus, learn, or even take care of our daily tasks.

Sleep is a gift from Allah to help us relax.It's a time for our bodies to repair and refresh themselves.You see, Allah has designed sleep as a way for our bodies to  recharge. 

That makes sense. I feel so tired after a long day, and sleep really helps me feel better.

Exactly! And that's what Allah is reminding us in this verse. He's telling us that sleep is a gift, a blessing from Him to help us cope with the challenges of life.

sleep is a mercy from Allah that allows us to come back stronger and more refreshed, ready to face the challenges of the next day.

Allah is reminding us to appreciate the simple things in life, like sleep, and to recognize His kindness and wisdom in creating something so essential for our well-being.

Allah has designed sleep as a natural mechanism to help us recover from the physical and mental exhaustion of the day. During sleep, our bodies repair and regenerate tissues, build bone and muscle, and strengthen our immune systems.

What about when we have trouble sleeping? What can we do then?

Ah, that's a great question! When we have trouble sleeping, it can be frustrating and affect our daily lives. In that case, we can try to establish a relaxing bedtime routine, avoid screens before bedtime, and even recite some Quranic verses or prayers to help us relax.

**Now Discuss* 

*The Purpose of Sleep*

Sleep is not just a physical necessity, but also a spiritual one. Allah has designed sleep as a way for our bodies to rest and recharge, 

*The Benefits of Sleep*

Sleep has numerous benefits for our physical and mental health. During sleep, our bodies repair and regenerate tissues, build bone and muscle, and strengthen our immune systems. Sleep also helps us to process and consolidate memories, and to regulate our emotions.

*Establishing a Healthy Sleep Routine*

So, how can we make the most of this gift of sleep? First, we need to establish a healthy sleep routine. This means going to bed and waking up at the same time every day, including weekends. It also means creating a sleep-conducive environment, such as keeping the bedroom cool, dark, and quiet.

*Avoiding Sleep Disturbances*

 We should also avoid things that can disturb our sleep, such as  electronic screens before bedtime. We should also try to avoid stimulating activities before bedtime, such as exercise or watching exciting movies.

*Reciting Quranic Verses Before Sleep*

Another way to make the most of our sleep is to recite Quranic verses before bedtime. This can help us to relax and to prepare our minds and hearts for sleep. Some recommended verses include Surah Al-Fatihah, Surah Al-Ikhlas, and Surah Al-Mu'minoon.Making Du'a Before Sleep* Finally, we should make du'a before sleep, asking Allah to protect us from harm and to grant us a restful sleep. We can say a simple du'a, such as (O Allah, I ask You for the best of this life and the best of the Hereafter).

By following these tips and making sleep a priority, we can make the most of this gift from Allah and wake up feeling refreshed, and ready to take on the day.

So, let's all take a moment to appreciate the gift of sleep. Let's make sure to get enough rest and take care of our bodies, so we can be strong and healthy to serve Allah and our communities.

Sunday, February 2, 2025

ZarThoughts AlQuran Surha An-Naba Verse 08

      رب سے جڑنے کا سفر 

              ZarThoughts 

International Islamic Online Learning Institute 

*Verse (08) ** 
*AlQuran Para 30
Surha Naba* 

Verse is

"وَخَلَقْنَـكُمْ أَزْوَجاً* "

 *In Urdu* 


" *اور ہم نے تمہیں جوڑے کی شکل میں پیدا کیا ہے۔"* 
 

*English  Traslation* 


 *"In the Quran, Allah says,* 
 ```And We have created you in pairs' (Quran 78:8).*``` 

 *Explanation* :-


 *This verse highlights the significance of relationships and partnerships in our lives.* 
 *The pairing of male and female is a fundamental aspect of human existence. It's a union that brings joy, comfort, and companionship.*
*Through this pairing, Allah has also made it possible for human beings to procreate and continue the cycle of life.

This verse reminds us that we are social beings, created to live in harmony with others. It encourages our relationships, to build strong families and communities, and to recognize the value and dignity of every human being.

Allah reminds us that He has created us in pairs - male and female. This pairing is not just a physical or biological phenomenon, but also a spiritual and emotional one. The relationship between a man and a woman is meant to be one of love, companionship, and mutual support.

Through this pairing, Allah has also made it possible for human beings to procreate and continue the cycle of life. This is a remarkable aspect of Allah's creation, and a testament to His wisdom and power.

This verse reminds us of the beauty and importance of human relationships, and the role that each of us plays in the larger scheme of creation."
As we reflect on this verse, let's remember the importance of empathy, compassion, and kindness in our relationships. Let's strive to build bridges of understanding and love, and to create a world where everyone feels valued, respected, and connection
 Through this pairing, Allah has also made it possible for human beings to procreate and continue the cycle of life.
In Islamic teachings, the relationship between a husband and wife is considered a sacred bond. It's a union that is built on mutual respect, trust, and communication. The Prophet Muhammad (peace be upon him) said, 'The best of you are those who are best to their wives.' (Tirmidhi)

This verse also reminds us of the importance of community and social bonds. In Islam, the concept of 'ummah' or community is central to our faith. We are encouraged to build strong relationships with our neighbors, colleagues, and friends.

As we reflect on this verse, let's remember the importance of empathy, compassion, and kindness in our relationships. Let's strive to build bridges of understanding and love, and to create a world where everyone feels valued, respected, and connected."


ZarThoughts AlQuran Surha An-Naba Verse 07

      رب سے جڑنے کا سفر 

               ZarThoughts  

International Islamic Online Learning Institute 

#ZarThoughts
#AlQuran
 #juzz #30 
#Chapter #78
#Surha #Naba 
#Ayat #07 #

Verse is


وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا

Translation:

And the mountains as pegs

Explanation:

In this verse, Allah is describing how He created the mountains as:
- *Pegs*: The word "أَوْتَادًا" (Awtaadan) means "pegs" or "stakes". Just like how pegs are used to hold something in place, Allah made the mountains to hold the earth in place.
- *To hold the earth stable*: The mountains act as anchors, keeping the earth firm and stable. This allows the earth to be a suitable place for humans and other creatures to live.
- *To prevent quaking*: The mountains also prevent the earth from shaking or quaking, making it a safe and secure place for its inhabitants.
By creating the mountains as pegs, Allah has:
- Demonstrated His power and wisdom in creating a stable and habitable world.
- Provided a safe and secure environment for humans and other creatures to live and thrive.
This verse is a great reminder of Allah's creation and provision, and can be used to teach others about:
- Allah's power and wisdom in creation.
- The importance of gratitude for the blessings we enjoy on earth.

- The role of the mountains in maintaining the earth's stability.

ZarThoughts AlQuran Surha An-Naba Verse 06


     رب سے جڑنے کا سفر 

            ZarThoughts  

International Islamic Online Learning Institute 

#ZarThoughts
#AlQuran 
#juzz #30 
#Chapter #78 
#surah #Naba 
#Ayat #6 

The verse is:

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا

Translation:


Have We not made the earth as a bed?

Explanation:


In this verse, Allah is highlighting one of the many blessings He has bestowed upon humanity. The word _"مِهَادًا"_ (Mihadan) means "a bed" or "a resting place". However, in this context, it refers to the earth being a stable, firm, and peaceful place for humans to live.
Allah is emphasizing that He has:

1. *Created the earth*: Allah is the One who created the earth and everything in it.

2. *Made it a resting place*: Allah has made the earth a place where humans can rest, live, and thrive.

3. *Made it subservient*: The earth is subservient to humans, meaning that it provides for their needs and is under their control.

This verse is reminding humans of the blessings they enjoy on earth and encouraging them to be grateful to Allah for these blessings.
In essence, this verse is highlighting Allah's mercy and provision for humanity, and encouraging humans to appreciate and acknowledge these blessings.




_________________

Wednesday, January 22, 2025

Surha AnNaba Ayat 4,5

 


رب سے جڑنے کا سفر 

ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute

AlQuran Juzz 30 Chapter 78 Verse 04,05

This Verse is ;

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُون _

Translation:

Nay, they will come to know! Nay, again, they will come to know!

Explanation:

This verse is a severe threat and a direct warning from Allah to those who reject the truth and deny the Day of Judgment.
The word _"كَلَّا"_ (Kalla) is an Arabic word that means "Nay" or "No". It's used to emphasize the negation of something.
The phrase _"سَيَعْلَمُونَ"_ (Sayal'amuna) means "they will come to know" or "they will realize". It's in the future tense, indicating that the realization will come later.
So, the verse is essentially saying:
"No, they will come to know! No, again, they will come to know!"
The repetition of the phrase _"كَلَّا سَيَعْلَمُونَ"_ is to emphasize the certainty of the warning. It's like Allah is saying:
"Don't think you can escape the consequences! You will come to know the truth, and you will realize the severity of your actions!"
This verse is a warning to those who reject the truth, and it's a reminder to believers to stay on the right path.


In essence, this verse is a powerful reminder of Allah's justice and the consequences of our actions.



Tuesday, January 21, 2025

Surha AnNaba Ayat 03

 


رب سے جڑنے کا سفر 

ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute 

Surha An-Naba Ayat 03 

#Zarthoughts#AlQuran #Surha #Naba #Ayat #03 #English #traslation #Discription 
ٱلَّذِى هُمۡ فِيهِ مُخۡتَلِفُونَ
Here's a more detailed explanation:
The verse is saying that people are divided into two groups regarding the Day of Judgment:
1. *Those who believe*: They have faith in the existence of the Day of Judgment and believe that they will be held accountable for their actions.
2. *Those who disbelieve*: They reject the idea of the Day of Judgment and don't believe that they will be held accountable for their actions.
Allah is warning those who disbelieve in the Day of Judgment, saying that they will face severe consequences for their rejection. This warning serves as a reminder to all people to believe in the Day of Judgment and to live their lives accordingly.
The warning is not just a simple warning, but a stern reminder of the severity of the consequences of rejecting the Day of Judgment. It's a call to all people to reflect on their beliefs and actions, and to make amends before it's too late.
In essence, the verse is emphasizing the importance of believing in the Day of Judgment and living a life that is pleasing to Allah.

Surha Naba Ayat 02

 

رب سے جڑنے کا سفر 

ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute 


Surha An Naba Ayat : 02

#Zar #Thoughts #ZarThoughts#AlQuran #Para #30 #Chapter #78 #Ayat #2 #English #traslation #Discription 
#Azad #Kashmir 
An-Naba' 78:2

عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ
*The second ayat of Surah An-Naba' (Verse 2)* describes the Day of Judgment as a great news (Naba). The people of Makkah were disputing about this event, and Allah is conveying that its arrival is as soon.
 *The verse translates to:* 
"They ask you about the great news."

The word "Naba" (news) in this context refers to a significant and overwhelming event, which is the Day of Judgment.
This ayat serves as a reminder to believers about the importance of being prepared for the Hereafter and the accountability that comes with it.

 *May Allah guide us all to the right path and grant us wisdom to understand the Quran. Ameen!*


Sunday, January 19, 2025

ZarThoughts

 


ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute 

Start with the name of Allah the most benificient the most Merciful

عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَۚ (1

About what are they asking

[1]Nothing is hidden from Allah Almighty. Here, due to the greatness of the matter, it has been mentioned in question format.

[2]When the Prophet صَلَّى الـلّٰـهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم invited the disbelievers of Makkah to the Oneness of Allah Almighty, informed them about being resurrected / reborn after death and recited the Quran to them, they began asking one another (whilst conversing): “What kind of religion has Muhammad صَلَّى الـلّٰـهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم brought?” Their mutual conversation has been mentioned here.

Sunday, January 12, 2025

ZarThoughts

Zarthoughts International Islamic Online Learning Institute 

 *پورے علم و حکمت والا تو ہی ہے۔۔۔*

اللہ تعالیٰ پورے علم اور حکمت والا ہے ۔۔ ہے نا؟  کبھی محسوس کیا ہے اسے؟ اسکے علم کو ؟ اسکے علم میں چھپی حکمتوں کو؟ 

چلیں ہم اب جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس علم و حکمت والی ذات کو کیسے محسوس کیا جائے۔۔۔

کیا آپ کے ساتھ کچھ ایسا ہوا ہو جو آپ چاہتے نہیں تھے کہ آپکے ساتھ ہو؟  آپ کچھ اور چاہتے تھے۔ لیکن کچھ اور ہو گیا۔ جو آپ چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا تھا۔ اور جو آپ نہیں چاہتے تھے وہ آپکی نظر میں آپکے لیے اچھا نہیں تھا۔۔

ایسا ہی تھا نا؟ یا ایسا ہی ہے نا؟؟

ہر ایک ساتھ ایسا ہوتا ہے۔  جب بھی کوئی کام یا کوئی بات ہماری چاہ کے مطابق نہ ہو تو ہم اسے اپنے لیے برا سمجھ لیتے ہیں۔ پتا ہے کیوں؟ کیوں  کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ ہم اللہ کے "علیم" ہونے اور "حکیم" ہونے کو بھلا دیتے ہیں۔ 

ہم بھول جاتے ہیں اللہ کو زیادہ پتا ہے کہ یہ کام ہمارے لیے بہتر ہے۔۔اسکا علم حکمتوں سے بھرا ہے۔ ہماری بہتری کی حکمتوں سے۔۔ جس میں  ہمارے لیے بھلائیاں ہی بھلائیاں ہیں۔ 

یاد کریں! سوچیں جو آپکے ساتھ ہو چکا ۔ کچھ ایسا جو آپ نہ چاہتے ہوں۔  مثال کے طور پر دھوکہ ہی لگا لیں۔   آپکو کسی نے دھوکہ دیا۔ اب یہ آپکے نظریے اور علم کے مطابق آپکے برا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے مطابق یہی آپکے ٹھیک تھا۔لیکن کیسے؟ کیونکہ اگر آپکو دھوکہ نہ ملتا تو آپ بدلتے ہی نہ۔۔ آپ یونہی ہر ایک پر اندھا اعتماد کر کے اپنا کوئی بڑا نقصان کروا بیٹھتے۔ 

آپ کو اس دھوکے کی وجہ سے لوگوں کی پہچان کرنا آگئی ۔ آپ نے لوگوں کو پرکھنا سیکھ لیا۔ ورنہ ہر کوئی آپکو استعمال کرتا رہتا۔ اس لیے یہ دھوکہ آپکے لیے ضروری تھا۔ آپکو بہتر بنانے کیلئے ۔۔ اور اچھا بنانے کیلئے ۔ آپکو نکھارنے کیلئے ۔ 

اب آپ پہلے سے ایک بہتر انسان ہیں ۔

لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم صرف اس دھوکہ کے برے اثر کو دیکھتے ہیں کہ ہاں بھئی میرا ساتھ برا ہو گیا۔۔ بھئی کیوں ہو گیا برا؟؟  اپنے اندر آئے بدلاو کو بھی تو دیکھے نا۔  جو سبق جو نصیحت آپکو ملی کیا وہ کسی سکول کالج سے مل سکتی تھی؟ بلکل نہیں۔ یہ نصیحتیں یہ بدلاو ایسے ہی آتے ہیں۔۔ یہ اللہ کے کام ہیں۔۔ہم ویسے سمجھتے ہی نہیں۔ بلکہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ 

اس لیے اگر آپکے ساتھ کچھ برا ہوت تو وہ اصل میں برا نہیں ہوتا بلکہ آپکو کسی بڑی مصیبت سے بچانے اور لڑنے کیلئے تیار کیا جا رہا ہوتا ہے۔۔ 

آپکی ٹریننگ ہوتی ہے۔ مشکل حالات سے گزار کر۔۔ ان آزمائشوں کو اپنے لیے برا ہر گز نہ سمجھیں۔ یہ آپکی پرورش کر رہی ہیں۔  آپکو مضبوط بنا رہی ہیں۔ایک بڑے دن میں حساب کیلئے ۔۔ایسا خوفناک دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا۔۔۔ 

اس لیے اپنے کم علم کی بنا پر اللہ سے شکوہ نہ کریں۔ وہ زیادہ علم والا ہے۔اور وہی حکمت والا ہے۔ وہ بہتر جانتا کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔۔۔ہم نہیں جانتے۔ 

ہم تو پیدا ہونے سے پہلے اپنے ماں باپ کو بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کوم ہوں گے تو ہم زندگی کے باقی معاملات کو کیسے جان سکتے ہیں؟ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چیز ہمارے لیے ٹھیک نہیں؟ 

اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر یقین کرنا ، توکل کرنا شروع کریں۔ یقین کریں اس سے بڑھ کر آپکے فائدہ یا نقصان کی اور کسی کو فکر نہیں۔ ہمیں خود بھی نہیں۔۔۔۔۔

Saturday, January 11, 2025

ZarThoughts

ZarThoughts International Islamic Online Learning Institute 

رب سے جڑنے کا سفر 

اس دنیا سے جاؤ گے تو ایک عجیب واقعہ ہوگا۔۔!!

یا تو تم ایک قیدخانے سے چھوٹو گے 

اور اپنے سامنے کھلی فضا پاؤ گے۔۔!!

یا پھر ابھی تم آزاد پھرتے ہو 

اور یہاں سے نکلتے ہی ایک قید خانے میں چلے جاؤ گے..!!

ایک قید ضروری ہے خواہ یہاں کاٹ لو یا وہاں۔۔!!

یہاں عمل اور بندگی کی قید ہے 

یہ چند دنوں کی بات ہے..!!

وہاں بےبسی اور جہنم کی قید ہے 

البتہ وہاں کے دن بہت لمبے (اور نہ ختم ہونے والے) ہیں...!!

چاہو تو یہاں کاٹ جاؤ 

اور چاہو تو وہاں جہاں کٹے گی نہیں 

مرضی کا سودا ہے !

جو قید کاٹ سکنے کی سکت رکھتے ہو 

وہ قبول کر لو۔۔!!

 

Friday, January 10, 2025

ZarThoughts

امت کی تاریخ سن کر انسان حیران ہوجاتاہے کہ مومن مرد اور مٶمن عورتیں علم کے ہنر پر مزئن اور خوبصورت ہوا کرتے تھے اور ان کی زندگی جہاد میں گزرتی تھی ۔ لیکن أج کے دن یہ نوجوان پھر ناچ گانے،ڈانس نے مصروف کٸے ھیں۔انہوں نے گزرے ہوۓ امت کے شہسواروں کو بھولا دیا۔امت کے ان کمانڈروں اور شہسواروں کو بھولا دیا جن کے نام سن کر کفاااار پر رعب اور وحشت طاری ھوا کرتا تھا۔اسوقت کے شہسواروں کے بچے بچپن سے ہی گھڑ سواری ،نیزہ بازی اور تیراندازی سیکھتے تھے۔اسوقت مساجد میں جہاد کی فضیلت اور اہمیت بیان کی جاتی تھی ۔اسوقت کی ماٸیں اور بہنیں اپنے بیٹوں اور بھاٸیوں کی شھادت کی خبر سن کر ایک دوسرے کو مبارک باد دیا کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ آج کے نوجوانوں میں مال بڑھانے کی فکر بڑھ چکی ہیں۔ حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوچکی ہی ۔ آج کل معاشرے میں آن لاٸن کے نام پر بہت سے نوجوان طبقہ سود میں مبتلا ہےکوٸی جوا کھیل رھے ہیں تو کوٸی نازیبا اور فضول ویڈیوز کو نشر کرتے ہیں۔ نوجوانوں خدا را اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔

Tuesday, January 7, 2025

ایصال ثواب ZarThoughts

🌸ایصالِ ثواب🌸 🌸رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب انسان فوت ہوجاتا ہےتو *تین* اعمال کے سوا اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔ ◀صدقہ جاریہ ◀وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے۔ ◀نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے 🌸صدقہ جاریہ🌸 صدقہ جاریہ سے مراد خیر و بھلائ کےان کاموں میں مال خرچ کرناہے جن سے لوگوں کو فائدہ پہنچے۔ جیسے 🌸مسجد 🌸اسکول 🌸مدرسہ 🌸مسافر خانہ 🌸ہسپتال کی تعمیر 🌸کوئ مفید دوا بنانا 🌸پانی پلانے کا انتظام 🌸کنواں کھوانا 🌸سایہ دار یا پھل دار درخت لگوانا وغیرہ 🌸مسجد تعمیر کرنا🌸 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”جس نے اللہ کے لیے قطات (پرندے) کے گھونسلے جتنی یا اس سے بھی چھوٹی مسجد بنائ تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر تیار کریں گے“ *سنن ابی ماجہ۔738* رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اللہ کے لیے کوئ مسجد بناۓ گا تو اللہ تعالی اس کے لیے اسی طرح کا ایک گھر جنت میں بنادے گا“ *صحیح مسلم۔1189* 🌸پانی کا انتظام کرنا🌸 رسول اللہﷺ نے فرمایا: “جس نے کوئ کنواں کھدوایا پھر جو بھی پیاسا جاندار اس میں سے پانی پیے گا خواہ وہ جن ہو۔انسان ہو یا کوئ پرندہ تو قیامت تک اللہ تعالی اس شخص کو اجر دیتا رہے گا“ *صحیح الترغیب و الترھیب۔271* کنواں کھدوانے کے علاوہ دیگر طریقوں کے ذریعے پانی کا انتظام کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ مثلا ہینڈ پمپ اور الیکٹرک کولر لگانا 🌸درخت لگانا🌸 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس مسلمان نے کوئ درخت لگایا تو جو اس درخت سے کچھ کھا گیا وہ اسکے لیے صدقہ ہے۔جو اس میں سے چوری ہوگیا وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔جو درندوں نے کھا لیا وہ بھی اسکے لیے صدقہ ہے اور جو بھی اس میں کمی کرے گا مگروہ بھی اسکے لیے صدقہ ہوگا“ *صحیح مسلم۔3968* 🌸مسافروں کی ضروریات کا خیال رکھنا🌸 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ مال سر سبز و شیریں ہے اور مسلمان بہترین ساتھی ہے جب کہ اس میں سے مسکین۔یتیم اور مسافر کو دیا جاۓ“ *صحیح البخاری۔1465* 🌸نفع بخش علم🌸 🌸قرآن و حدیث کی تعلیم دینا۔ 🌸امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا۔ 🌸دین کی نشر و اشاعت کے دیگر کام جیسے مستند دینی کتب لکھنا۔درس و تدریس پر مشتمل کیسٹس اور سی ڈیز کی تیاری۔ 🌸مفید سائنسی ایجاد وغیرہ🌸۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بے شک اللہ۔اس کے فرشتے۔آسمانوں اور زمیں کی ہر چیز یہاں تک کہ اپنے بلوں میں موجود چیونٹیاں اور مچھلیاں لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والے کے لیے دعا کرتی ہیں۔“ *سنن الترمزی۔2685* 🌸نیک اولاد اولاد کی صحیح تربیت والاقیامت تک اس کی کمائ وصول کرتا رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “بلاشبہ اللہ تعالی جنت میں نیک آدمی کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے: “اے میرے رب!یہ درجہ کیسے حاصل ہوا؟تو اللہ تعالی فرماتا ہے:تیری اولاد کی تیرے لیے دعاۓ مغفرت ہے“ *مسند احمد۔ج۔(10610-16)*

Monday, January 6, 2025

نفس انسانی کی تین حالتیں ZarThoughts

*🔮نفس انسانی کی تین حالتیں🔮* *1۔ نفس مطمئنہ۔* ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا نفس۔ (الفجر : 27) يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ *نفس مطمئنہ :* جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے *2۔ نفس لوّامہ* ۔ گناہ پر ملامت کرنے والا نفس۔ (القیامہ : 2) وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ *نفس لوامہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر ملامت کرتا ہے کہ یہ کام بہت برا تھا تم نے کیوں کیا؟ *3۔ نفس امّارہ۔* گناہ پر ابھارنے والا نفس۔ (یوسف : 53) وَمَا أُبَرِّىءُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّيَ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ *نفس امارہ :* ۔۔۔۔۔۔ جو انسان کو گناہوں پر آمادہ کرتا ہے ۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ نفس کی الگ الگ تین قسمیں نہیں بلک ایک ہی نفس کی مختلف کیفیات وصفات ہیں۔ چنانچہ نفس امارہ ہر نفس کی ذاتی صفت ہے جو شہوت وغضب کے وقت عقل وشرع کے حکم پر غلبہ کرتا ہے۔ لوامہ ہونا بھی ہر نفس کی صفت ہے جس وقت وہ عقل وشرع کی طرف توجہ کرتا ہے اور خیر وشر کے درمیان فرق و پہچان کرتا ہے۔ اور مطمئنہ بھی ہر نفس کی صفت ہے مگر یہ صفت اور کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب ذکر کا نور بدن کے تمام اجزاء پر غالب ہوجاتا ہے *نفس امارہ :* قرآن کریم میں نفس کا لفظ تین مختلف معنوں میں آیا ہے، ایک تو یہاں نفس امارہ کے معنوں میں یعنی وہ نفس جو برائی پر ابھارتا ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس کو حیوانیت کا نام دیتے ہیں کہ انسان کے اندر نفس امارہ ہے جو انسان کو جانوروں والی حیوانیت اور سفاکیت پر ابھارتا ہے۔

Sunday, January 5, 2025

ZarThoughts

`پرفتن دور میں مومن کیلئے پانچ ثابت قدمی کی راہیں` 1. تلاوت القرآن: {كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا} ترجمہ: "اسی طرح ہم نے اسے (قرآن کو) تیرے دل کو مضبوط کرنے کے لیے نازل کیا اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔" (سورۃ الفرقان: 32) 2. مطالعة سیرة النبویة: {وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَ ۚ} ترجمہ: "اور ہم سب رسولوں کے واقعات آپ کو سناتے ہیں تاکہ اس سے آپ کے دل کو مضبوط کریں۔" (سورۃ ہود: 120) 3. عمل بالعلم: {وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا} ترجمہ: "اگر وہ وہی کرتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ ثابت قدمی کا باعث ہوتا۔" (سورۃ النساء: 66) 4. دعاء بالثبات: {رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ} ترجمہ: "اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔" (سورۃ آل عمران: 8) 5. الصحبة الصالحة: {وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِٱلْغَدَاةِ وَٱلْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ} ترجمہ: "اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ صبر سے رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طلبگار ہیں۔" (سورۃ الکہف: 28)

*رب سے جڑنے کا سفر*

Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy

 Surah Al Fatiha Full with Tajweed & Translation | Live Quran Class | ZarThoughts Quran Academy 🎙️  لیکچر  نمبر  01 سورہ الفاتحہ  | آیت...